اب آپ آن لائن شکایت کر سکتے ہیں۔جس کے لیئے پنجاب حکومت کے مختلف محکوں نے اپنی ویب سائٹس متعارف کرا دی ہیں۔وفاقی اور صوبائی سطح پر بھی محتسب کے ادارے موجود ہیں جو وفاقی اور صوبائی سطح پر سرکاری محکموں کے خلاف ملنے والی شکایات کے ازالے کے لیئے کارروائی کرتے ہیں اس سے لوگوں کو بغیر کچھ خرچ کیے انصاف مل جاتا ہے۔داد رسی کے لیے یہاں کوئی وکیل نہیں کرنا پڑتا۔بس ایک سادہ کاغذ پر دی جانے والی درخواست پر کارروائی عمل میں آجاتی ہے۔مدتوں انتظار نہیں کرنا پڑتا۔ہفتے دو ہفتے میں ہی درخواست پرفیصلہ ہو جاتا ہے۔اس وقت لوگوں کو سب سے زیادہ شکایات جن محکموں سے ہیں ان میں پولیس،ایل ڈی اے محکمہ مال، ریونیو، کسٹم، انکم ٹیکس اور پٹوار خانے شامل ہیں۔لوگوں کے صبر اور برداشت کا لیول اس قدر متاثر ہو چکا ہے کہ اپنا جائز کام بھی نہ ہونے کی صورت میں کچھ بھی کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔جس سے معاشرے میں ذہنی تنا بڑھ رہا ہے اور ڈیپریشن میں اضافہ ہو رہا ہے۔یہ وہ علامتیں ہیں جو کسی بھی معاشرے کے لیئے ناسور کی حیثیت رکھتی ہیں۔وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے محکموں کیخلاف بڑھتی ہوئی شکایات کے پیش نظر ایوان وزیراعلی میں ایک شکایات سیل بھی قائم کر رکھا ہے۔جس کے نمبروں کی تشہیر اخبارات اور سوشل میڈیا پر کی گئی ہے تاکہ شنوائی نہ ہونے کی صورت میں لوگ یہاں اپنی شکایات درج کرا سکیں اور شکایات کے ازالے کا کوئی معقول بندوبست ہو سکے۔ایک رپورٹ کے مطابق وزیراعلی شکایات سیل میں موصول ہونے والی سب سے زیادہ شکایات اس وقت پولیس کے محکمہ سے متعلق ہیں۔ٹریفک پولیس بھی اس میں شامل ہے۔واضح رہے ٹریفک پولیس کا بنیادی کام ٹریفک کے نظام کو چلانا ہے۔جہاں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔وہاں جرم کے مطابق چالان کرنا بھی ٹریفک پولیس کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔پرویز الہی دور میں دہائیوں سے ڈیوٹی کرنے والے اہلکاروں کو جب پنجاب پولیس میں ضم کر دیا گیا تو ان کی جگہ ٹریفک وارڈنز کو متعارف کرایا گیا جن کی بھرتی کے لیئے گریجویشن کی شرط رکھی گئی۔عام خیال تھا کہ ٹریفک پولیس میں گریجویٹ نوجوانوں کی بھرتی سے شاید ان کے رویے میں کچھ تبدیلی آئے گی۔روایتی پولیس کے برعکس ان کا رویہ قدرے بہتر اور مہذبانہ ہو گا۔جبکہ آئے روز ٹریفک پولیس سے متعلق شکایات سے اندازہ ہوتا ہے کہ کچھ بھی نہیں بدلا۔سب کچھ وہی،ویسے کا ویسا ہے۔پرانی چال، ماضی کے وہی اطوار۔جو ان کا طرہ امتیاز ہوتے تھے۔گریجویٹ ہونا بھی بیکار گیا۔اخبارات اور سوشل میڈیا پر ایسی خبروں کا آنا اب آئے روز کا معمول بن گیا ہے کہ ٹریفک وارڈنز نے فلاں کے ساتھ بدکلامی کی۔ناجائز جرمانہ اور چالان کر دیا۔شہریوں کی یہ چیخ و پکار لاہور ہی نہیں،اب لاہور سے باہر بھی سنی جا رہی ہے۔اگرچہ بعض میڈیا رپورٹس پر افسران کی جانب سے فوری اور سخت نوٹس لیا جاتا ہے لیکن یہ کارروائی آٹے میں نمک کے برابر ہے۔