وسعت اللہ خان کے ایک شعلہ بار کالم ’’میں شیعوں کا کیا کروں ؟‘‘کے جواب میں ۔
لفظ کبھی کبھی تلوار سے زیادہ خطرناک ہو جاتے ہیں۔ وہ چرکہ جو ایک خنجر سے نہیں لگایا جا سکتا ، ایک جملہ اس سے کاری ضرب لگا جاتا ہے اور جب قلم کسی صاحبِ اثر کے ہاتھ میں ہو تو اس کی ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ حالیہ دنوں میں بی بی سی کے معروف کالم نگار وسعت اللہ خان کا ایک کالم گردش میں ہے (میں ان شیعوں کا کیا کروں ؟) ایک ایسا متن جو بظاہر فرقہ واریت کے خلاف ہے مگر اپنے باطن میں ایک نئے طرز کی عصبیت کو لئے ہوئے ہے۔یہ کالم ایک سوالیہ اسلوب میں لکھا گیا۔ سوالات کی ایک لڑی، تاریخ کی ایک گرہ، اور ناموں کی ایک فہرست۔ مقصد شاید یہ تھا کہ یہ بتایا جائے کہ اہلِ تشیع کو تاریخ سے کاٹنا ممکن نہیں۔ بات درست ہے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ جب دلیل کا پیرہن لہو میں رنگے دھاگے سے سیا جائے تو وہ دلیل کم اور تمسخر زیادہ لگنے لگتی ہے۔فرقہ واریت ایک زہر ہے۔ یہ زہر صرف بندوق سے نہیں پھیلتا، بیانیے سے بھی پھیلتا ہے۔ جب ہم کسی فرقے کے دفاع میں دوسرے فرقے پر طعن و تشنیع کے تیر برسانا شروع کر دیں تو ہم لاشعوری طور پر اسی کھیل کا حصہ بن جاتے ہیں جس کے خلاف کھڑے ہونے کا دعوی کرتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں یہ کالم بغض کے زہر میں بجھے تیر ذہنوں میں پیوست کرتا ہے۔
اسلامی تاریخ کسی ایک مسلک کی جاگیر نہیں۔ یہ ایک وسیع دریا ہے جس میں مختلف دھارے شامل ہیں۔ اس دریا میں سنی بھی ہیں، شیعہ بھی، صوفی بھی، فلسفی بھی، شاعر بھی، سپاہی بھی۔ اگر کوئی اس دریا کو بانٹنے کی کوشش کرے تو وہ مجرم ہے اور اگر کوئی اسے بانٹنے کے ردعمل میں نفرت کا ایک نیادر وا کرے تو وہ بھی بری الذمہ نہیں ٹھہرتا۔کالم کا بنیادی مسئلہ اس کا لہجہ ہے۔ لہجہ جو دروغ مصلحت آمیز کی صورت بھی ہو تو سچ کو متنازع بنا دیتا ہے۔ جب آپ تاریخ کے ناموں کو اس انداز میں پیش کریں کہ ایک طرف مظلومیت کا بیانیہ اور دوسری طرف اجتماعی شرمندگی کا تاثر ابھرے تو مکالمہ ختم ہو جاتا ہے۔ پھر بات دلیل کی نہیں، جذبات کی رہ جاتی ہے۔ یہاں ایک اور پہلو بھی اہم ہے۔ ہمارے ہاں ایک طبقہ ایسا ہے جو خود کو لبرل کہتا ہے۔ یہ طبقہ مذہبی شدت پسندی پر تنقید کرتا ہے، مگر اکثر اوقات اس کی اپنی زبان میں شدید نفرت چھپی ہوئی ہوتی ہے۔ یہ شدت بندوق نہیں اٹھاتی، مگر تحقیر کے تیر ضرور چلاتی ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ آپ فرقہ واریت کے خلاف ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ آپ اس کے خلاف کس حیثیت میں کھڑے ہیں۔وسعت اللہ خان کا مسئلہ یہ نہیں کہ انہوں نے اہلِ تشیع کا دفاع کیا۔ دفاع ہر مظلوم کا حق ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ اس دفاع میں ایک ایسا عمومی بیانیہ اپنایا ہے جس میں معاشرے کے بڑے حصے کو ایک غیر مرئی کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے ۔ یہ وہی طرزِ فکر ہے جو شدت پسندوں کا شیوہ رہا ہے ،فقط سمت بدل دی ہے، انداز نہیں۔فرقہ واریت کی سب سے بڑی قباحت یہی ہے کہ یہ انسان کو خانوں میں بانٹ دیتی ہے۔ سنی، شیعہ، دیوبندی، بریلوی، لبرل، قدامت پسند ، یہ سب شناختیں اپنی جگہ مگر جب یہ شناختیں انسانیت پر غالب آ جائیں تو معاشرہ ٹوٹ پھوٹ جاتا ہے۔ ایک ذمہ دار قلم کار کا کام ان خانوں کو توڑنا ہوتا ہے، نہ کہ نئے خانے بنانا۔تاریخ کے نام گنوانا آسان ہے، تاریخ کو سمجھنا مشکل۔ بو علی سینا، البیرونی، جابر بن حیان، فردوسی، ٹیپو سلطان یہ سب ہمارے مشترکہ ورثے کا حصہ ہیں۔ ان پر کسی ایک مسلک کی مہر لگانا بھی غلط ہے اور انہیں مسلکی ڈھال بنانا اس سے بھی بڑی قباحت۔ تہذیبیں مسلکوں سے بڑی ہوتی ہیں اور ورثے تقسیم سے نہیں، وسعت سے زندہ رہتے ہیں۔
ایک اور افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ ایسے بیانیے غیر محسوس طور پر معاشرے میں ردعمل کی فضا ہموار کرتے ہیں۔ جب آپ ایک انتہا کے جواب میں دوسری انتہا پیدا کرتے ہیں تو میدان میں اعتدال پسندی کی جگہ کم ہو جاتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ معاشرہ مکالمے کی بجائے مناظرے کی طرف بڑھ جاتا ہے، اور مناظرے ہمیشہ تقسیم کو جنم دیتے ہیں۔پاکستان جیسے معاشرے میں جہاں پہلے ہی فرقہ وارانہ آگ آلائو بنتے دیر نہیں لگتی ، وہاں قلم کی لغزش بھی آتش فشاں کا روپ دھار سکتی ہے۔ یہاں لفظوں کو تولنا پڑتا ہے، جملوں کو پرکھنا پڑتا ہے، اور نیت کے ساتھ اثر کو بھی دیکھنا پڑتا ہے۔ کیونکہ تاریخ نیت نہیں، اثر کو یاد رکھتی ہے۔یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ مظلومیت کا بیانیہ اگر حکمت سے نہ بولا جائے تو وہ خود ایک ہتھیار بن جاتا ہے۔ پھر وہ دلوں کو جوڑنے کے بجائے توڑنے لگتا ہے۔ ایک ذمہ دار دانشور وہ ہوتا ہے جو درد بیان کرے مگر زخم ہرے نہ کرے ، سچ کہے مگر جذبات میں چنگاری سلگانے کے لئے نہیں۔ وسعت اللہ خان کا کالم شاید نیت کے اعتبار سے خیرخواہی پر مبنی ہو، مگر اس کا اسلوب اندر سے لرزا دینے والا ہے، کیا ہم نفرت کے خلاف لڑتے لڑتے خود نفرت کی زبان سیکھ رہے ہیں؟ کیا ہم تعصب کو رد کرتے کرتے ایک نئے تعصب کو ہوا دے رہے ہیں؟فرقہ واریت کے خلاف جنگ صرف نعروں سے نہیں جیتی جا سکتی۔ یہ جنگ اعتدال ، توازن اور حکمت سے جیتی جا سکتی ہے۔ اس میں ہر طبقے کا اعتماد ملحوظ خاطر رکھنا پڑتا ہے، اور ہر لفظ کو ذمہ داری سے برتنا پڑتا ہے۔ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ ہم کس طرح کا معاشرہ چاہتے ہیں۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں ہر شخص اپنی شناخت کے ساتھ محفوظ ہو، یا ایسا جہاں ہر شناخت ایک نئے خوف میں گندھی ہو؟ اگر ہم واقعی ایک پرامن پاکستان چاہتے ہیں تو ہمیں بیانیوں کی جنگ میں بھی اخلاقیات کو زندہ رکھنا ہوگا۔