سیاست کے موسم کبھی یکساں نہیں رہتے۔ کبھی لفظ نرم پڑ جاتے ہیں، کبھی لہجے میں خنکی آ جاتی ہے اور کبھی ایک جملہ پورے منظرنامے کو بے نقاب کر دیتا ہے۔ حالیہ دنوں میں صدرِ مملکت آصف علی زرداری کے بیانات میں جو تبدیلی محسوس ہو رہی ہے، وہ محض لسانی نہیں، سیاسی بھی ہے۔ خصوصاً یہ جملہ کہ عدم اعتماد فقط میں لا سکتا ہوں محض ایک دعویٰ نہیں بلکہ ایک اشارہ ہے اور سیاست میں اشارے اکثر الفاظ سے زیادہ اثر رکھتے ہیں۔یہ سوال فطری ہے کہ یہ لہجہ کیوں بدلا؟اور اس کے پیچھے پنجاب کی سیاست کیوں بار بار زیرِ بحث آ رہی ہے؟صدر زرداری کی سیاست ہمیشہ براہِ راست تصادم کے بجائے اشاروں ، کنایوں کی سیاست رہی ہے۔ وہ شور سے زیادہ خاموشی پر یقین رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب وہ سخت جملہ بولتے ہیں تو سمجھ لینا چاہیے کہ پس منظر میں کچھ سنجیدہ ہلچل ضرور ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ عدم اعتماد لانا میرے ہاتھ میں ہے دراصل عددی طاقت سے زیادہ سیاسی بیانیے کا اعلان ہے۔یہ وہ زبان ہے جو کھلے جلسوں کے لئے نہیں، بند کمروں کے لئے ہوتی ہے۔پاکستان کی سیاست میں پنجاب ہمیشہ فیصلہ کن رہا ہے۔ جس کے پاس پنجاب کا بیانیہ ہو، اس کے پاس اقتدار کا امکان ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی کی سب سے بڑی حسرت بھی پنجاب ہی رہی ہے۔یہ وہ زخم ہے جو بار بار ہرا ہوتا ہے۔پیپلز پارٹی نے سندھ میں اپنی گرفت مضبوط رکھی، وفاق میں اتحادی سیاست کی، مگر پنجاب ہمیشہ اس کے لئے ایک ادھورا خواب رہا۔ یہی ادھورا پن آج بھی پارٹی کی نفسیات میں موجود ہے اور جب صدر زرداری کے جملوں میں سختی آتی ہے تو اس کے پیچھے اکثر یہی نفسیاتی محرک ہوتا ہے۔
عدم اعتماد لانا میرے ہاتھ میں ہے کو اگر سطحی انداز میں لیا جائے تو یہ محض اتحادی سیاست کا جملہ لگتا ہے۔ مگر سیاست کی زبان میں اعتماد کا مطلب صرف ووٹ نہیں ہوتا، اثر بھی ہوتا ہے۔یہ جملہ دراصل تین سطحوں پر سمجھنے کی ضرورت ہے،پارلیمانی سطح ، حکومت کی بقا میں کردار اوراتحادی سطح، یعنی فیصلہ کن موڑ پر پلڑا جھکانے کی صلاحیت۔گویا یہ جملہ ایک طرح کا reminder ہے کہ اقتدار صرف وزارتوں سے نہیں، توازن سے چلتا ہے۔پنجاب کی پریشانی اصل سبب کیا ہے؟سوال یہ ہے کہ پنجاب کے حوالے سے پریشانی کیوں لاحق ہے؟اس کے چند ممکنہ اسباب ہیں۔
سیاسی خلاء کا احساس پیپلز پارٹی کو یہ احساس شدت سے ہے کہ پنجاب میں اس کی موجودگی علامتی ہے، موثر نہیں۔ جلسے ہوتے ہیں، بیانیے بنتے ہیں، مگر ووٹ بینک نہیں بنتا۔ یہ خلا ہر انتخاب سے پہلے اور زیادہ نمایاں ہو جاتا ہے۔
اتحادی سیاست کا دبائو مرکز میں اتحادی حکومتوں کا حصہ بننے کے باوجود پنجاب میں محدود کردار ایک داخلی بے چینی پیدا کرتا ہے۔ کیونکہ اقتدار کا اصل وزن وہیں ہے جہاں ووٹ زیادہ ہیں۔