دو روز پہلے میں نے ایک خبر پڑھی،متن تھا لاہور میں موٹر سائیکل سواروں کو دو ہزار روپے تک جرمانہ اور ان کا چالان کرنے پر ٹریفک وارڈن اور سٹی ٹریفک آفیسر (CTO) آمنے سامنے آ گئے۔خبر میں مزید بتایا گیا کہ سی ٹی اوکی طرف سے حکم جاری کیا گیا ہے کہ کسی موٹر سائیکل سوار نے چاہے ہیلمٹ ہی کیوں نہ پہنا ہو،تب بھی اس کا چالان کر دیا جائے۔سٹی ٹریفک آفیسر کی یہ ایسی پالیسی ہے جس کے خلاف کئی وارڈنز نے اعتراض کیا اور آواز اٹھائی کہ کسی خلاف ورزی کے بغیر چالان کرنا یا دو ہزار روپے کا جرمانہ صریحا غلط اور قانونا جرم ہے۔بتایا جاتا ہے سی ٹی او کی نافذ کردہ اس پالیسی پر عمل نہ کرنے والے وارڈنز کی جواب طلبی کی گئی ہے اور حکم عدولی پر 61 ٹریفک وارڈنز پر ایک لاکھ 22 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا جا چکا ہے۔محکمانہ کارروائی اس کے علاوہ ہے۔وارڈنز پر جرمانہ عائد ہونے کے بعد اس معاملے نے بہت ہی سنگین رخ اختیار کر لیا ہے۔ ایک ٹریفک وارڈن نے سی ٹی او لاہور کو اپنے وکیل کے ذریعے ایک لیگل نوٹس بھی بھیجا ہے کہ ان کے حکم پر جبری چالان ہو رہے ہیں جبکہ وارڈنز حکم کی پیروی میں غلط اور غیر قانونی کام کر رہے ہیں۔ ہمیں نہیں پتہ اس لیگل نوٹس کے بعد وارڈن کے ساتھ کیا ہو گا؟ سی ٹی او کیا ایکشن لیتے ہیں اور کیا کارروائی عمل میں آتی ہے۔
بہرحال اس لیگل نوٹس سے اس بات کی قلعی تو کھلتی ہے کہ عام شہریوں کو ٹریفک پولیس کے ہاتھوں کس ذلت کا سامنا ہے۔انہیں جو بھاری جرمانے عائد کیئے جا رہے ہیں اس میں کہیں نہ کہیں افسران کا بھی ہاتھ ہے۔تاہم یہ بھی واضح رہے کہ ڈی آئی جی ٹریفک پنجاب نے وارڈنز سے متعلق شکایات کے اندراج اور ازالے کے لیئے لاہور سمیت پنجاب کی تمام رینجز میں ڈی ایس پی رینک کے افسران کی سربراہی میں شکایات سیل قائم کر دئیے ہیں۔شکایات سیل میں زیادہ تر شکایات پولیس کے ناروا رویے اور ناجائز چالانوں اور جرمانوں کے حوالے سے درج کی جا رہی ہیں۔ٹرانسپورٹرز اور شہری اپنی شکایات درج کرانے کے لیئے آتے ہیں اور تواتر کے ساتھ ان کا اندراج ہو رہا ہے۔یاد رہے دنیا بھر کے ترقی یافتہ ممالک میں شہریوں کے حقوق کا مکمل احترام اور پاسداری کی جاتی ہے۔سرکاری محکموں کا عملہ اور افسران عوام کے لیئے خدام (Public Servant) کی حیثیت رکھتے ہیں۔عوام الناس کو مکمل طور پر جوابدہ ہیں۔تاہم حکومت کے بہتر طرز حکمرانی کے بلند بانگ دعوں کے باوجود بہت سے سرکاری محکموں میں کچھ نہ کچھ ضرور غلط ہو رہا ہے۔ شکایات میں پولیس کے محکمے کا پہلا نمبر ہے، ٹریفک پولیس پر بھی بہت سے سوالات اٹھتے ہیں۔گریجویٹ وارڈنز کے آنے کے باوجود ٹریفک پولیس کے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔مناسب اور ضروری ہو گا کہ ناجائز چالانوں اور جرمانوں سے شہریوں کو بچایا جائے۔افسران کی جانب سے وارڈنز کو جرمانوں اور چالانوں کا جو ہدف دیا گیا ہے،وارڈنز جائز و ناجائز طریقے سے اس کی تکمیل کرتے ہیں۔جس سے شہریوں کو شدید پریشانی اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔شدید ڈیپریشن سے ان کی ذہنی حالت بھی بہت خراب ہو جاتی ہے۔