(گزشتہ سےپیوستہ)
پاکستان کامؤقف ہےکہ قومی سلامتی اورشہریوں کاتحفظ ہرقیمت پریقینی بنایاجائے گا۔ افغانستان کامؤقف ہےکہ خودمختاری پرسمجھوتہ نہیں کیاجائے گا۔دونوں بیانیے بظاہراپنی جگہ مضبوط ہیں مگرجنگ ہمیشہ بیانیوں سےزیادہ زمینی حقیقتوں سےطےہوتی ہےاور حقیقت یہ ہےکہ گزشتہ کئی برسوں سےپاکستان نےافغان طالبان کوان کی سرزمین سے پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی کے باقاعدہ مضبوط شواہدکےساتھ ان کاروائیوں کو روکنے کےلئے لاکھ جتن کئے ہیں لیکن افغان رجیم اس معاملہ پرسنجیدگی سے عمل کرنے کی بجائے اس وقت بھارت اوراسرائیل کے ہاتھوں کٹھ پتلی کا کردار اداکررہی ہے۔
آج اس بحران کاسب سے نازک پہلویہ ہےکہ دونوں ریاستیں داخلی دباؤکاشکارہیں۔عوامی جذبات بھڑکےہوئے ہیں،میڈیاکابیانیہ سخت ہے،اورسوشل میڈیاپرقومی غیرت کے نعرے گونج رہے ہیں۔ایسے ماحول میں پسپائی یامصالحت کافیصلہ سیاسی طورپرمشکل ہوجاتا ہے مگرتاریخ گواہ ہےکہ دانشمند قیادت وہی ہوتی ہےجوجذبات کے طوفان میں بھی تدبرکی کشتی کوڈوبنے نہ دے۔پاکستان اورافغانستان کارشتہ محض سیاسی معاہدوں کانہیں،بلکہ صدیوں کی تہذیبی ہم آہنگی کاامین ہے۔جنگ اس رشتےکووقتی طورپرپانسہ بدل سکتی ہے،مگر اسے مکمل طورپرمنقطع نہیں کرسکتی۔سوال یہ ہے کہ کیادونوں ممالک اس آگ کومحدود رکھ سکیں گے،یایہ شعلے پورے خطے کواپنی لپیٹ میں لے لیں گے؟
پاکستان اورافغانستان کارشتہ محض سیاسی معاہدوں سے نہیں،بلکہ صدیوں کی تہذیبی ہم آہنگی سےجڑاہے۔پاکستان اورافغانستان کاتعلق محض دوہمسایہ ریاستوں کابھی نہیں،بلکہ تاریخ،تہذیب اورمذہب کے رشتوں کاآئینہ دارہے۔مگرجب اعتمادکی ڈورکمزورہو جائے، جب سیاست حکمت سےعاری ہوجائے تورشتہ بھی بوجھ بن جاتاہے اورہمسائیگی بھی اجنبیت کاروپ دھار لیتی ہے۔
سوال اب بھی قائم ہے کیامسئلے کاحل بارودمیں ہے یابصیرت میں؟کیارجیم چینج استحکام لاسکتاہے یاانتشارکودعوت دے گا؟اورہاں اصل سوال یہ نہیں کہ توپ چلائی جائے یانہیں،اصل سوال یہ ہےکہ کیادونوں ریاستیں اپنےداخلی بیانیوں سےاوپراٹھ کرمشترکہ مستقبل کی تعمیرکر سکتی ہیں؟اگرجواب اثبات میں ہے توتاریخ ایک نئے باب کی منتظر ہے ؛ اور اگر نفی میں،تواندیشہ ہے کہ یہ کشیدگی محض سرحدی تنازع نہ رہے بلکہ پورے خطے کے امن کواپنی لپیٹ میں لے لے۔
یادرکھیں کہ تاریخ کی عدالت میں وہی قومیں سرخرو ہوتی ہیں جوطاقت کے ساتھ حکمت،اورعزم کے ساتھ اعتدال کوجمع کرلیں۔اگر مکالمہ بحال ہو جائے توشایدسرحدوں کی گھن گرج پھرسے بازاروں کی رونق میں ڈھل سکے اوراگرنہیں، تو اندیشہ ہے کہ یہ آگ صرف دوملکوں تک محدودنہ رہے گی،بلکہ اس کے شعلے دورافق تک لپکیں گے۔
ان تمام پہلوؤں کے بیچ ایک بنیادی سوال ابھرتاہے:کیا طاقت کے استعمال سے پائیدارامن ممکن ہے؟تاریخ کاسبق یہ ہے کہ بندوق راستہ کھول سکتی ہے، منزل نہیں دکھا سکتی ۔ اگر کابل اپنی سرزمین کومسلح گروہوں سے پاک کرنے کی سنجیدہ کاوش کرے اور اسلام آباد سفارتی مکالمےکی ڈورتھامےرکھےتوشایدبرف پگھلنےکاامکان پیداہو۔بصورتِ دیگربداعتمادی کایہ کوہِ گراں پورے خطے پرسایہ فگن رہے گا۔
پاکستان اورافغانستان کاتعلق محض ہمسائیگی نہیں بلکہ تہذیبی اشتراک کاآئینہ دار ہے۔ پاکستان اورافغانستان کارشتہ صدیوں کی تہذیبی ہم آہنگی سے بندھاہے۔یہ وہ ہمسائیگی ہے جسے دشمنی کےسانچے میں ڈھالناآسان،مگرامن کے قالب میں ڈھالنادشوار ہے۔ اگرباہمی ذمہ داریوں کااحساس غالب آجائے توکشیدگی کی یہ دھندچھٹ سکتی ہے؛بصورتِ دیگریہ بحران نہ صرف دوملکوں بلکہ پورے خطے کے امن کواپنی گرفت میں لے سکتاہے۔آج فیصلہ صرف دوریاستوں کانہیں،آنے والی نسلوں کے مستقبل کاہے یاتوخطہ باہمی بصیرت سے استحکام کی راہ چنے،یاپھرتاریخ ایک اوربے سکونی کاباب رقم کرے۔
تاریخ ہمیں بار بار یہ سبق دیتی ہے کہ طاقت کے بل پر کھڑی کی گئی عمارتیں دیرپا نہیں ہوتیں؛ پائیدار بنیادیں ہمیشہ اعتماد، انصاف اور باہمی احترام سے استوار ہوتی ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کا رشتہ محض سیاسی مصلحتوں کا اسیر نہیں، بلکہ صدیوں کی تہذیبی ہم آہنگی، مشترک اقدار اور انسانی روابط کا امین ہے۔ اگر یہ رشتہ کمزور پڑتا ہے تو دراصل پورا خطہ عدم استحکام کے بھنور میں اتر جاتا ہے۔
تاریخ کی عدالت میں وہی قومیں سرخرو ہوتی ہیں جوطاقت کے ساتھ حکمت،اورعزم کے ساتھ اعتدال کوجمع کرلیں۔اگرموجودہ جنگ کو بروقت سفارتی تدبرسے روکاگیاتویہ بحران ایک آزمائش کے طورپریادرکھاجائےگا۔اگرنہیں،تواندیشہ ہے کہ یہ تصادم محض سرحدی تنازع نہ رہے بلکہ جنوبی ووسطی ایشیاکے امن واستحکام کوطویل عرصے کےلئےمتاثرکردے۔انتخاب اب بھی ممکن ہےیاتوتصادم کی راہ کووسعت دی جائے،یاتدبرکی شاہراہ تلاش کی جائے۔جنگ کاآغازہوچکاہے، مگراس کا اختتام ابھی تاریخ نے نہیں لکھا۔یہ فیصلہ آج کی قیادتوں کے ہاتھ میں ہےکہ وہ آنے والی نسلوں کوایک اورمحاذدے کرجائیں یاایک مشکل مگر پائیدار امن کی بنیادرکھیں۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ جذبات کی تپش کو تدبر کی ٹھنڈک سے متوازن کیا جائے، عسکری دبائو کو سفارتی بصیرت کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے؛ اور الزام کے شور میں مکالمے کی آوازکو دبنےنہ دیاجائے۔ اگر قیادتیں اپنے اپنے بیانیوں سے بلند ہو کر مستقبل کی نسلوں کے حق میں فیصلہ کریں تو یہ بحران بھی تاریخ کے اوراق میں ایک آزمائش کے طور پر درج ہو گانہ کہ ایک مستقل زخم کےطور پر،ورنہ اندیشہ یہی ہےکہ سرحدوں پر اٹھنے والی چنگاریاں کسی ایک دیس تک محدود نہ رہیں، اور وہ آگ جسے بروقت حکمت سے بجھایا جا سکتا تھا، آنے والے کل کے افق کو سرخ کر دے۔انتخاب آج بھی ممکن ہے یا تو تصادم کی راہ، یا تدبر کی شاہراہ۔ تاریخ گواہ رہے گی کہ ہم نے کون سا راستہ چنا۔