اس حقیقت سے انحراف نہیں کہ کمزور ریاستیں اکثر عالمی شطرنج کی بساط پر مہرے بن جاتی ہیں۔ افغانستان بھی ایک ایسی ہی سرزمین ہے جو گزشتہ نصف صدی سے معتدبہ پراکسی لڑائیوں میں مصروف ہے ۔ ایک طرف وہ دہشت گردی کے خلاف عالمی اتحاد کی جانب دیکھتا ہے تو دوسری طرف، جیو پولیٹیکل صف بندیوں کا کا حصہ بنتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی افغانستان ایک بار پھر کسی بڑے کھیل کا مرکز بننے جا رہا ہے؟ کیا وہ بھارت، اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ مل کر ایران اور پاکستان کے خلاف کوئی نیا محاذ بنائے گا، یا یہ محض خدشات اور بیانیوں کا غبار ہے؟یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ خطہ ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ امریکہ کے انخلا کے بعد جو خلا پیدا ہوا، وہ ابھی تک پوری طرح پر نہیں ہوا۔ طالبان اقتدار میں تو آ گئے مگر عالمی قبولیت حاصل نہ کر سکے۔ معیشت زبوں حالی کا شکار ہے، بینکنگ نظام دبائو میں ہے، انسانی بحران مستقل سائے کی طرح منڈلا رہا ہے۔ ایسے میں افغانستان کے پاس انتخاب کی آزادی کم اور مجبوری زیادہ ہے۔ یہی مجبوری اسے بیک وقت کئی دروازے کھٹکھٹانے پر مجبور کرتی ہے اور یہی کیفیت شک و شبہات کو جنم دیتی ہے۔پاکستان کے تناظر میں یہ سوال زیادہ حساس ہو جاتا ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں پاکستان نے افغان جنگ کی قیمت صرف سرحدی کشیدگی کی صورت میں نہیں بلکہ دہشت گردی، معاشی نقصان اور سماجی عدم استحکام کی صورت میں چکائی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں افغانستان کے حوالے سے ہر نئی خبر، ہر سفارتی اشارہ اور ہر انٹیلی جنس رپورٹ ایک بڑے بیانیے میں ڈھل جاتی ہے۔
اس بیانیے کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ کہیں افغانستان رفتہ رفتہ پاکستان مخالف سرگرمیوں کا گڑھ نہ بنتا جارہا ہے ۔لیکن حقیقت شاید اس سے زیادہ پیچیدہ ہے۔ طالبان حکومت کی بنیادی ترجیح نظریاتی جنگ نہیں بلکہ بقاء ہے۔ انہیں بین الاقوامی تسلیم، معاشی استحکام اور داخلی کنٹرول درکار ہے۔ ایک ایسی حکومت جو اپنے سرکاری ملازمین کی تنخواہیں دینے کے لئے بھی بیرونی امداد کی محتاج ہو، وہ کسی بڑی عالمی سازش کی قیادت کیسے کر سکتی ہے؟ ہاں، یہ ضرور ممکن ہے کہ وہ مختلف طاقتوں کے ساتھ مفاداتی روابط رکھے، مگر مفاداتی روابط اور اسٹریٹجک اتحاد میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔بھارت کے ساتھ طالبان کے روابط اسی فرق کی ایک مثال ہیں۔ بھارت نے ابھی تک طالبان حکومت کو باضابطہ تسلیم نہیں کیا، سفارتی رابطے جاری رکھے ہیں۔ طالبان بھارت سے سرمایہ کاری اور عالمی فورمز تک رسائی چاہتے ہیں۔ یہ تعلق پاکستان کے لئے کسی جواز کی حیثیت نہیں رکھتا۔ یہ زیادہ تر مفادات کی سیاست ہے، نظریاتی ہم آہنگی نہیں۔اسرائیل کا نام آتے ہی جذبات کا درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے۔ مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ طالبان کی نظریاتی بنیادیں اسرائیل کے ساتھ کھلے تعلق کی اجازت نہیں دیتیں۔ افغانستان کے اندر اسرائیل کی کوئی نمایاں سفارتی یا عسکری موجودگی نظر نہیں آتی۔ اس موضوع پر زیادہ تر باتیں قیاس آرائیوں یا پروپیگنڈے کے دائرے میں آتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ عالمی خفیہ کھیل وجود نہیں رکھتے، مگر ہر امکان کو حقیقت سمجھ لینا بھی دانشمندی نہیں۔امریکہ کے ساتھ طالبان کا تعلق سب سے زیادہ الجھا ہوا ہے۔ ایک طرف امریکہ نے طالبان کو تسلیم نہیں کیا، پابندیاں برقرار ہیں، افغان اثاثے منجمد ہیں۔ دوسری طرف پس پردہ رابطے بھی موجود ہیں انسداد دہشت گردی، انسانی امداد اور بعض تکنیکی معاملات پر۔ یہ تعلق دشمنی اور مجبوری کا مرکب ہے، اتحاد کا نہیں۔ امریکہ افغانستان کو مکمل طور پر چھوڑ بھی نہیں سکتا اور پوری طرح گلے کا ہار بنا لینا بھی اس کے لیے ممکن نہیں۔ایران کے ساتھ افغانستان کا رشتہ بھی تضادات پر مشتمل ہے۔ سرحدی جھڑپیں ہو چکی ہیں، پانی کے تنازعات ہیں، فرقہ وارانہ حساسیت موجود ہے۔ مگر اس کے ساتھ تجارت بھی جاری ہے اور سفارتی رابطے بھی۔ ایران طالبان سے مکمل تصادم نہیں چاہتا کیونکہ عدم استحکام کا براہ راست اثر اس کی سرحدوں پر پڑتا ہے۔ یہی حقیقت پاکستان پر بھی لاگو ہوتی ہے۔
پاکستان کے خدشات بہرحال بے بنیاد نہیں۔ تحریک طالبان پاکستان کی موجودگی، سرحدی حملے، اور افغان سرزمین کے استعمال کے الزامات حقیقی مسائل ہیں۔ عوامی سطح پر یہ احساس بھی موجود ہے کہ کابل کی نئی حکومت پاکستان کی توقعات پر پوری نہیں اتری۔ یہی خلا بداعتمادی کو بڑھاتا ہے اور سازشی بیانیوں کو تقویت دیتا ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب کسی بڑی عالمی سازش کا حصہ ہے یا ایک کمزور ریاست کی نااہلی اور محدود صلاحیتوں کا نتیجہ؟ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ افغانستان میں زیادہ تر بحران کسی عالمی اتحاد کے نتیجے میں نہیں بلکہ داخلی کمزوریوں اور بیرونی مداخلت کے امتزاج کا شاخسانہ ہی بنتا رہا ہے۔ جب ریاستی ڈھانچہ کمزور ہو تو اس کی سرزمین خود بخود پراکسی جنگوں کا میدان بن جاتی ہے چاہے حکومت کی نیت کچھ بھی ہو۔یہاں میڈیا اور سیاسی بیانیے کا کردار بھی اہم ہے۔ ہمارے ہاں ہر علاقائی تبدیلی کو اکثر کسی خفیہ منصوبے کا حصہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ اس سے عوامی جذبات تو ابھرتے ہیں مگر پالیسی سازی دھندلا جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خطے کی سیاست سیدھی لکیر نہیں بلکہ دائروں کا سفر ہے۔ یہاں دشمن بھی کبھی دوست بن جاتا ہے اور دوست بھی مفادات بدلنے پر فاصلے اختیار کر لیتا ہے۔افغانستان کو اگر واقعی سازشوں کا قلعہ بننے سے روکنا ہے تو اس کا راستہ بیانیوں کی جنگ نہیں بلکہ عملی حکمت عملی ہے۔ پاکستان کو افغانستان کے ساتھ تعلقات میں جذبات کے بجائے مستقل مزاجی کی ضرورت ہے۔ سرحدی نظم، معاشی روابط، عوامی سطح کے روابط اور سفارتی مکالمہ ، یہ چار ستون کسی بھی پائیدار پالیسی کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ مغائرت یا مکمل لاتعلقی مسئلے کو مزید پیچیدہ بنانے کا سبب بن رہی ہے۔دوسری طرف افغانستان کے لیے بھی وقت کا تقاضا ہے کہ وہ اپنی سرزمین دہشتگردی سے پاک کرے تاکہ اعتماد کی بحالی کے آثار نمایاں ہوں۔ طالبان اگر واقعی عالمی قبولیت چاہتے ہیں تو انہیں یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ ماضی کی پراکسی سیاست سے نکل آئے ہیں۔ بصورت دیگر، عالمی تنہائی مزید گہری ہوگی اور خطے کا عدم اعتماد بڑھتا چلا جائے گا۔حقیقت شاید یہ ہے کہ افغانستان نہ مکمل سازش ہے نہ مکمل معصومیت۔ وہ ایک ایسی حقیقت ہے جو اپنی کمزوریوں، مجبوریوں اور تضادات کے ساتھ زندہ ہے۔ اسے سازشوں کا قلعہ بنانے والے بھی بیرونی عوامل ہیں اور اسے میدان جنگ بننے سے روکنے والے بھی علاقائی فیصلے ہیں۔پاکستان کے لیے اصل چیلنج یہی ہے کہ وہ خوف اور حقیقت کے درمیان توازن قائم کرے۔ نہ حد سے زیادہ خوش فہمی، نہ حد سے زیادہ بدگمانی۔ کیونکہ ریاستیں بیانیوں سے نہیں بلکہ فیصلوں سے محفوظ ہوتی ہیں۔ اگر ہم نے تاریخ سے سبق نہ سیکھا تو جواب دینے کے لیے ہمارے پاس وقت کم ہوگا۔ افغانستان کا مستقبل دراصل پورے خطے کا مستقبل ہے۔ اگر وہاں استحکام آیا تو یہ خطہ تجارت، توانائی اور ثقافتی رابطوں کا پل بن سکتا ہے۔ اگر عدم استحکام رہا تو یہی سرزمین بداعتمادی اور پراکسی جنگوں کی نئی داستان لکھ سکتی ہے۔ فیصلہ کسی ایک ملک کے ہاتھ میں نہیں، مگر ذمہ داری سب کی مشترک ہے۔ اور شاید یہی وہ نکتہ ہے جہاں جذبات سے زیادہ حکمت کی ضرورت ہے۔