نئی سیاسی صف بندیاںپنجاب کی سیاست تیزی سے بدل رہی ہے۔ نئے بیانیے، نئی قیادتیں اور بدلتا ہوا ووٹر یہ سب مل کر پرانے سیاسی حساب کتاب کو غیر موثر بنا رہے ہیں۔ ایسے میں ہر جماعت کو اپنی جگہ سکڑتی محسوس ہوتی ہے۔سیاست کی اصل کہانیاں ہمیشہ بند کمروں میں لکھی جاتی ہیں۔ باہر آنے والے بیانات صرف سایے ہوتے ہیں۔ اگر زرداری کے حالیہ لہجے کو دیکھا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ اندرونِ خانہ چند اہم معاملات زیرِ گردش ہو سکتے ہیں۔اتحادی حدود کا تعین کچھ پیچیدگیوں کا شکار ہے ۔اسی طرح آئندہ انتخابات کی حکمت عملی میں دشواریاں پیدا ہو نے کے امکانات کی صورتحال اورطاقت کے توازن پر مذاکرات،اورپنجاب میں نئی سیاسی انجینئرنگ کے خدشات یہ وہ معاملات ہیں جو بظاہر نظر نہیں آتے مگر سیاست کی سمت طے کرتے ہیں۔ہر سیاسی جماعت کی کچھ حسرتیں ہوتی ہیں جو اس کی نفسیات کا حصہ بن جاتی ہیں۔ پیپلز پارٹی کے لئے یہ حسرتیں واضح ہیں۔بھٹو کی جماعت کا دوبارہ وفاقی غلبہ ،پنجاب میں حقیقی واپسی،ماضی کے مینڈیٹ کی بحالی ،یہ حسرتیں صرف سیاسی نہیں، جذباتی بھی ہیں اور جب جذبات سیاست میں داخل ہوں تو لہجے بدل جاتے ہیں۔ شائد یہی وجہ ہے کہ صدر زرداری کے الفاظ میں کبھی شکوہ، کبھی اشارہ، اور کبھی دبا محسوس ہوتا ہے۔یہ سوال بھی اہم ہے کہ یہ پیغام کس کے لئے ہے؟عوام کے لئے؟ اتحادیوں کے لئے؟ یا مقتدر حلقوں کے لیے؟حقیقت یہ ہے کہ ایسے جملے ایک تیر سے کئی شکار کرنے کا سامان اپنے اندر لئے ہوتے ہیں۔یہ عوام کو متحرک کرتے ہیں، اتحادیوں کو محتاط کرتے ہیں، اور طاقت کے مراکز کو متوجہ کرتے ہیں۔یہی زرداری سیاست کا خاصہ ہے کم الفاظ، زیادہ معنی۔
ہم اکثر سیاست کو صرف طاقت کی جنگ سمجھتے ہیں، مگر یہ نفسیات کی جنگ بھی ہوتی ہے۔جس جماعت کی تاریخ جتنی بڑی ہو، اس کی محرومیاں بھی اتنی ہی گہری ہوتی ہیں۔پیپلز پارٹی کی تاریخ قربانیوں سے بھری ہے، مگر اس کی حالیہ سیاست سمجھوتوں سے عبارت ہے۔ یہی تضاد اس کی قیادت کے لہجوں میں جھلکتا ہے۔ ایک طرف ماضی کی عظمت کا بوجھ، دوسری طرف حال کی مجبوریوں کا احساس ، یہی وہ کشمکش ہے جو بیانات میں دراڑ ڈالتی ہے۔سیاست میں کوئی جملہ بے وقت نہیں ہوتا۔ اگر صدر زرداری کا لہجہ بدلا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ آنے والے دنوں میں کچھ نہ کچھ ضرور بدلے گا چاہے وہ بیانیہ ہو، اتحاد ہو، یا حکمت عملی۔ممکن ہے یہ صرف دبائو بڑھانے کی حکمت عملی ہو،ممکن ہے نئی صف بندی کا پیش خیمہ ہو،اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ محض یاد دہانی ہو کہ سیاست میں خاموش کھلاڑی کبھی غیر متعلق نہیں ہوتے۔صدر زرداری کے حالیہ بیانات کو اگر ایک جملے میں سمیٹا جائے تو یوں کہا جا سکتا ہے کہ یہ سیاست کی سطح پر نہیں، توازن کی سطح پر دئیے گئے اشارے ہیں۔ ان میں نہ مکمل بغاوت ہے، نہ مکمل اطاعت بلکہ ایک محتاط بے چینی ہے۔پنجاب کی سیاست آج بھی اقتدار کی کنجی ہے اور جس کے ہاتھ میں کنجی نہ ہو وہ دروازے کے سامنے بے چین ضرور کھڑا رہتا ہے۔ شاید یہی بے چینی الفاظ میں ڈھل کر ہمارے سامنے آ رہی ہے۔سیاست میں حسرتیں کبھی مرتی نہیں، صرف شکل بدلتی ہیں اور بعض اوقات ایک نرم سا جملہ بھی بتا دیتا ہے کہ کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی صرف باب بدل رہا ہے۔