Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے

پچیس کروڑپاکستانی اس حوالے سے خوش قسمت واقع ہوئے ہیں کہ انہیں گاہے بگاہے بحث مباحثوں‘ تبصروں اور تجزیوں کے لئے کوئی نہ کوئی واقعہ مل ہی جاتا ہے یا فراہم کر دیا جاتا ہے ملک کے دیگر تمام مسائل ایک طرف اور بانی پاکستان تحریک انصاف سابق وزیراعظم کی اسیری جبکہ‘ اک سوہنڑیں اتوں ستی اٹھی‘ کے مترادف عمران خان سے ان کی بہنوں اور وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی ملاقات نہ ہونے کے بعد عمران خان کا پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز اسلام آباد میں ہونے والے غیر متوقع میڈیکل چیک اپ نے ملک بھر میں افواہوں اور سینہ گزٹ کہانیوں کا طوفان کھڑا کر دیا ہے ان کے کان اور آنتوں کی تکلیف کے بعد ان کی آنکھ میں ظاہر ہونے والی پراسرار بیماری سے کئی سوالات جنم لے رہے ہیں لیکن یہ وہ سوال ہیں جن کا کہیں سے درست جواب نہیں آرہا۔ حکومت اراکین قومی اسمبلی کے اثاثوں کی طر ح عمران خان کی صحت کے معاملات کو بھی خفیہ رکھنا چاہتی ہے۔
حیرت انگیز امر یہ ہے کہ کئی دن گزرنے کے باوجود بھی عمران خان کی پمز آمد کی کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی اور نہ کسی آنکھ نے انہیں کہیں آتے جاتے دیکھا۔ یا یہ کہ دیکھنے والوں نے مصلحتاً اپنی آنکھیں اور کان بند کر لیے تھے۔ اس سے قبل سابق وزرائے اعظم محترمہ بینظیر بھٹو کان کی تکلیف اور میاں نواز شریف اپنے پلیٹلٹس کے اتار چڑھائو کی وجہ سے علاج معالجے کے لئے بیرون ملک جاچکے ہیں۔ محترمہ بینظیر بھٹو جنرل ضیا الحق کے دور اقتدار میں دسمبر1984 ء میں پہلے سوئٹرز لینڈ اور بعد ازاں کان کی سرجری کے لئے لندن روانہ ہوگئی تھیں جبکہ2020 ء میں جب عمران خان برسر اقتدار تھے تو میاں نواز شریف کو علاج کی ہر ممکن سہولت فراہم کی گئی اور انہیں پورے پروٹوکول کے ساتھ سرکاری ہسپتال میں منتقل کیا گیا‘ یہی نہیں بلکہ ان کی صاحبزادی کو جیل سے پیرول پر رہا کرکے ان کی میاں نواز شریف سے ملاقات بھی کرائی گئی۔ دوسری جانب ڈاکٹر یاسمین راشد جو اس وقت وزیر صحت تھیں باقاعدگی سے میاں نواز شریف کی صحت کے حوالے سے میڈیا کو بریفنگ دیا کرتی تھیں اور یہ قصہ اس وقت تمام ہوا جب میاں نواز شریف پچاس روپے کے بیان حلفی پر بیرون ملک روانہ ہوگئے یہ الگ بات ہے کہ جہاز میں بیٹھتے ہی ان کی پلیٹلٹس نارمل ہوگئے۔ وہ کون سے عوامل تھے کہ جن کے باعث عمران خان کی صحت کی صورتحال کو خفیہ رکھا جارہا ہے۔ عمران خان پمز آئے بھی اور واپس بھی چلے گئے لیکن وزارت داخلہ اور وزارت صحت ان کی آمدورفت سے بے خبر رہی۔ کیا عمران خان کی خرابی صحت آٹھ فروری کی پہیہ جام ہڑتال کو کامیاب بنانے میں موثر ثابت ہوگی جبکہ احتجاجی تحریک کے روح رواں محمود خان اچکزئی مرکزی راہنمائوں کے ایک محدود سے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے یہ کہہ رہے ہیں کہ عمران خان کی صحت کے مسائل آٹھ فروری کے احتجاج کو ناکام بنانے کے لئے کھڑے کیے جارہے ہیں۔ ان کے اس موقف پر وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے الفاظ سے تو نہیں بلکہ چہرے کے تاثرا ت سے ناگواری کااظہار کیا ہے۔ آٹھ فروری میں صرف چند دن باقی ہیں لیکن تاحال اس ضمن میں قابل ذکر کارکردگی دیکھنے میں نہیں آرہی۔ جس کی واضح مثال جڑواں شہروں کے سابق اراکین اسمبلی اور قائدین کی پراسرار خاموشی اور منظر عام سے روپوشی ہے۔ اگر پاکستان تحریک انصاف کے قائدین کا یہ رویہ ہے تو کارکنوں کا کیا حال ہوگا۔
عمران خان کی پمز آمد کو خفیہ رکھ کر حکومت نے اسے پراسرار اور سنسنی خیز بنا دیا ہے۔ نہ ان کی بہنوں کو اس کی خبر ہوئی اور نہ ہی ان کے ذاتی معالجین کو اس کی بھنک پڑی۔ اگر تمام صورتحال سے حکومت کا کوئی نمائندہ میڈیا کو آگاہ کر دیتا تو یوں ایک طوفان برپا نہ ہوتا۔ کیا حکومت اس اقدام سے کوئی مخصوص مقاصد حاصل کرنا چاہتی تھی اور کیا وہ اس مقصد میں کامیابی ہوئی ہے یا ناکام۔ عمران خان کا بیس منٹ تک میڈیکل چیک اپ کیا گیا۔ یہ عذر بھی ناقابل قبول تصور کیا جارہاہے کیونکہ بیس منٹ تک تو نزلہ ‘زکام اور بخار میں مبتلا مریض کا چیک اپ نہیں کیا جاسکتا ۔ ڈاکٹر سب سے پہلے مریض کی ہسٹری لیتا ہے پھر اس کا چیک اپ کرتا ہے اور پھر ادویات‘ ہدایات اور پرہیز تجویز کرتا ہے اور اگر مریض کوئی اہم شخصیت بالخصوص سابق وزیراعظم اور بین الاقوامی شہرت کی حامل ہو تو اس کے چیک اپ کے لئے کافی وقت درکار ہوتا ہے۔ حکومت کو شائد یہ خدشہ تھا کہ اگر عمران خان کی بیماری کی خبر طشت از بام ہوگئی تو کہیں ان کی مقبولیت میں مزید اضافہ نہ ہو جائے۔ عمران خان کی مظلومیت اور مقبولیت میں تو اضافہ ہو رہا ہے لیکن ان کی ’’قبولیت‘‘ نہیں ہو رہی۔
تمام خدشات‘ وسوسوں اور قیاس آرائیوں کے باوجود کہیں کہیں سے یہ دھواں بھی اٹھ رہا ہے کہ اپوزیشن اور مقتدر حلقوں میں کہیں نہ کہیں نرم گوشہ پیدا ہو رہا ہے ۔ اگر یہ معجزہ رونما ہو جاتا ہے تو ملکی غیر یقینی صورتحال میں بہتری آسکتی ہے اور عوام بھی سکھ کا سانس لے گی۔ بدقسمتی سے یہ ’’گوشہ‘‘ گزشتہ چند برسوں میں اتنا سخت ہوگیا ہے کہ اسے نرم کرنے کے لئے کئی ٹوٹکے ‘ نسخے اور حربے آزمانے پڑیں گے۔ ایک ’’وکھرا‘‘ انکشاف کہ عمران خان کی جس بیماری کا چرچا کیا جارہا ہے اس کے علاج کے لئے مہینہ پمز میں کوئی سپیشلسٹ ڈاکٹر ہی موجود نہیں ہے۔ یہ کہنا بھی ایک معروف معالج کا ہے۔ اگر ایسا ہی ہے تو پھر عمران خان کو ’’پمز‘‘ کیوں لایا گیا تھا اور وہ بھی صرف بیس منٹ کے لئے۔

یہ بھی پڑھیں