Search
Close this search box.
اتوار ,07 جون ,2026ء

طاقت کی بساط اور حکمت کا امتحان

(گزشتہ سے پیوستہ)
امریکاکی جانب سے فضائی یازمینی سہولتوں کا مطالبہ پاکستان کے لئے ہائی رسک فیصلہ ہوگا۔ اجازت کے فوائدمحدوداورخطرات ناقابل حد تک بلند ہیں۔ اجازت کی صورت میں داخلی سلامتی (خصوصاً بلوچستان ) اورانکارکی صورت میں سفارتی دباؤاورہائبرڈخطرات بڑھ سکتے ہیں۔ بلوچستان کسی بھی بیرونی عسکری کشیدگی کی صورت میں پراکسی تشدد،اورانفارمیشن آپریشنز کا اولین ہدف بن سکتاہے۔ایران ، امریکا تصادم کی شدت بڑھنے پرسرحدی دباؤ،اسلحہ وفنڈنگ کی غیرقانونی ترسیل اورعلیحدگی پسندبیانیے کے دوبارہ فعال ہونے کا امکان بڑھ جاتاہے۔
کسی بھی بیرونی عسکری تعاون کاسب سے فوری ردِعمل بلوچستان میں شدت پسندعناصرکی فعالیت میں اضافے کی صورت میں آسکتا ہے۔ریاست کو انسدادِ دہشت گردی،انٹیلی جنس کوآرڈینیشن اورسیاسی مصالحت کو یکجا رکھنا ہوگا۔بلوچستان میں داخلی سلامتی کے چیلنجزکو مدنظر رکھتے ہوئے ریاست کے لئے ناقابل برداشت حدود،واضح سرخ لکیراورعملی رولزآف انگیجمنٹ کا تعین ناگزیرہے تاکہ بیرونی مداخلت ، ہائبر ڈ وارفیئراورداخلی انتشارکوبروقت اورمتناسب انداز میں روکاجاسکے،جبکہ شہری حقوق،سیاسی عمل اورقومی وحدت محفوظ رہیں۔ یہی توازن پاکستان کوبیرونی جنگ کے شعلوں سے محفوظ رکھ سکتاہے۔
ایران کے ساتھ طویل سرحداورتوانائی ،تجارت کے امکانات پاکستان کومحتاط سفارت کاری کاپابندکرتے ہیں۔کشیدگی میں اضافہ سرحدی سلامتی اوراقتصادی منصوبوں کومتاثرکر سکتا ہے۔ پاکستان کی پالیسی غیرجانبدارانہ حقیقت پسندی ،تعاون برائے امن،نہ کہ جنگ،انسانی امداد ،سفارت کاری،ثالثی کی پیشکش اورعسکری شمولیت سے اجتناب پرقائم رہنی چاہیے ، خطے میں جنگی فضاسی پیک کے لئے خطرات بڑھاسکتی ہے۔ پاکستان کوچین کے ساتھ اسٹریٹجک کمیونیکیشن مضبوط رکھنی ہوگی تاکہ اقتصادی مفادات محفوظ رہیں۔سعودی عرب اور خلیجی ممالک سے دفاعی واقتصادی تعلقات اہم ہیں، مگر پاکستان کے لئے کسی بلاک میں کھڑے ہونے کی بجائے پل کا کردارزیادہ سودمندہے۔براہِ راست جنگ میں شمولیت کے بغیرفضائی وسرحدی نگرانی، سائبر سیکورٹی، داخلی امن وامان کی مضبوطی کے لئے عسکری تیاریاں مکمل رکھنے کی ضرورت ہے۔
اب ضرورت اس امرکی ہے کہ اوآئی سی کے رکن ممالک اقوامِ متحدہ کے منشوراوراسلامی اخوت کے اصولوں کی توثیق کرتے ہوئے، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی عسکری کشیدگی پرشدید تشویش کااظہارکرتے ہوئے، خودمختاری، علاقائی سالمیت اورانسانی جانوں کے تحفظ کو بنیادی قدرمانتے ہوئے فوری طورپران چندعملی نکات پرعملدرآمدکے لئے تمام سفارتی دباؤ استعمال کرتے ہوئے اپناکرداراداکریں:
اوآئی سی کے تحت اعلیٰ سطحی ثالثی کمیٹی کے قیام کی منظوری دی جائے۔
ایران،امریکا تنازعے کے حل کے تمام فریقین سے فوری کشیدگی میں کمی اورطاقت کے استعمال سے گریزکے عملی اقدامات کی ٹھوس تجاویزمرتب کی جائیں۔
براہِ راست مذاکرات کی حوصلہ افزائی کے لئے خطے میں جنگ کے خطرات کوختم کرنے کے لئے عملی اقدامات کئے جائیں۔
خطے میں تمام ممالک کواپنی سرزمین کسی بھی جارحانہ کارروائی کے لئے استعمال نہ ہونے دینے کا عہد کیا جائے۔
اقوام متحدہ اوراوآئی سی کے اشتراک سے قائم کردہ کمیٹی کی مشترکہ کاوشوں سے انسانی حقوق کے تحفظ اورشہری ہلاکتوں کی آزادانہ تحقیقات کی حمایت کی جائے اوران ہنگاموں کے درپردہ غیرملکی سازشوں کوبھی منظر عام لاکراس کاتدارک کیاجائے۔
خطے میں علاقائی پراکسی جنگوں کی مذمت اورغیرریاستی مسلح گروہوں کے عدم استعمال پرزوردیتے ہوئے ان ممالک کے خلاف مشترکہ ٹھوس اقدامات کئے جائیں جوان پراکسی جنگوں کے شعلوں کوبھڑکانے کے لئے تیل فراہم کررہے ہیں۔
کسی بھی غیرملکی انٹیلی جنس،عسکری اثاثے یاپراکسی نیٹ ورک کی جانب سے سرحدپاردراندازی یالاجسٹک سپورٹ ناقابلِ برداشت ہوگی۔
گوادر،سی پیک منصوبے،گیس تنصیبات، بندرگاہیں،اورمواصلاتی انفراسٹرکچرپرحملہ ریاستی ردِعمل کوفوری اورفیصلہ کن بنائے گا۔
کسی بھی چینل کے ذریعے غیرملکی مالی یاعسکری معاونت کی دریافت پرسخت ترین قانونی وسیکیورٹی کارروائی ہوگی۔
اسلامی دنیاکے لئے اجتماعی حکمت اورثالثی ہی وہ راستہ ہے جوخطے کوایک اورتباہ کن تصادم سے بچاسکتاہے، پاکستان کے لئے بہترین راستہ امن کی فعال سفارت کاری ہے نہ خاموش تماشائی ،نہ جنگی فریق۔پاکستان کے لئے دانش مندی اسی میں ہے کہ وہ جنگ کے شورمیں امن کی آوازبنے،اوراسلامی دنیاکے لئے وقت کاتقاضا یہ ہے کہ وہ جذبات کے بجائے حکمت کورہنمابنائے۔ تاریخ گواہ ہے جنگیں طاقت سے شروع ہوتی ہیں، مگر انجام ہمیشہ عقل لکھتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں