Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

اسلام آباد اکارڈ کو نئے سپریم لیڈر کی آشیرباد

پاکستان کی کوششیں بالآخر بار آور ثابت ہوئیں اور خلیجی جنگ دو ہفتوں کے لیئے رک گئی۔بڑی کامیابی ہےکہ دنیاسےایک بڑی جنگ اور معاشی بحران کا خطرہ ٹل گیا- دنیا نے بھی سکھ کا سانس لیا۔اس حوالےسےوزیراعظم پاکستان شہباز شریف اورفیلڈمارشل عاصم منیر نے شبانہ روز جو محنت کی،وہ تاریخ میں یاد رکھی جائے گی- فیلڈ مارشل اور وزیر اعظم نے 7 اپریل کی رات جاگ کر گزاری- ایران کو تباہ کرنےکے امریکی الٹی میٹم کے بعد 8 اپریل کی صبح بالآخر دنیا کو وہ سندیسہ ملا،جس کی وہ منتظر تھی۔جنگ بندی کے بعد 11 اپریل کو اسلام آباد میں ایک بڑی بیٹھک ہونے جا رہی ہے۔اس ”بیٹھک“ کی میزبانی پاکستان کے حصے میں آئی ہےجبکہ چین،سعودی عرب،مصر،ترکیہ اورقطر کی بھی پوری معاونت اس بیٹھک کو حاصل ہو گی۔ایران اور امریکہ سے بھی اعلیٰ سطح کے وفود ”اسلام آباد اکارڈ“ کے لیے پاکستان کے کیپٹل اسلام آباد میں موجود ہیں-چین، سعودی عرب، مصر اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ کی بھی آمد ہوچکی ہے- توقع کی جارہی ہے ایران اور امریکہ کے مابین ہونے والے یہ مذاکرات بڑے بامقصد اور بامعنی ہوں گےجس سے خلیج میں امن کا پائیدار راستہ کھلے گا اور تنازعات کےحل کی راہ ہموار ہو گی-ایران کی بات کریں تو جنگ کے دوران پاسدارانِ انقلاب اور ایرانی قیادت نے بڑی ثابت قدمی کامظاہرہ کیا- امریکہ اوراسرائیل جیسے ایٹمی ملکوں کے سامنے 38 دن تک پامردی سے ڈٹے رہے،کسی بھی موقع پر سرنگوں نہ ہوئے- ایران کی کمان اس وقت سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے پاس ہے۔ اپنی تعیناتی کے بعد سے اب تک وہ قوم یا میڈیاکےسامنے نہیں آئےتاہم اُن کا ایک آڈیو پیغام کسی نامعلوم شخص کی آواز میں ضرور منظرِعام پرآیاجس میں وہ قوم کو محبت و یگانگت اور بہادری کے ساتھ دشمن کے سامنے ڈٹے رہنے کا درس دیتے ہوئے دکھائی دیئے۔ سرکاری اور نجی الیکٹرانک میڈیا نے دن میں باربار اس پیغام کو قوم تک پہنچایا-ایران، امریکہ،اسرائیل تنازعہ سے خطے میں جو کشیدگی پیدا ہوئی اور اُس میں جو شدت آئی اس کے اثرات نے ناصرف خطے کے ممالک بلکہ دنیا بھر کو متاثر کیا جس سے گھمبیر معاشی بحران بھی پیدا ہوا۔پاکستان بھی اس شدید معاشی بحران سے متاثر ہوئےبغیر نہ رہ سکا-ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے متعلق بہت سی متضاد خبریں منظر عام پر آتی رہیں- مغربی میڈیا اس پروپیگنڈہ مہم میں سب سے آگے رہا- وہ دنیا کو باور کراتا رہا کہ مجتبیٰ خامنہ ای شدید زخمی اور بے ہوشی کی حالت میں ہیں- اُن کے منظر عام پر نہ آنے سے بھی اس پروپیگنڈہ کو تقویت مل رہی تھی کہ مغربی میڈیا جو کہہ رہا ہے شاید وہ سچ پر مبنی ہے- تاہم ایرانی قیادت کاکہنا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای بالکل خیریت سے ہیں-حملوں کے پیش نظر انہیں کسی خفیہ مقام پر رکھا گیا ہے- زیر زمین اس لیے ہیں کہ دشمن انہیں کوئی نقصان نہ پہنچا سکے۔ایران نے سپریم لیڈر کے زخمی یا بے ہوشی کی حالت میں ہونے کی بھی سختی سے تردید کی-مجتبیٰ خامنہ ای کون ہیں؟ آئیے، اُن کے بارے میں جانتے ہیں۔56 سالہ مجتبیٰ خامنہ ای شیعہ عالم دین ہیں۔ 8 ستمبر 1969ء کو ”مشہد“ میں ایران کے تیسرے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے گھر پیدا ہوئے۔انہیں آیت اللہ خامنہ ای کے دوسرے فرزند ہونے کا بھی شرف حاصل ہے۔دنیا میں آج انہی کے نام کا چرچا اور گونج ہے- مجتبیٰ خامنہ ای نے ابتدائی تعلیم سردشت اور مہاباد میں حاصل کی۔پھر تہران چلے آئے جہاں مدرسہ علوی میں ثانوی تعلیم کا حصول ممکن ہوا۔بعد ازاں اپنے والد اور مشہور عالم دین محمود ہاشمی شاہرودی کی شاگردی اور رہنمائی میں اسلامی علوم سیکھے۔
1987ء میں سپاہ پاسداران انقلاب میں شامل ہو گئے۔ایران، عراق جنگ کے دوران اسی پلیٹ فارم سے عسکری خدمات انجام دیں۔ 1999ء میں مزید دینی تعلیم کے لیے ”قم“ کے حوزۂ علمیہ میں داخلہ لے لیا۔جہاں وہ مصباح یزدی، محسن فرازی اور لطف اللہ صافی گلپایگانی جیسے جید علماء سے فیض یاب ہوئے- بعد میں اسی تدریسی ادارہ میں دینیات کے استاد بن گئے۔اُن کی شادی معروف ایرانی سیاستدان حداد عادل کے ہاں ہوئی- جن کی صحبت میں انہوں نے سیاست کے اسرار و رموز سیکھے۔بتایا جاتا ہے کہ ان ایام میں مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کے سیکورٹی اداروں میں خاصا اثرورسوخ حاصل تھا-یہ بھی کہا جاتا ہے کہ انہوں نے 2009ء کے صدارتی انتخاب کے بعد ہونے والے احتجاج کو دبانے میں اپنا کردار ادا کیا- اس طرح 2025ء میں پیش آنے والے ایک بڑے اور غیر معمولی قتل عام میں بھی اُن کے نام کی گونج سنائی دی-2005ء میں ایک بہت ہی معروف ایرانی سیاستدان مہدی کروبی نے مجتبیٰ خامنہ ای پر صدارتی انتخابات میں مداخلت کا الزام لگا کر انہیں ہدف تنقید بھی بنایا- 2019ء میں امریکی وزارت خزانہ نے مجتبیٰ خامنہ ای کو اُن کے والد سے وابستہ افراد کے ساتھ پابندیوں کی فہرست میں شامل کر دیا۔سیاسی نظریات اور فقہی مؤقف کے اعتبار سے مجتبیٰ خامنہ ای کو سخت گیر مؤقف رکھنےوالے دھڑے کے افراد میں شمار کیا جاتا ہے۔وہ انتہائی نظریاتی مؤقف رکھنے والےعلماء سےبھی قریبی تعلق رکھتے ہیں۔بعض تجزیہ کاروں کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کے مقابلے میں ایران کے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کی ترویج و ترقی کے زیادہ حامی سمجھےجاتے ہیں۔جوہری پروگرام کی حمایت میں ہمیشہ نمایاں اور پیش پیش رہے ہیں-لیکن موجودہ صورتحال،ایران اور امریکہ کے مابین ہونے والی جنگ بندی جبکہ اسلام آباد ایکارڈ میں پیش کئےجانےوالےنکات میں سےاہم نکتہ جوہری یورنیم کابھی ہے۔دیکھنااب یہ ہے کہ ایران جوہری یورنیم سے دستبردار ہوتا ہے یا اس پروگرام کو جاری رکھنے پر اصرار کرتا ہے۔اسلام آباد اکارڈ کا اعلامیہ جاری ہونے پر ہی ساری صورت حال واضح ہو گی۔اسلام آباد میں انعقاد پذیر ایران،امریکہ مذاکرات کو ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی بھی مکمل تائید و حمایت حاصل ہےلہٰذا یہ بات اب مسلمہ ہے معاہدے میں جو طے پائے گا،دونوں طرف کی حکومتیں اُس پر پوری طرح عمل پیرا ہوں گی،یوں دنیا میں گہرے امن کا راستہ ہموار ہو سکے گا-

یہ بھی پڑھیں