Search
Close this search box.
اتوار ,21 جون ,2026ء

بدلتی عالمی بساط اورپاکستان کاامتحان

(گزشتہ سےپیوستہ)
انڈیاپرروسی تیل کے باعث عائداضافی ٹیرف دراصل واشنگٹن کایہ پیغام تھاکہ اب دوستی بھی شرائط کے ساتھ ہوگی۔ پاکستان کے لئے اس میں یہ سبق مضمرہے کہ خارجہ پالیسی میں توانائی،تجارت اورسیاست کوایک دوسرے سے الگ کرکے نہیں دیکھاجاسکتا۔ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ پاکبھارت کشیدگی کے دوران بعض مغربی بیانیے دفاعی منڈی کی سیاست سے جڑے رہے۔یہ صورتحال پاکستان کے لئے ایک موقع بھی ہے کہ وہ خودکومحض عسکری طاقت کے طورپر نہیں،بلکہ علاقائی استحکام کے ذمہ دارفریق کے طورپرپیش کرے۔ماضی قریب میں انڈین فضائی ناکامیوں کامغربی بیانیہ محض عسکری تجزیہ نہیں تھایہ اسلحہ سازی کی عالمی منڈی میں امریکی اسلحہ کی برتری کاپیغام بھی تھاجس سیفرانسیسی پلیٹ فارمزکی ساکھ کمزور ہوئی،امریکی سسٹمزکومتبادل کے طورپرپیش کیاگیاجبکہ پاکستانی عسکری فتح میں امریکی اسلحہ کاکوئی حصہ نہیں تھابلکہ پاک چین کی نئی عسکری دانش کاکمال تھا۔
جبکہ دوسری طرف انڈیاآئندہ دفاعی حصول میں زیادہ امریکی انحصارکی طرف جائے گا،جس سے انٹرآپریبلٹی بڑھے گی،انٹیلی جنس شئیرنگ بڑھے گی اور پاکستان کے خلاف نیٹ ورک میں مددملے گی۔اب یہ واضح ہوگیاہے کہ پاکستان کا اصل چیلنج صرف انڈیاہی نہیں بلکہ بدلتی عالمی ترجیحات میں اپنی افادیت کو برقراررکھناہے۔ صرف سلامتی کے دلائل اب کافی نہیں، معاشی،سفارتی اورتکنیکی وزن ناگزیرہوچکا ہے۔ان حالات میں جہاں پاکستان کیلئیچین کے ساتھ اسٹریٹیجک ہم آہنگی کومزیدگہرائی دینے کا موقع ضروری ہوگیاہے وہاں غیرجانبداراور متوازن سفارت کاری کے ذریعے امریکااوریورپ میں اعتمادسازی، علاقائی استحکام کے داعی کے طورپرپاکستان کے کردارکواجاگر کرنے کاامکان بھی میسرآ گیا ہے۔
پاک بھارت کشیدگی کے دوران انڈین طیاروں اورمغربی اسلحے کی کارکردگی پرامریکی بیانیہ دراصل دفاعی منڈی کی سیاست تھی۔ پاکستان کیلئے یہ ایک موقع بھی ہے کہ وہ اپنی دفاعی صلاحیت اورعسکری تجربے کومحض طاقت نہیں بلکہ توازن کی علامت کے طور پردنیاکے سامنے رکھے ۔ٹرمپ نے خوداس فیصلے کے پس منظرپرروشنی ڈالتے ہوئے لکھاکہ مودی سے بات کرنا ان کے لئے اعزازکی بات تھی۔انہوں نے مودی کوایک طاقتور اور قابلِ احترام رہنماقراردیااور یہ بھی واضح کیاکہ بات چیت میں تجارت کے ساتھ ساتھ روسیوکرین جنگ کے خاتمے پربھی گفتگوہوئی۔
امریکاانڈیاقربت خودبخودچین پاکستان اسٹریٹیجک ہم آہنگی کوگہراکرتی ہے تاہم دانش مندی کا تقاضا ہے کہ یہ تعلق محض ردِعمل پر نہیں بلکہ طویل المدت مفادپرقائم ہومگرعالمی سطح پر ایک بلاک کے حصہ کے تاثر سے بچا جائے وگرنہ علاقائی خودمختاری کم ہو جائے گی۔پاکستان کو چین کے ساتھ معاشی،تکنیکی اورسفارتی تعاون کوایک ہمہ جہتی حکمتِ عملی میں ڈھالنا ہو گا ۔چین پاکستان کا فطری اسٹریٹیجک شراکت دارہے،مگراس تعلق کومحض عسکری سطح تک محدودنہ رکھاجائے بلکہ معاشی خودانحصاری کے منصوبوں سے جوڑاجائے۔ چین کے ساتھ تعلقات میں احتیاط اورتوازن برقراررکھاجائے اورآنے والے وقت میں خطے میں پاکستان چین کامحورہونے جا رہاہے جس کے لئے ابھی سے تیاری کی ضرورت ہے۔چین کے ساتھ ہماری شراکت داری ہماری تزویراتی حقیقت ہے،مگراس تعلق کو ردِعمل کی بنیادپرنہیں بلکہ طویل المدت قومی مفادکی بنیاد پرآگے بڑھاناہوگا۔چین کے ساتھ تعاون میں معاشی خودانحصاری،ٹیکنالوجی اورعلاقائی رابطہ کاری کومرکزی حیثیت دیناناگزیرہے۔
اسی گفتگوکے نتیجے میں انڈیانے روسی تیل کی خریداری روکنے اورمتبادل کے طورپروینزویلاسے مزیدتیل لینے پرآمادگی ظاہرکی۔ امریکی صدرکے بقول، یہ فیصلہ یوکرین میں جاری خونریزی کوروکنے میں مدد دے سکتاہے،جہاں ہرہفتے ہزاروں زندگیاں مٹ رہی ہیں۔ یوں ایک تجارتی معاہدہ اخلاقی جوازکے لبادے میں پیش کیاگیا۔جس کے لئے ضروری ہوگیا ہے کہ ہم فوری طورپران اقدامات کی طرف توجہ دیں:
اسی کے ساتھ،امریکاکے ساتھ ہمارے تعلقات کوبھی ازسرِنومتوازن بنیادوں پراستوارکرنے کی ضرورت ہے۔ہمیں دفاعی بیانیے سے آگے بڑھ کر تجارت ، سرمایہ کاری اورعلاقائی استحکام کے نکات کومرکز ِگفتگو بنانا ہو گا۔ امریکاکے ساتھ روابط کی ازسرِنوتشکیل، خارجہ، دفاع اور معیشت پرمشتمل مشترکہ قومی حکمتِ عملی،امریکاکے ساتھ بامقصد مگرخوددار سفارتی مکالمہ،دفاع کے ساتھ تجارت اورسرمایہ کاری کومرکزی حیثیت دینی ہوگی۔پاکستان کوامریکاکے ساتھ تعلقات میں انسدادِ دہشت گردی کے بیانیے سے آگے بڑھ کرمعاشی شراکت داری کی بات کرناہوگی اورسفارت کاری کوادارہ جاتی بنیادوں پراستوارکرناہو گا۔دوسری طرف چین کے ساتھ تعاون میں معاشی اور تکنیکی پہلوکوترجیح دیتے ہوئے خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئیفعال سفارت کاری کافوری آغازکرناہوگا۔
اسی تناظرمیں ایران کے گردبڑھتے ہوئے جنگی خطرات میں بظاہرکمی کے اشارے دئیے جارہے ہیں۔ سفارتی زبان میں یہ عندیہ دیاجارہا ہے کہ معاملہ تصادم کے بجائے گفت و شنیدسے حل کیاجائے گا۔یہ تبدیلی یاتوایرانی حکومت کوبدلنے کی ناکام کوششوں کے بعدامریکی پسپائی کی علامت ہے،یاپھرمشرقِ وسطی میں عرب ممالک، بالخصوص سعودی عرب ،کی طرف سے ایرانی صدرکواپنی سرزمین استعمال نہ کرنے کی یقین دہانی کانتیجہ۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں