Search
Close this search box.
اتوار ,07 جون ,2026ء

مریم نواز حکومت ، فلاحی حکمت عملی کی راہ پر،مگر!

پاکستانی سیاست میں یہ ایک دلچسپ موڑ ہے کہ روایتی مردانہ سیاسی فضا میں ایک خاتون رہنما عملی حکمرانی کے میدان میں اتر کر اپنی شناخت قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے بارے میں رائے منقسم ضرور ہے، مگر اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کی حکمرانی نے سیاسی مباحث کو ایک نئے زاویوں سے آشنا کیا ہے۔ان کے وژن اور فلاحی سرگرمیوں کے حوالے سے حوصلہ افزا اور تابناک پہلو یہ ہے کہ یہ مریم نواز نے اقتدار سنبھالتے ہی تیز رفتار انتظامی طرز حکمرانی اختیار کیا۔ ان کی حکومت کی ایک نمایاں خصوصیت “پروجیکٹ سنٹرک گورننس” ہے، یعنی فوری نظر آنے والے اقدامات۔سڑکوں کی مرمت، صفائی مہمات، فری ادویات، اور خواتین و نوجوانوں کے لیے مخصوص اسکیموں کا اجرا ،یہ سب اقدامات عوامی نفسیات پر فوری اثر ڈالنے والے ہیں۔سیاسی نفسیات کے ماہرین کہتے ہیں کہ عوام فوری نتائج دیکھنا چاہتے ہیں، چاہے وہ دیرپا نہ بھی ہوں۔ اس حوالے سے مریم نواز کی ٹیم نے بیانیاتی سیاست کو انتظامی عمل کے ساتھ کمال محنت سے جوڑنے کی کوشش کی ہے۔ ان کی عوامی موجودگی، فیلڈ وزٹس اور براہِ راست نگرانی کا تاثر اس بیانیے کو تقویت دیتا ہے کہ وہ ہینڈز آن” لیڈر ہیں۔ایک خاتون وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے مریم نواز کی موجودگی نے پاکستانی معاشرے میں ایک علامتی اثر بھی پیدا کیا ہے۔ جنوبی ایشیائی معاشروں میں خواتین قیادت اکثر جذباتی وابستگی کا تاثر پیدا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تقریروں میں “درد دل” اور “خدمت” جیسے الفاظ زیادہ نمایاں ہوتے ہیں۔
یہ بیانیہ محض سیاسی نہیں بلکہ ثقافتی بھی ہے یعنی سیاست کو ماں، بیٹی یا بہن کے استعاروں سے نرم کرنے کی سعی جس میں خلوص و نیاز مندی کا احساس پایا جاتا ہے ۔ انتظامی چیلنجز کے حوالے سے یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا نیک نیتی کافی ہے؟ پاکستانی ریاستی ڈھانچہ ایک پیچیدہ جال ہے جس میں بیوروکریسی، ٹھیکیداری نظام، اور مفاداتی گروہ شامل ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور ترقیاتی منصوبوں میں کمیشن کلچر کوئی نیا مسئلہ نہیں۔ یہ کئی دہائیوں پر محیط ایک نظامی خرابی ہے جسے ایک فرد یا حکومت فوری ختم نہیں کر سکتی۔تاہم مسئلہ صرف مافیا کا وجود نہیں بلکہ اس کے خلاف سنجیدہ ادارہ جاتی اصلاحات کا فقدان ہے۔ اگر کمیشن کلچر واقعی چیلنج ہے تو پھر شفاف ٹینڈرنگ، ڈیجیٹل مانیٹرنگ، اور آزاد احتسابی ڈھانچے ناگزیر ہیں۔حالیہ دنوں میں حقیقت کہاں کھڑی ہے؟ اس معاملے میں مبالغہ اور سچ ساتھ ساتھ محو سفر ہے۔ پاکستانی سیاست میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ مخالفین ہر کامیابی کو کرپشن اور حامی ہر ناکامی کو سازش قرار دیتے ہیں۔سچ ان دونوں کے بیچ کہیں ہوتا ہے۔مریم نواز حکومت کے ناقدین کہتے ہیں کہ بہت سے منصوبے نمائشی ہیں ، یعنی دیرپا پالیسی اصلاحات کے بجائے فوری تشہیر پر مبنی۔جبکہ حامیوں کا استدلال ہے کہ کم از کم “کام ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے”، جو پچھلے ادوار میں نہیں دکھائی بھی نہیں دیتا تھا۔یہاں ایک اہم سوال ابھرتا ہے ،کیا ترقی کی تعریف صرف نظر آنے والے منصوبے ہیں یا ادارہ جاتی استحکام ؟
یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ مریم نواز کی سیاست کا ایک اہم ستون امیج مینجمنٹ ہے۔ جدید میڈیا دور میں حکمرانی صرف پالیسی نہیں بلکہ تاثر کا دھندا بھی ہے۔سوشل میڈیا، ڈرون ویڈیوز، اور برانڈڈ سرکاری مہمات یہ سب ایک مضبوط سیاسی بیانیہ تراشنے کے آلات ہیں،لیکن اس کا منفی پہلو بھی ہے۔ جب حکومت کا زیادہ زور تشہیر پر ہو تو عوام کے ذہن میں یہ سوال جنم لیتا ہے کہ کہیں کارکردگی سے زیادہ کیمرہ اہم تو نہیں ہو گیا؟ لیکن ہر حکومت کی اصل جانچ ادارہ جاتی اصلاحات سے ہوتی ہے۔کیا پولیس سیاسی دباؤ سے آزاد ہو رہی ہے؟کیا بلدیاتی نظام مضبوط ہو رہا ہے؟کیا صحت اور تعلیم میں ساختی تبدیلیاں آ رہی ہیں؟ابھی تک مریم نواز حکومت ان سوالات کے واضح اور دیرپا جواب دینے میں ابتدائی مرحلے میں نظر آتی ہے۔ فلاحی منصوبے فوری ریلیف تو دے سکتے ہیں، مگر نظامی تبدیلی کے لیے تسلسل اور سیاسی جرات درکار ہوتی ہے۔
مریم نواز کی سیاست کو ان کے خاندانی پس منظر سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ شریف خاندان کی سیاست ترقیاتی ماڈل سے جڑی رہی ہے ، میگا پروجیکٹس، انفراسٹرکچر، اور تیز رفتار فیصلے۔اسی روایت کو مریم نواز ایک نئے انداز میں آگے بڑھانے کی سعی ء پیہم میں لگی ہوئی ہیں، مگر نئی نسل کی سیاست زیادہ شفافیت اور شرکت چاہتی ہے۔یہی تضاد ان کے لیے سب سے بڑا امتحان ہے ۔روایتی ترقیاتی سیاست اور جدید جمہوری روایت ترقی کے دو جدا جدا سنگ میل ہیں جو عوامی توقعات کا اصل محور و مرکز ہیں ۔ہر نئی حکومت کو ایک ہنی مون پیریڈ” ملتا ہے، جس میں عوام کی امید کے راستےمتعین یا طے کئے جاتے ہیں۔مریم نواز اس مرحلے سے گزر رہی ہیں۔ اگر ابتدائی توانائی کو پالیسی تسلسل میں بدل دیا گیا تو وہ ایک مضبوط سیاسی شناخت بنا سکتی ہیں۔لیکن اگر رفتار صرف نمائشی رہی تو یہی توقعات بعد میں مایوسی میں بدل سکتی ہیں۔
ترقیاتی منصوبہ جات اور احتساب دونوں ساتھ چلنے چاہئیں۔یہ کہنا کہ مریم نواز مکمل ناکام ہیں، حقیقت سے انکار ہوگااور یہ کہنا کہ وہ بے مثال کامیاب ہیں، یہ بھی مبالغہ ہوگا۔وہ ایک متحرک، محنتی اور بیانیہ ساز رہنما کے طور پر اپنی شناخت بنا رہی ہیں، وہ عوامی رابطے کی سیاست کوسمجھتی ہیں۔ مگر ان کی اصل آزمائش ابھی باقی ہے یعنی نظامی اصلاحات، شفافیت، اور دیرپا پالیسی سازی کے نئے افق۔اگر وہ کمیشن کلچر جیسے مسائل کو واقعی چیلنج کرنا چاہتی ہیں تو انہیں شخصی حکمرانی سے آگے بڑھ کر ادارہ جاتی انقلاب کی طرف جانا ہوگا۔ کیونکہ حکمرانی میں افراد نہیں، نظام بدلنے سے تاریخ بنتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں