(گزشتہ سےپیوستہ)
یوں ایک ایٹمی حملہ صرف ایک ملک کانہیں بلکہ پوری دنیاکامشترکہ سانحہ بن جاتاہے،کیونکہ اس کے اثرات سرحدوں اورسمندروں سے ماوراہوکر پوری انسانیت کی تقدیرپراثر انداز ہوتے ہیں۔ گویایہ ایسا پتھر ہے جو اگر عالمی جھیل میں پھینکاجائے تواس کی لہریں دوردور تک پھیلتی چلی جاتی ہیں۔اوریہ بھی یادرکھیں کہ ایران پراس کے اثرات محض عسکری یا جغرافیائی حدوں تک محدود نہ رہیں گے بلکہ اقوام عالم کواس غلطی کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔گویاایک شہرکی تباہی دراصل پوری انسانیت کے مستقبل کولرزادیتی ہے۔
ایران کے پڑوس میں آباد ممالک بھی اس قیامت خیزمنظرنامے سے محفوظ نہیں رہ سکیں گے۔ایران کے گردوپیش پھیلاہوا جغرافیہ بھی اس سانحے سے محفوظ نہ رہ سکے گا۔خلیجی ریاستیں ،جوآج عالمی سیاست کے نازک توازن پرقائم ہیں، جن کی معیشتیں اوربستیاں اسی خطے کی فضائوں سے بندھی ہوئی اورجوآج سیاسی مفادات کے نازک سہارے پرکھڑی ہیں، تابکاری کے اثرات سے کیسے بچ سکیں گی؟ ایران کے ہمسایہ ممالک ترکی اورپاکستان بھی اسی جغرافیائی دائرے میں سانس لیتے ہوئے بدن ہیں،جہاں سرحدیں کاغذی لکیروں سے زیادہ کچھ نہیں ہوتیں۔ہواکی سمتیں اورتابکاری کے بادل کسی سرحدکونہیں پہچانتے اورہواکے دوش پرسفرکرنے والی آفتیں کسی سیاسی معاہدے کی پابند نہیں ہوتیں۔ اورنہ ہی یہ کسی ویزے یاپاسپورٹ کے محتاج ہوتے ہیں۔ایسے میں وہ عرب حکمران بھی اس ہولناک حقیقت کا سامناکرنے پرمجبورہوں گے جنہوں نے سیاسی قربت کے اظہارمیں امریکی قیادت،خصوصاًٹرمپ اوران کے خاندان کوہیرے،موتی، شاہانہ قیمتی تحائف اوراعلیٰ اعزازات سے نوازا۔
اگرآگ بھڑک اٹھی تواس کی تپش دوست اوردشمن دونوں کویکساں جھلساسکتی ہے۔ اگر آگ بھڑک اٹھی تواس کی تپش صرف ایک ملک کونہیں بلکہ پورے خطے کواپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔تاریخ کاسبق یہی ہے کہ جب آگ بھڑکتی ہے تووہ دوست اوردشمن دونوں کی سرحدوں کویکساں جلانے لگتی ہے۔ تاہم اس بحران کاسیاسی پہلوعسکری پہلو سے کہیں زیادہ دھماکہ دارلرزہ خیزہے۔سیاسی اعتبارسے اس بحران کی گونج اوربھی زیادہ شدیدہوسکتی ہے۔ چند روزقبل ٹرمپ اورروسی صدر پوتن کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو اسی اضطراب اورتشویش کی علامت ہے۔ روس نےاس جنگ کے امکانات پرسخت تحفظات کا اظہار اورگہری تشویش ظاہرکرتے ہوئےفوری جنگ بندی کا مطالبہ کیاہے۔عالمی سیاست کے ایوانوں میں یہ احساس تیزی سے پھیل رہاہے اوران کےایوانوں میں یہ پیغام صاف سنائی دے رہاہے کہ اگراس آگ کوابھی نہ روکاگیا تویہ ایک ایسا شعلہ بن سکتی ہے جو پورے عالمی نظام کوبھی اپنی گرفت میں لے سکتی ہیں اوراگراس شعلے کوابھی نہ بجھایا گیاتویہ محض ایک علاقائی بحران نہیں رہے گابلکہ عالمی نظام کی بنیادوں کوہلادینے والاطوفان اورمعاشی ستونوں کوہلادینے والازلزلہ ثابت ہوسکتاہے۔
اسی تناظرمیں یہ اطلاعات بھی گردش کررہی ہیں کہ روس اورچین اس بحران پر مسلسل رابطے میں ہیں۔بیجنگ نے واضح الفاظ میں واشنگٹن کوجنگ روکنے کامشورہ دیاہے اورایران کی اعلیٰ قیادت کوممکنہ امریکی حملے میں نشانہ بنانےکی اطلاعات پرسخت تشویش اورناراضی کااظہارکیاہے۔چین اورروس کےبیانات اس بات کاعندیہ دیتےہیں کہ عالمی طاقتیں اس خطرے کو محسوس کررہی ہیں جو اگربے قابوہوگیاتوزمین کی سیاست ایک نئے اورخطرناک موڑپرپہنچ سکتی ہے۔