Search
Close this search box.
اتوار ,21 جون ,2026ء

بدلتی عالمی بساط اورپاکستان کاامتحان

(گزشتہ سےپیوستہ)
ایران اورمشرقِ وسطی کے حوالے ایران پروقتی سفارتی نرمی،خطے میں آپریشنل اسپیس پیداکرتی ہے۔ ایران کے حوالے سے امریکی سفارتی نرمی خطے میں ایک عارضی سکون کاعندیہ ہے۔ پاکستان، جوایران، عرب دنیااورمغرب تینوں سے تعلقات رکھتاہے،اس مرحلے پرپل کاکردارادا کر سکتاہے بشرطیکہ اس کی سفارت کاری فعال اورمتوازن ہو۔اسٹریٹیجک اسپیس کے اس زریں موقع کومغربی سرحدپر دبائوکم کرنےتوانائی اور لاجسٹکس کے متبادل راستے محفوظ کرنے کے لئے استعمال کرے۔یہ اسپیس عارضی ہی اسے استعمال کرناہو گا۔
یہ معاہدہ پاکستان کیلئے ایک آئینہ بھی ہے کہ عالمی سیاست میں وہی ملک سناجاتاہے جومعاشی طورپر قابلِ اعتبارہو۔محض جغرافیائی اہمیت اب کافی نہیں۔ پاکستان کواپنی تجارت، برآمدات اورسرمایہ کاری کے ماحول کوقومی سلامتی کے تناظرمیں دیکھناہوگا۔ پاکستان کے لئے یہ مرحلہ ردِعمل کانہیں بلکہ دوراندیش فیصلوں کا تقاضا کرتاہے۔قومی سلامتی کااصل تقاضا یہی ہے کہ طاقت کوحکمت کے تابع رکھاجائے،نہ کہ حکمت کوطاقت کے تابع۔ایران کے حوالے سے امریکی لچک پاکستان کے لئے ایک موقع ہے کہ وہ علاقائی رابطہ کاری کوفروغ دے، توانائی اورتجارت کے منصوبوں میں توازن پیدا کرے، خودکوایک ذمہ دار ثالث کے طورپر منوائے ۔ ایران اورمشرقِ وسطیٰ کے حوالے سے حالیہ سفارتی اشارے پاکستان کیلئے ایک موقع فراہم کرتے ہیں کہ وہ ایک پل کاکردار ادا کرے نہ محاذ آرائی،نہ لاتعلقی، بلکہ ذمہ دار ثالثی۔
اس تناظرمیں ہماری ترجیحات واضح ہونی چاہئیں کوالٹی ٹیوایج،الیکٹرانک وارفیئر،آئی ایس آراورملٹی ڈومین ڈیٹرنس صرف روایتی نہیں بلکہ فضائی اورمیزائل دفاع میں اعلی اور برتری کی مثال ہوناضروری ہیں کیونکہ بیانیے کی جنگ میں خاموشی نقصان دہ ثابت ہوتی ہے اوراس کاعملی اظہار انتہائی ضروری ہے جو گاہے بگاہے اپنے تجربات کی روشنی میں دنیا کو آگاہ کرنا ایک بہترین پالیسی ہے۔
سب سے اہم نکتہ داخلی استحکام بطورتزویراتی ضرورت بن چکاہے۔کوئی بھی خارجہ یا دفاعی حکمتِ عملی اس وقت تک بارآورنہیں ہو سکتی جب تک معیشت مستحکم نہ ہو، سیاسی ہم آہنگی موجودنہ ہو، ریاستی بیانیہ واضح اورمتفقہ نہ ہو۔یہ نکات قومی سلامتی کے بنیادی ستون ہیں۔ہمیں یہ حقیقت کبھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ قومی سلامتی صرف سرحدوں پرنہیں بنتی یہ معیشت، سیاست اور سفارت کے باہمی توازن سے وجودمیں آتی ہے۔ داخلی استحکام،سیاسی ہم آہنگی اورواضح قومی بیانیہ ہی ہماری اصل طاقت ہیں۔
مودی کایہ کہناکہ جب دنیاکی دوبڑی معیشتیں اورسب سے بڑی جمہوریتیں مل کرکام کرتی ہیں تواس سے باہمی فائدے کے بےشمار مواقع پیدا ہوتے ہیں درحقیقت عالمی سیاست میں انڈیا کی اس خواہش کی عکاسی ہے کہ وہ خودکوامریکاکے برابر کا شراکت دارثابت کرے، نہ کہ محض ایک علاقائی طاقت۔انڈیااس معاہدے کواپنی عالمی ساکھ کے طورپرپیش کرے گا۔پاکستان کے لئے ضروری ہے کہ وہ دفاعی یاجذباتی ردِعمل کی بجائے ایک سنجیدہ، مدلل اورمہذب بیانیہ تشکیل دے ۔ایسابیانیہ جواسے خطے میں استحکام کی علامت بنے۔جس کے لئے ضروری ہے کہ نیشنل اسٹریٹیجک کونسل کافعال کردار، خارجہ ومعاشی پالیسی کاباہمی انضمام،دفاعی تیاری کے ساتھ سفارتی لچک عالمی بیانیے میں پاکستان کواستحکام کی ریاست کے طورپر پیش کرناہے۔
تاہم اس پوری پیش رفت کواگرگہرائی سے دیکھاجائے تویہ محض دوستی کی کہانی نہیں بلکہ ایک نوراکشتی بھی ہے۔ابتدا ہی میں اس اقدام کوایک سیاسی چال قرار دیاگیاتھا،جودرست ثابت ہوتی نظرآرہی ہے۔ امریکا ایک طرف پاک بھارت کشیدگی میں انڈین طیاروں کی تباہی کاذکردہراکر خطے میں بیانیہ بناتارہا اور دوسری طرف فرانسیسی رافیل طیاروں کی مایوس کن کارکردگی کواجاگرکرکے امریکی اسلحے کی منڈی گرم کرتارہا۔یادرہے کہ کوئی بھی تزویراتی فائدہ اس وقت تک پائیدارنہیں ہوتاجب تک داخلی سیاسی اور معاشی استحکام میسرنہ ہو۔ پاکستان کے لئے سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ خارجہ کامیابیاں اندرونی کمزوریوں کی تلافی نہیں کرسکتیں۔ داخلی استحکام بطورقومی طاقت کااظہارہوتاہے۔
اس بدلتی بساط میں روس ایک بارپھرشش وپنج میں ہے۔یوکرین کے معاملے پریاتواسے مزید خاموشی اختیارکرناہوگی،یاپھرانڈیاکے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات پرنظرثانی کرناپڑے گی۔ تاریخ گواہ ہے کہ روس اور انڈیا کے تعلقات جذبات سے زیادہ مفادات پرقائم رہے ہیں۔یہ معاہدہ نہ صرف امریکااورانڈیاکے درمیان تجارت کاباب ہے بلکہ عالمی سیاست میں طاقت کے توازن کی ایک نئی تحریرہے۔اگریہ کہا جائے توعین درست ہوگاکہ سیاست کے فیصلے وہ نہیں ہوتے جوکہے جائیں،بلکہ وہ ہوتے ہیں جوسمجھے جائیں۔ یہ فیصلہ بھی اسی قبیل سے ہی ظاہرمیں تجارت،باطن میں حکمتِ عملی؛الفاظ میں دوستی،حقیقت میں مفاد۔
یہ مرحلہ ردِعمل کانہیں،پیشگی ہم آہنگی،پیشگی معیار بندی کامرحلہ ہے۔اگرہم نے اس معاہدے کو صرف خبرسمجھا،توہم دیرسے جاگیں گے۔اور اگر ہم نے اسے اسٹریٹیجک سگنل سمجھا ،توہم اگلا قدم خودطے کریں گے۔یہی فرق ہے ری ایکٹوفورس اور اسٹریٹیجک اسٹیٹ میں۔میںیہ وقت جذباتی نعروں کا نہیں،یہ وقت شکایت کانہیں، حکمت وتدبرکا ہے ۔ یہ لمحہ شور کانہیں،یہ لمحہ توازن اورتاریخ سے سیکھنے کاہے،شعورکا ہے۔ اگرپاکستان نے تاریخ کے اس موڑپرخود کو سمجھ لیا،تویہی بدلتی دنیااس کے لئے موقع بن سکتی ہے۔اس مرحلے پردرست زاوئیے سے دنیاکودیکھاتوبدلتی بساط پروہ محض مہرہ نہیں رہے گابلکہ ایک باوقار کھلاڑی کے طورپر پہچاناجائے گااگرہم نے بدلتی دنیاکوسمجھ کرفیصلے کیے،توپاکستان اس نئی عالمی بساط پرمحض ایک تماشائی نہیں رہے گا،بلکہ ایک باوقاراور مؤثر کردارادا کرے گا۔ اوراگرنہ سمجھا،تویہی معاہدے محض دوسروں کی ترقی کی داستان رہ جائیں گے۔اللہ ہمیں درست فیصلوں کی توفیق عطا فرمائے ۔ اللھم آمین

یہ بھی پڑھیں