دنیا کی سیاست کبھی کبھی ایسے موڑ پر آ کھڑی ہوتی ہے جہاں ایک چنگاری پورے افق کو خاکستر بنا سکتی ہے۔ اس وقت عالمی منظرنامہ ایک بار پھر اسی دہانے پر محسوس ہوتا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ کی ایران کے خلاف جارحانہ پالیسیوں کی بازگشت دوبارہ سنائی دے رہی ہے، اور مشرقِ وسطیٰ کے آسمان پر جنگ کے بادل منڈلانے لگے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ جنگ ہوگی یا نہیں، سوال یہ ہے کہ اگر ہوئی تو اس کے شعلے کہاں تک جائیں گے اور اس آگ کو بجھانے کی ذمہ داری کس کے کندھوں پر عائد ہوتی ہے؟امریکہ اور ایران کے تعلقات کبھی بھی سادہ نہیں رہے۔ یہ ایک ایسی داستان ہے جس میں انقلاب، پابندیاں، خفیہ آپریشن، پراکسی جنگیں اور نظریاتی مناقشے تہہ در تہہ ہیں۔ مگر ٹرمپ کا انداز ہمیشہ روایتی امریکی صدور سے مختلف رہا۔ ان کی سیاست میں سفارت کاری کم اور دبا زیادہ ہوتا ہے۔ وہ معاہدوں کو توڑنے میں جھجھک محسوس نہیں کرتے اور طاقت کے اظہار کو مذاکرات پر فوقیت دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے دور میں ایران کے ساتھ کشیدگی نے ہر بار نئی شدت اختیار کی ۔اگر ٹرمپ دوبارہ اسی راستے پر چلتے ہیں تو اس کے اثرات صرف دو ملکوں تک محدود نہیں رہیں گے۔ مشرقِ وسطی ایک ایسا خطہ ہے جہاں ایک تنازعہ کئی تنازعات کو اپنے پہلو میں لئے ہوئے ہے۔ یہاں ہر جنگ کی گونج سرحدوں سے نکل کر تہذیبوں تک پہنچ جاتی ہے۔ ایران صرف ایک ریاست نہیں، ایک اثر و رسوخ ہے ،لبنان سے یمن تک، شام سے عراق تک۔ ایسے میں اگر براہِ راست تصادم ہوا تو پورا خطہ لرز اٹھے گا۔یہاں ایک اہم سوال پاکستان کے حوالے سے بھی اٹھتا ہے۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس کے ایران سے مذہبی، جغرافیائی اور معاشی روابط ہیں، جبکہ امریکہ سے اس کے تعلقات کی اپنی تاریخ ہے۔ یہی وہ توازن ہے جو پاکستان کو ایک ممکنہ ثالث بناتا ہے۔
ماضی میں بھی پاکستان نے کئی مواقع پر خاموش سفارت کاری کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس بار بھی پاکستان یہ کردار ادا کر سکتا ہے؟پاکستان کے لیے یہ محض سفارتی موقع نہیں، ایک امتحان بھی ہے۔ ایک طرف اس کی مغربی سرحد ایران سے ملتی ہے، دوسری طرف خلیجی ممالک سے اس کے معاشی مفادات جڑے ہیں۔ لاکھوں پاکستانی محنت کش خلیج میں روزگار سے وابستہ ہیں۔ اگر خطے میں جنگ چھڑتی ہے تو اس کا پہلا معاشی جھٹکا پاکستان کو ہی لگے گا۔ تیل کی قیمتیں بڑھیں گی، ترسیلات متاثر ہوں گی، اور اندرونی استحکام بھی تہہ و بالا ہوگا۔پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ توازن کی رسی پر چلتی رہی ہے۔ اس نے ایران سے تعلقات بھی نبھائے اور سعودی عریبیہ سے رشتہ بھی برقرار رکھا۔ یہی وہ مہارت ہے جو اسے ممکنہ ثالث بناتی ہے۔ مگر ثالثی صرف خواہش سے نہیں ہوتی، اس کے لیے اعتماد درکار ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا عالمی طاقتیں پاکستان کو اس کردار میں قبول کریں گی؟یہاں بڑی طاقتوں کا کردار بھی اہم ہو جاتا ہے۔ چائنا مشرقِ وسطیٰ میں اپنے اثر و رسوخ کو بڑھا رہا ہے۔ اس نے حالیہ برسوں میں سعودی عرب اور ایران کے درمیان مفاہمت میں کردار ادا کر کے یہ پیغام دیا کہ وہ صرف معاشی نہیں، سفارتی طاقت بھی بننا چاہتا ہے۔ اسی طرح رشیا بھی خطے میں اپنی موجودگی برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ اگر امریکہ ایران پر دبا بڑھاتا ہے تو یہ دونوں طاقتیں توازن قائم کرنے کی کوشش کریں گی۔ایک اور عنصر جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، وہ اسرائیل ہے۔ ایران اور اسرائیل کی دشمنی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اگر امریکہ ایران کے خلاف کھل کر سامنے آتا ہے تو اسرائیل کی پوزیشن مزید مضبوط ہوگی۔ مگر یہی چیز تنازعے کو اور پیچیدہ بھی بنا سکتی ہے۔ کیونکہ پھر یہ صرف دو ملکوں کا نہیں، ایک وسیع تر محاذ آرائی کا منظر بن جائے گا۔اگر جنگ چھڑتی ہے تو سب سے خطرناک پہلو توانائی کی سیاست ہوگا۔ آبنائے ہرمز دنیا کی تیل سپلائی کی شہ رگ ہے۔ اگر یہاں کشیدگی بڑھتی ہے تو عالمی معیشت ہل کر رہ جائے گی۔ تیل مہنگا ہوگا، مہنگائی بڑھے گی، اور ترقی پذیر ممالک سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔
پاکستان جیسے ممالک کے لئے یہ معاشی طوفان سے کم نہیں ہوگا۔اب سوال یہ ہے کہ مستقبل کا منظرنامہ کیا ہو سکتا ہے؟ اس کے تین ممکنہ رخ نظر آتے ہیں۔پہلا منظرنامہ محدود تصادم کا ہے۔ امریکہ دبا بڑھائے، ایران جوابی کارروائیاں کرے، مگر دونوں براہِ راست جنگ سے بچنے کی کوشش کریں۔ یہ وہ راستہ ہے جو اکثر بڑی طاقتیں اختیار کرتی ہیں تنا برقرار، مگر مکمل جنگ سے گریز۔ اس صورت میں کشیدگی طویل ہو سکتی ہے، مگر تباہی محدود رہے گی۔دوسرا منظرنامہ پراکسی جنگوں کا ہے۔ ایران اپنی روایتی حکمت عملی کے تحت براہِ راست جنگ کے بجائے خطے میں اپنے اتحادیوں کے ذریعے جواب دے۔ لبنان، شام، عراق اور یمن ایک بار پھر عالمی سیاست کے شطرنج کے متحرک مہرے بن جائیں گے یہ صورت حال زیادہ خطرناک ہوگی کیونکہ اس میں جنگ غیر مرئی ہوتی ہے مگر اثرات دیرپا ہوتے ہیں۔ تیسرا اور سب سے خطرناک منظرنامہ براہِ راست جنگ کا ہے۔ اگر امریکہ اور ایران آمنے سامنے آ گئے تو یہ صرف ایک جنگ نہیں ہوگی، ایک زلزلہ ہوگا۔ اس کے جھٹکے عالمی سیاست، معیشت اور سلامتی کے ڈھانچوں کو ہلا دیں گے۔ یہی وہ منظر ہے جس سے دنیا خوفزدہ ہے۔ایسے میں پاکستان کا کردار صرف ایک ریاست کا نہیں، ایک ذمہ داری کا ہے۔
پاکستان ایٹمی طاقت بھی ہے، مسلم دنیا کا اہم ملک بھی، اور ایک ایسی تہذیبی ریاست بھی جس کی شناخت توازن میں ہے۔ اگر وہ دانشمندی سے قدم اٹھائے تو وہ پل بن سکتا ہے، ورنہ طوفان میں بہنے والوں میں شامل ہو سکتا ہے۔مگر حقیقت یہ ہے کہ ثالثی صرف بیانات سے نہیں ہوتی۔ اس کے لئے خاموش سفارت کاری، اعتماد سازی اور غیر جانبداری درکار ہوتی ہے۔ پاکستان کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ وہ کسی بلاک کا حصہ نہ بنے بلکہ امن کے بیانیے کا نمائندہ بنے۔ کیونکہ آج کی دنیا میں طاقت صرف ہتھیاروں سے نہیں، حکمت سے بھی لڑی جاتی ہے۔یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ جنگیں صرف میدان میں نہیں ہوتیں، معاشروں میں بھی ہوتی ہیں۔ ایک بڑی جنگ عالمی نفسیات کو بدل دیتی ہے۔ نفرت بڑھتی ہے، تقسیم گہری ہوتی ہے، اور مکالمہ کمزور پڑ جاتا ہے۔ ایسے میں اگر کوئی ملک امن کی بات کرے تو وہ صرف سفارت کاری نہیں، انسانیت کی خدمت کرتا ہے۔آج دنیا کو جنگی نعروں سے زیادہ امن کی آوازوں کی ضرورت ہے۔ ٹرمپ کی جارحانہ سیاست اگر دوبارہ ابھرتی ہے تو دنیا کو توازن قائم کرنا ہوگا۔ اور اس توازن میں پاکستان جیسے ممالک کا کردار اہم ہو جاتا ہے۔ کیونکہ بڑی طاقتیں اکثر جنگیں لڑتی ہیں، مگر امن چھوٹے اور درمیانے ممالک ہی لاتے ہیں۔آخر میں سوال یہی رہ جاتا ہے: کیا دنیا ایک اور بڑی جنگ کی متحمل ہو سکتی ہے؟ شاید نہیں۔ کیا امریکہ اور ایران مکمل تصادم چاہتے ہیں؟ شاید نہیں۔ مگر تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ جنگیں اکثر وہی ہوتی ہیں جو کوئی نہیں چاہتا۔ایسے میں پاکستان کے لئے راستہ واضح ہے۔ اسے جذبات سے نہیں، حکمت سے چلنا ہوگا۔ اسے بیانات سے نہیں، کردار سے بولنا ہوگا۔ کیونکہ جب تاریخ لکھی جائے گی تو یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ کس نے کس کا ساتھ دیا، بلکہ یہ دیکھا جائے گا کہ کس نے آگ بجھانے کی کوشش کی۔اور شاید یہی وہ لمحہ ہے جہاں پاکستان کو خود سے پوچھنا ہوگا: کیا ہم تماشائی بنیں گے یا ثالث؟ کیونکہ کبھی کبھی قوموں کی عظمت جنگ جیتنے میں نہیں، جنگ روکنے میں ہوتی ہے۔