Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

حرمین سے عالمِ اسلام تک، ایک دفاعی عہد

(گزشتہ سےپیوستہ)
اعلامیے کے مطابق موجودہ اورمستقبل کے خطرات و چیلنجزکے پیشِ نظریہ معاہدہ دفاعی تیاریوں، انضمام اورعملی ہم آہنگی کوفروغ دے گا۔اس کے نتیجے میں دونوں ممالک اپنی علاقائی سا لمیت اورسلامتی کولاحق کسی بھی خطرے کامشترکہ طورپرمقابلہ کرنے کے قابل ہوجائیں گے۔ یہ معاہدہ عملی طورپرنیٹوکے اجتماعی دفاعی تصورکی اسلامی تعبیرہے ۔فرق یہ ہے کہ نیٹومغربی سیاسی ومعاشی مفادات کامحافظ ہے اور یہاں اسلامی دفاعی اتحادامت کے وجود،خودمختاری اورمقدسات کاتحفظ کامحافظ ہوسکتاہے۔یہ وہ خلاہے جسے یہ معاہدہ پرکرنے کی بنیادرکھتاہے۔یہ پہلی بارایک مسلم،مرکوز دفاعی تصورپیش کرتاہے جوخودمختاری،مقدسات اور امت کے اجتماعی مفادپرمبنی ہے۔اس کے تحت کسی ایک ملک کی دفاعی طاقت دوسرے ملک کے تحفظ کے لئے بھی موجودہوگی یوں گویادونوں ممالک ایک دوسرے کی ڈھال بن گئے ہیں۔سکیورٹی،معیشت اور سفارت کاری کے باہمی ربط کومضبوط بنانے کے لئے مشترکہ دفاع، سرمایہ کاری کاتحفظ،توانائی راہداریوں کی سلامتی ،عالمی سفارت کاری کے باہمی انحصار کو بڑھاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نیٹوممالک میں جنگ کم اورمعیشت مضبوط رہی ۔ اس دفاعی معاہدہ کے پالیسی مضمرات کایہ بھی ایک نمایاں پہلوہے کہ مسلم ممالک کے لئے دفاعی خوداعتمادی کاماڈل بن سکتاہے،غزہ فلسطین اورکشمیرجیسے بحرانوں میں عملی ڈیٹرنس فراہم کرسکتاہے،عالمی طاقتوں کے ساتھ مذاکرات میں مسلم ریاستوں کاوزن بڑھاسکتاہے
یادرہے کہ الیمامہ پیلس میں ولی عہدمحمدبن سلمان نے وزیرِاعظم شہبازشریف کاپرتپاک استقبال کیا۔دونوں ممالک کے وفودکی موجودگی میں باضابطہ مذاکرات ہوئے،جن میں شاہ سلمان بن عبدالعزیزکے لئے نیک تمناؤں کااظہارکیاگیااورتاریخی واسٹریٹجک تعلقات کاجامع جائزہ لیاگیا۔ مشترکہ دلچسپی کے متعدد اہم امورپرتفصیلی گفتگو ہوئی۔الیمامہ پیلس میںہونے والے مذاکرات نے واضح کیاکہ دونوں ممالک کااعتماد شخصیات سے بڑھ کراداروں تک پہنچ چکاہے۔مشترکہ مفادات اب تحریری معاہدوں میں محفوظ ہورہے ہیں اور اب تحریری اورقانونی ضمانتوں میں ڈھل رہے ہیں۔یہ پالیسی تسلسل کی علامت ہے۔
تاہم یہ بات ذہن نشین رہے کہ دشمن قوتیں کبھی بھی مسلم ممالک کے دفاعی معاہدوں کوکامیاب ہوتاہوانہیں دیکھ سکتے اوراس ضمن میں یقینا مسلم ممالک کوبھی اہم چیلنجزاورخدشات کاسامنابھی ہے اورمسلم دنیاکو داخلی سیاسی اختلافات،عالمی طاقتوں کاممکنہ دبائو اور اتحاد کی ادارہ جاتی ہم آہنگی کے لئے ان چیلنجزسے نمٹنے کے لئے شفاف، قانونی اورتدریجی حکمت عملی بھی ناگزیرہے۔
اب ایران نے بھی اس دفاعی معاہدے میں شمولیت کی خواہش ظاہرکردی ہے۔ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکرمحمدباقرنے پاکستان کے دورے کے دوران کہاکہ اس معاہدے میں ایران کوبھی شامل کیاجانا چاہیے اور اوآئی سی کونیٹوکی طرزپراسلامی ممالک کی مشترکہ فوج تشکیل دینی چاہیے۔ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکرکی پیشکش اس امرکی عکاسی کرتی ہے کہ مسلم دنیامیں دفاعی خلا کا شعوربڑھ رہاہے اوراوآئی سی کو عسکری ستون کی ضرورت ہے۔ایران کی شمولیت اتحادکو پانچ اسلامک سیکورٹی بلاک میں بدل سکتی ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکرکی پیشکش اس حقیقت کااعتراف ہے کہ امت کوٹکڑوں میں بانٹ کر محفوظ نہیں رکھاجاسکتااورمشترکہ دفاع اب ناگزیر ہو چکاہے۔یہ تجویزاگر آگے بڑھی تواوآئی سی کوعسکری روح مل سکتی ہے۔پاک سعودی دفاعی معاہدہ اسلامی دنیاکے لئے ایک اسٹریٹجک مثال،اجتماعی سلامتی کی سمت پہلاعملی قدم،مستقبل کے مسلم دفاعی اتحادکی بنیاد ہے ۔اس کے لئے ضروری ہے کہ اتحادکوکثیرجہتی بنانے کے لئے مشترکہ عسکری مشقیں اورکمان اسٹرکچرتشکیل دیاجائے اوراو آئی سی کے تحت ایک دفاعی فریم ورک پر غور کیا جائے کیونکہ اجتماعی دفاع محض عسکری بندوبست نہیں بلکہ سیاسی خودمختاری،اخلاقی وقاراورعالمی توازن کا ضامن ہوتاہے۔ایرانی اسپیکر نے زوردیاکہ اسلامی ممالک، خصوصاًپاکستان،فلسطینیوں کے تحفظ اورامدادکے لئے اپنی افواج غزہ بھیجیں اورکوئی ایسااقدام نہ کیاجائے جو اسرائیلی تسلط کومزید تقویت دے۔غزہ اورکشمیرمیں جاری مظالم نے ثابت کیاکہ محض بیانات اورسفارتی مذمت ناکافی ہیں، اجتماعی دفاعی طاقت عسکری ڈیٹرنس ہی حقیقی ڈیٹرنس فراہم کرسکتی ہے جومظلوم کو بچاسکتی ہے۔یہ وہ مقام ہے جہاں اسلامی دفاعی اتحاد کی اخلاقی حیثیت پرکھی جائے گی اوریہ مسئلہ اسلامی دفاعی اتحادکی اخلاقی بنیادکومضبوط کرتاہے۔محمدباقرنے اس امرکااعتراف کیا کہ اسرائیلی جارحیت کے دوران پاکستان نے جس طرح ایران کاساتھ دیا،وہ ایرانی قوم کبھی فراموش نہیں کرے گی۔ان کے مطابق پاکستان امتِ مسلمہ کے لئے ایک قیمتی اثاثہ ہے۔پاکستان اورایران مشترکہ چیلنجزسے دوچارہیں جن کامقابلہ مل کرکیاجاسکتاہے جبکہ طب، توانائی اوربینکاری سمیت متعددشعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات موجودہیں۔
ایران کی جانب سے پاکستان کے کردارکا اعتراف اس بات کاثبوت ہے کہ اب پاکستان توازن، عقل اورمزاحمت کی علامت بن چکاہے۔پاکستان خطے میں ہی نہیں بلکہ عالمی طورپر بھی ایک مضبوط اورمتوازی طاقت کے طورپرتسلیم کیاجاچکاہے اور ایران اب خطے میں پاک سعودی دفاعی تعاون میں کثیر جہتی شراکت کا متمنی ہے۔