عالمی سفارت کاری کے پردوں کے پیچھے ایک خاموش مگر نہایت فیصلہ کن کشمکش اوراہم مکالمہ جاری ہے،سفارت کاری کے ایوانوں میں اگرچہ الفاظ دھیمے ہوتے ہیں،مگر ان کے معنی بہت دورتک سفرکرتے ہیں۔بظاہرخاموش میزوں کے گردبیٹھے ہوئے سفارت کاردراصل اس آگ کے گردحصار باندھنے کی کوشش کر رہے ہیں جواگر بےقابوہوگئی توپوری دنیاکواپنی لپیٹ میں لےسکتی ہے۔جہاں بڑی طاقتیں اس خطرے کو بھانپ رہی ہیں کہ عقل وتدبر کاچراغ بجھ گیاتوطاقت کی تلواریں دنیا کو اندھیرے میں دھکیل سکتی ہیں اوراگر طاقت کی سیاست نے عقل کی رہنمائی کھودی تودنیاایک نئی تباہی کے دہانے پرجا کھڑی ہوگی۔
بعض تجزیوں میں یہ امکان بھی زیرِ بحث آرہا ہے کہ اگرحالات مزیدبگڑتے ہیں توروس ایران کواپنی جوہری چھتری کے دائرے میں لے سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوگاکہ ایران پر مزید جوہری حملہ دراصل روس کےخلاف ایٹمی جارحیت تصورکیاجائےگا۔ایسی صورت میں عالمی سیاست کاتوازن لمحوں میں ٹوٹ سکتاہے اوردنیاایک بارپھراس مقام پرپہنچ سکتی ہے جہاں تیسری عالمی جنگ کے سائے نمایاں ہونے لگتے ہیں۔یہ وہ لمحہ ہوگاجب انسانیت کواپنی تاریخ کے آئینےمیں جھانک کرفیصلہ کرناہوگاکہ آیاطاقت کے غرورکوترجیح دی جائے یاعقل وتدبر کی روشنی کو۔
یادرہےکہ جہاں تاریخ ہمیں متنبہ کرتی ہے کہ جنگ کے طبل بجانے والے اکثراس کی ہولناکیوں سے بےخبرہوتے ہیں،مگرجب بارودکی بو فضاء میں پھیلتی ہے تو انسانیت کاپوراقافلہ اس کی قیمت اداکرتاہے۔یہ وہ مرحلہ ہےجہاں تاریخ انسانیت کو خبردار کرتی ہے کہ طاقت کےنشےمیں کئے گئے فیصلے اکثر تہذیبوں کوملبے میں بدل دیتے ہیں۔
اس تمام منظرنامے میں اصل سوال طاقت کا نہیں بلکہ عقل وانسانیت کاہے۔اگرعالمی قیادت نے ہوش کےچراغ کوروشن نہ رکھاتومشرقِ وسطیٰ کی یہ چنگاری ایک ایسی آگ میں بدل سکتی ہےجوصرف ایک خطے نہیں بلکہ پوری دنیاکی تقدیرکواپنی لپیٹ میں لے لے۔تاریخ کاسبق یہی ہے کہ جنگ کی راہ بظاہر مختصر اورپرجوش دکھائی دیتی ہے،مگراس کے انجام کی منزل ہمیشہ طویل اندھیروں میں گم ہوجاتی ہے۔تاریخ ہمیں بارباریہ سبق دیتی ہے کہ جنگ کے فیصلے اکثرجوش میں کئے جاتے ہیں،مگران کی قیمت ہمیشہ انسانیت کو ہوش میں آکراداکرناپڑتی ہے۔انسانیت کی بقاء اسی میں ہے کہ طاقت کے ایوانوں میں بیٹھے ہوئے فیصلے کرنے والے یہ یادرکھیں کہ ایک لمحے کی غلطی کبھی کبھی صدیوں کی پشیمانی بن جاتی ہے۔
جنگ کے طبل بظاہرقوت کااعلان ہوتے ہیں، مگرتاریخ بتاتی ہے کہ ان کی گونج اکثرتہذیبوں کے ملبے میں گم ہوجاتی ہے۔تاریخ کاسبق یہی ہے کہ طاقت کی راہ بظاہرمختصر دکھائی دیتی ہے،مگراس کے انجام کی منزل ہمیشہ طویل اندھیروں میں گم ہوجاتی ہے۔اگرعالمی قیادت نے دانش مندی کاچراغ روشن رکھاتویہ بحران بھی تاریخ کے صفحات میں ایک آزمائش کے طورپردرج ہوجائے گا، لیکن اگر جذبات نے عقل پرغلبہ پالیاتو مشرقِ وسطیٰ کی یہ چنگاری ایک ایسی آگ بن سکتی ہے جس کی لپٹیں پوری دنیاکے آسمان کوسرخ کر دیں۔
انسانیت کی بقااسی میں ہے کہ دنیاکے رہنما طاقت کے غرورکے بجائے عقل،تدبراورامن کی راہ اختیار کریں، کیونکہ ایک لمحے کی غلطی کبھی کبھی صدیوں کی پشیمانی بن جاتی ہے۔ان تمام امکانات اوراندیشوں کے درمیان انسانیت کے سامنے اصل سوال یہی ہے کہ کیادنیا طاقت کے نشے میں تاریخ کے سب سے بھیانک تجربے کودوبارہ دہرانے کی متحمل ہوسکتی ہے؟اگرعالمی قیادت نے دانش،تدبر اورسفارت کاری کاچراغ روشن نہ رکھا تومشرقِ وسطیٰ کی یہ چنگاری ایک ایسی آگ میں بدل سکتی ہے جس کی لپٹیں صرف ایک خطے نہیں بلکہ پوری دنیاکی تقدیر کواپنی گرفت میں لے لیں گی۔