Search
Close this search box.
پیر ,22 جون ,2026ء

یہود و ہنود کا گٹھ جوڑ اور فتنہ خوارج کے سرپرست

مشرق وسطیٰ میں جنگ کے بادل گہرے ہو گئے ہیں۔ وہ ہو گیا ہے جس کا خطرہ تھا۔ اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر مشترکہ حملے کر کے خطے کے امن کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ اس سے قبل سرحد پار دہشت گردی کے ہاتھوں تنگ ہونے کے بعد بہ امر مجبوری پاکستان نے افغانستان میں قائم دہشت گردی کا اڈوں کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا تھا ۔اس معاملے کو بگاڑنے میں افغان طالبان کی غیر منتخب حکومت کے اکھڑ پن نے بنیادی کردار ادا کیا۔ پاکستان کے جائز تحفظات اور سنجیدہ عسکری رد عمل کی روشنی میں اپنے طرز عمل پر نظر ثانی کرنے کے بجائے افغان طالبان نے پاکستان کی سرحدی چوکیوں پر بیک وقت حملے کر کے بہت بڑی حماقت کا ارتکاب کیا ۔اس شر پسندانہ حماقت کے رد عمل میں ریاست پاکستان نے جو عسکری اقدام اٹھایا اس کی گونج پوری دنیا میں سنائی دے رہی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں تیزی سے پھیلنے والی کشیدگی اور افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف اٹھنے والی دہشت گردی کی لہر میں ایک قدر مشترک نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان کا شر پسندانہ کردار بھی ہے۔
یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے کہ پاکستان کے دو صوبوں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سرگرم عمل دہشت گرد گروہوں کی پشت پناہی ہندوستان کر رہا ہے اور اس فساد کا مرکز افغانستان کی سرزمین ہے ۔ جب سے طالبان نے افغانستان میں اقتدار پر قبضہ کیا ہے اس وقت سے پاکستان میں دہشت گرد حملوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ امریکی فوج کا چھوڑا ہوا اسلحہ بھی طالبان کی سرپرستی میں پاکستان دشمن دہشت گردوں کے ہاتھوں میں پہنچ چکا ہے۔ جنوبی ایشیاء میں ہندوستان کا کردار خطے کے امن کے لئے بہت بڑا خطرہ بن چکا ہے۔ طالبان سے تعلقات میں ہندوستان کی جانب سے دکھائی جانے والی گرم جوشی بہت معنی خیز ہے۔ اس سے قبل ہندوستان نے افغان طالبان سے عدم تعلق کو اپنی پالیسی کا بنیادی نکتہ بنا رکھا تھا البتہ گزشتہ برس طالبان کی غیر مجاز حکومت کے عبوری وزیر خارجہ ملا متقی کے دورے سے ہندوستان نے اپنی برسوں پرانی پالیسی تبدیل کر دی۔
طالبان اور بھارت کے وزیر خارجہ میڈیا کے سامنے جس طرح باہم شیر و شکر دکھائی دیے وہ مبصرین کے لئے بہت حیرت انگیز تھا اسی رات طالبانی فوج اور فتنہ خوارج کے دہشت گردوں نے پاکستان کی سرحدی چوکیوں پر بیک وقت حملے کر کے اپنے خبث باطن کا مظاہرہ کیا ۔ان حملوں سے طالبان ہندوستان گرم جوشی کی بلی بھی تھیلے سے باہر آگئی۔ یہ راز تشت از بام ہو گیا کہ طالبان کی ہندوستان سے ناقابل فہم الفت و عقیدت کی بنیاد پاکستان دشمنی پر قائم ہوئی ہے۔ طالبان کے وزیر خارجہ مودی سرکار کی محبت میں ایسے اندھے ہوئے کہ عشروں سے جاری تحریک حریت جموں و کشمیر کی نظریاتی اساس پر بھی خنجر چلا دیا۔ موصوف نے جموں و کشمیر کے غیر قانونی قبضے کو جائز تسلیم کرتے ہوئے یہ بھی نہ سوچا کہ ہندوستان کے غاصب افواج ہزاروں کشمیریوں کے لہو سے ہولی کھیل چکی ہے۔ ایران پر اسرائیل کے حملے سے پیدا ہونے والے بحران میں ہندوستان کا کردار بے حد منافقانہ اور سازشی رہا ہے۔ حالیہ اسرائیلی امریکی مشترکہ حملوں سے پہلے نریندر مودی نے تل ابیب کا دورہ کر کے جو موقف اپنایا تھا اس نے ہندوستان کی مسلم دشمنی پر ایک اور مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔
اسرائیل کے خلاف برسر پیکار ایرانی حکومت اور عوام بھی بھارت کے سازشی کردار پر غم و غصے میں مبتلا ہیں ۔ یہ وہی بھارت ہے جو ایران سے دوستی کا پرفریب ڈرامہ کر کے چاہ بہار بندرگاہ کو اپنے مفادات اور افغانستان سے رابطوں کے لئے استعمال کرتا رہا ہے۔ آج جب ایران پر کڑا وقت آن پڑا ہے تو مکار ہندوستان مسلمانوں کے قاتل اسرائیل اور نیتن یاہو کے شانہ بشانہ جا کھڑا ہوا ہے۔ غور کیا جائے تو ہندوستان، اسرائیل اور طالبان کے زیر سرپرستی دہشت گردی کرنے والے گروہوں کی ایک ایسی مثلث بن چکی ہے جو مسلم امہ کے مفادات پر کاری وار کر رہی ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی کی لہر سے ہونے والے نقصانات سے یہ بات پایا ثبوت کو پہنچ جاتی ہے کہ کس طرح مودی کے زیر قیادت ہندوستان مشرق وسطیٰ سے جنوبی ایشیا تک مسلم مفادات سمیت خطے کے امن کو برباد کر رہا ہے۔ ایک جانب ایران سے دوستی کا دم بھرنے والا نریندر مودی جب نریندر نیتن یاہو کے پہلو میں کھڑا ہوا تو دنیا کو علم ہوا کہ نام نہاد جمہوریہ ہونے کا دعویدار ہندوستان دراصل مظلوم فلسطینیوں کے قاتل اسرائیل کا حمایتی ہے مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی، بھارتی مسلم اقلیت پر مظالم، مساجد ڈھانے اور سکھوں کو دنیا بھر میں ہدف بنانے والا ہندوستان دراصل اسرائیل کے نیتن یاہو سے فکری ہم آہنگی رکھتا ہے۔ جو لبرل حضرات یہود و ہنود کے گٹھ جوڑ کی اصطلاح پر طنز فرمایا کرتے تھے امید ہے آج ان کی آنکھیں بھی کھل گئی ہوں گی۔

یہ بھی پڑھیں