ایک اوراہم پیش رفت کے تحت ترکیے نے بھی پاک۔سعودی دفاعی اتحادمیں شمولیت کی خواہش ظاہر کر دی ہے۔عالمی خبررساں ادارے بلوم برگ کے مطابق، پاکستان،ترکیے اورسعودی عرب پرمشتمل دفاعی اتحاد مشرق وسطیٰ ہی نہیں بلکہ اس سے آگے تک طاقت کے توازن کو تبدیل کرسکتاہے۔ترکیہ جدیدعسکری ٹیکنالوجی، نیٹو تجربہ، جدیددفاعی صنعت، جغرافیائی رسائی واہمیت کے ساتھ اگر اس اتحادمیں شامل ہوتاہے تومشرق وسطیٰ،جنوبی ایشیاء اوربحیرہ روم میں طاقت کاتوازن یکسربدل سکتا ہے۔ ترکیے کی شمولیت طاقت کے توازن میں عالمی اسٹریٹجک وزن کے باعث تاریخی تبدیلی فراہم کرسکتی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ سیٹواورسینٹوامریکی دفاع کے لئے تشکیل دیئے گئے،یورپ نے نیٹوکے ذریعے خودکومحفوظ کیاتویہ سوال اب ناگزیرہوگیاہے کیا اسلامی دنیاکو اپنے دفاع کاحق حاصل نہیں؟کیا اسلامی دنیااپنے اجتماعی دفاع کی حقدارنہیں؟یہ معاہدہ اسی سوال کاعملی جواب ہے۔بلوم برگ کے مطابق،ترکیے کواس دفاعی اتحادمیں شامل کرنے کے لئے تینوں ممالک کے درمیان معاہدہ جلدطے پانے کاامکان ہے۔اگرایساہواتویہ اتحادمحض عسکری بلاک نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کی اجتماعی خودداری، خودانحصاری اوردفاعی وحدت کی علامت بن جائے گا۔اگر پاکستان، سعودی عرب،ترکیہ اورایران ادارہ جاتی دفاع،مشترکہ کمان،مشترکہ مشقیں قائم کرلیتے ہیں تویہ اتحادجنگ روکنے کاذریعہ،امن قائم رکھنے کی قوت،امت کے وقارکی ضمانت بن سکتاہے اوریہ اتحادمستقبل کی سمت اسلامی مشترکہ دفاعی ڈھانچہ کی صورت میں نہ صرف امت مسلمہ کے لئے بلکہ عالمی امن کے لئے بھی قابل قدرکرداراداکرنے کے قابل بنادے گا۔
یہ دفاعی اتحادمحض ریاستی مفادات کامعاہدہ نہیں بلکہ ایک تہذیبی اعلان ہے کہ امت جب بیدار ہوتی ہے توتاریخ کے رخ بدل دیتی ہے۔اگریہ اتحاد بصیرت، اعتدال اوراصولی سیاست کے ساتھ آگے بڑھا تو بعید نہیں کہ یہ اسلامی دنیاکے لئے ایک نئے مستحکم دورِاور خودمختاری کا پیش خیمہ ثابت ہو۔یادرکھیں قومیں ہتھیاروں سے نہیں،کرداراور اتحادسے زندہ رہتی ہیں۔
اسلامی دنیاکواب ردِعمل سے نکل کرپیش بندی مشترکہ دفاع،اسٹریٹجک اتحادکی طرف بڑھناہو گا۔یہ معاہدہ محض دوریاستوں کادفاعی بندوبست نہیں بلکہ اسلامی دنیاکے لئے اجتماعی سلامتی کی بنیاد اورمستقبل کے مسلم سیکیورٹی آرکیٹکچرکاآغازہے۔ یادرکھیں طاقت کا حقیقی سرچشمہ اسلحہ نہیں،بلکہ اتحاد،ادارہ سازی اور مشترکہ وژن ہے اوریہ معاہدہ آغاز ہے،انجام نہیں۔ قومیں جب اپنی حفاظت کافیصلہ خودکرتی ہیں،توتاریخ ان کے فیصلے کی حفاظت کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں