Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

جنگ کے سائے میں امن کی تلاش

زمانہ اپنی کروٹیں بدل رہاہےاورتاریخ کے اوراق پرایک نئی تحریررقم ہونےکوہے۔مشرقِ وسطیٰ کی سرزمین،جوصدیوں سےتہذیبوں کے عروج وزوال کی گواہ رہی ہے،ایک بار پھر عالمی طاقتوں کی کشمکش کا میدان بنی ہوئی ہے۔زمانہ اپنی کروٹیں بدل رہاہے اور تاریخ اپنے سینے میں ایک نئی کہانی کوجنم دینے کے لئے بے چین دکھائی دیتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی وہ سرزمین ،جہاں کبھی تہذیبوں کاچراغ روشن ہوئےاورجہاں سے علم وحکمت کے قافلے روانہ ہوئے،آج پھربارود اور خون کی مہک سے آلودہ ہے۔ایران پراسرائیل اورامریکا کے حملوں نے عالمی سیاست کوایک ایسے موڑپر لاکھڑا کیا ہےجہاں ہرموج اپنےاندرایک ایساطوفان سموئے ہوئے ہےجہاں ہرفیصلہ آنےوالے برسوں کی سمت متعین کرے گا۔یہ محض جنگ نہیں بلکہ قوت اوراخلاق، مفاد اوراصول اورجارحیت ومفاہمت کے درمیان ایک فکری معرکہ بھی ہے ۔
عالمی سیاست کےافق پراس وقت ایک ایسا ہنگامہ ہستی برپاہےجس میں بارودکی بو، سفارتکاری کی لطافت اورطاقت کےتوازن کی کشمکش ایک ساتھ جلوہ گرہیں۔ایران پر اسرائیل اورامریکا کے شدیدحملوں نےجہاں مشرقِ وسطیٰ کوایک آتش فشاں کےدہانے پرلاکھڑا کیا ہے،وہیں اسلام آباد کی خاموش مگر پراثرسفارتکاری نےعالمی نگاہوں کو اپنی جانب منعطف کرلیاہے۔بظاہریہ ایک جنگ ہےمگردرحقیقت یہ عالمی قیادت کےنئے معیارات کی تشکیل کالمحہ بھی ہے۔
اسی ہنگام آشوب میں پاکستان کاکردارایک چراغِ امیدکی مانندابھررہاہے ،ایک ایساچراغ جو اندھیروں میں راستہ دکھانےکی سکت رکھتاہے۔ اقوام عالم نےیہ تسلیم کیاہےکہ پاکستان کا کردار ایک ایسے صاحبِ بصیرت ثالث کےطورپر ابھر رہا ہےجونہ صرف حالات کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ انہیں سنوارنےکی بھی سکت رکھتاہے۔اس بحران کےبیچ پاکستان نے ثالثی کی جوسبیل نکالی ہے،وہ محض ایک سفارتی چال نہیں بلکہ ایک فکری وتہذیبی روایت کی بازگشت ہے،وہ روایت جو مفاہمت، توازن اورحکمت کی امین رہی ہے۔ ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی کےبیانات سے اگرچہ یہ عندیہ ملتا ہے کہ فی الوقت تہران مذاکرات کے لئےآمادہ نہیں،تاہم پسِ پردہ پیغامات کاتبادلہ اس امرکی غمازی کرتاہے کہ سفارتی دریچے ابھی مکمل طورپربندنہیں ہوئے۔ اس سارے منظرنامے میں امریکا کی جانب سے پاکستان کی کوششوں کی تائید ایک غیرمعمولی پیشرفت ہے جو اس کے کردارکومحض علاقائی نہیں بلکہ عالمی سطح پر معتبر بناتی ہے۔
ایران اورمغربی طاقتوں کےدرمیان کشیدگی کوئی نئی داستان نہیں،ایران اورمغربی طاقتوں کےدرمیان کشمکش کی جڑیں گہری ہیں۔یہ تنازع صرف حالیہ واقعات کانتیجہ نہیں بلکہ دہائیوں پرمحیط عدم اعتماد،نظریاتی اختلاف اورجغرافیائی مفادات کاحاصل ہے۔ اسرائیل کی عسکری کارروائیاں اورامریکاکی غیر مشروط حمایت نے اس آگ کو مزید بھڑکا دیاہےبلکہ حالیہ تصادم نےاسےایک فیصلہ کن مرحلےمیں داخل کردیاہے۔یہ جنگ محض سرحدوں کی نہیں بلکہ بیانیوں کی جنگ ہے۔اسرائیل کی عسکری پیش قدمی اورامریکاکی پشت پناہی نےاس تنازع کومحض علاقائی نہیں بلکہ عالمی بحران میں بدل دیاہے۔یہ جنگ صرف سرحدوں کی نہیں بلکہ بیانیوں کی بھی ہے ایک طرف طاقت کاغرور،مغربی طاقتوں کاتسلط پسندبیانیہ اور دوسری طرف ایران کاخودمختاری اور مزاحمت کافلسفہ،اس جنگ کودنیاکی تباہی کی طرف لے جارہا ہے۔
ایسےنازک وقت میں اسلام آبادکی سفارتکاری ایک غیرمعمولی اہمیت اختیارکرگئی ہے۔ اسلام آبادآج محض ایک دارالحکومت نہیں بلکہ ایک سفارتی مرکزکی صورت اختیارکر چکا ہے۔پاکستان نےجس حکمت،تحمل اورتدبر کےساتھ ثالثی کی راہ اختیارکی ہے،وہ اس کی سیاسی بصیرت کاآئینہ دار ہے۔یہ وہی سرزمین ہےجہاں کبھی عالمی طاقتوں کے درمیان خاموش معاہدے طے پاتے رہے اورآج بھی وہی روایت نئے رنگ میں جلوہ گر ہے ۔ دنیاکی نظریں یہاں مرکوز ہیں،اوردلی کے ایوانوں میں اس پیش رفت پرتشویش کی لہریں دوڑرہی ہیں۔ بھارتی مبصرین کے لئے یہ ایک کربناک حقیقت ہےکہ جس ملک کووہ طعن وتشنیع کاہدف بناتے رہے،وہی آج عالمی امن کی امیدبن کر ابھررہاہے۔بین الاقوامی نظام اسوقت ایک عبوری دورسے گزررہا ہے۔ سردجنگ کے بعدقائم ہونےوالایک قطبی نظام اب اپنی افادیت کھو رہا ہے اورایک کثیرالقطبی دنیاکی تشکیل ہورہی ہے۔ اس نئی دنیامیں علاقائی طاقتوں کاکرداربڑھ رہاہے اور پاکستان انہی ابھرتی ہوئی قوتوں میں شامل ہوتادکھائی دےرہاہے۔
بھارتی اپوزیشن کےرہنماششی تھرورکی آواز اس بےچینی کی آئینہ دارہے۔ان کایہ اعتراف کہ بھارت کوبھی امن مذاکرات میں پہل کرنی چاہیے تھی،دراصل ایک کھوئے ہوئے موقع کا نوحہ ہے۔ پاکستان، مصراورترکی کی پیش قدمی نےجہاں امن کے امکانات کوجلابخشی ہے ،وہیں بھارت کی سفارتی سستی اورناکامی کوبھی نمایاں کردیاہے۔ گویاتاریخ نےایک بار پھر ثابت کیاکہ جوقومیں وقت کے تقاضوں کونہیں سمجھتیں،وہ مواقع کے قافلے سے پیچھے رہ جاتی ہیں۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ایک خاص لطافت ہمیشہ سے موجودرہی ہے،وہ لطافت جو توازن،احتیاط اورمکالمے پرمبنی ہے۔ایران کے ساتھ برادرانہ تعلقات اورامریکا کے ساتھ اسٹریٹجک روابط نےاسےایک ایسامنفردمقام عطا کیاہےجہاں سے وہ دونوں فریقوں کے درمیان پل بن سکتا ہے۔یہی وہ وصف ہےجوکسی بھی ثالث کومعتبربناتاہے۔اسلام آباد آج محض ایک انتظامی دارالحکومت نہیں بلکہ سفارتی حکمت کامرکزبن چکاہے۔ یہاں ہونے والی ملاقاتیں، خفیہ پیغامات اور پس پردہ روابط اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان عالمی سطح پرایک سنجیدہ اورذمہ دار کرداراداکرنے کے لئے تیار ہے ۔پاکستان کی سفار تکاری ہمیشہ ایک خاص توازن کی حامل رہی ہے۔یہ نہ تومکمل طور پر کسی ایک بلاک کاحصہ بنتی ہے اورنہ ہی خود کوتنہائی کاشکارہونےدیتی ہے۔یہی اعتدال اسےایک قابلِ اعتمادثالث بناتا ہے۔فیلڈ مارشل عاصم منیرکا بطورثالث ابھرنامحض ایک فردکی کامیابی نہیں بلکہ ریاستی عزم اورادارہ جاتی ہم آہنگی کامظہرہے۔واشنگٹن اورتہران کےدرمیان پل کاکرداراداکرناایک ایساکارنامہ ہےجوپاکستان کی سیاسی بصیرت اورعلاقائی اہمیت کودوچند کردیتاہے۔یہ وہ لمحہ ہےجب تاریخ اپنےاوراق میں ایک نئےباب کا اضافہ کر رہی ہے۔امریکاکی جانب سے پاکستان کی ثالثی کی حمایت ایک غیرمعمولی پیش رفت ہے۔یہ محض ایک سفارتی بیان نہیں بلکہ ایک اعتمادکا اظہارہےوہ اعتمادجوبرسوں کی شراکت داری اور باہمی مفادات کےنتیجے میں پروان چڑھاہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کایہ جھکائوپاکستان کےلئےایک سفارتی سرمایہ ثابت ہوسکتاہےجبکہ ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی کایہ کہناکہ ایران فی الحال مذاکرات کاخواہاں نہیں، بظاہر ایک سخت موقف معلوم ہوتا ہے مگرسفارت کاری کی زبان میں یہ ایک دروازہ بند ہونے کےساتھ ساتھ کئی کھڑکیوں کے کھلے رہنے کا اشارہ بھی ہوتا ہے۔دراصل سفارتی زبان کا ایک نازک پہلو ہے۔ بسااوقات انکارکے پردے میں اقرارکی رمق چھپی ہوتی ہے۔ پیغامات کاتبادلہ اس بات کی دلیل ہےکہ دروازے مکمل طورپر بند نہیں ہوئے۔ پیغامات کا تبادلہ اس بات کی دلیل ہےکہ پسِ پردہ سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں۔
بھارت میں اس پیشرفت پرجواضطراب پایا جاتا ہےوہ اس کے اندرونی خدشات کی عکاسی کرتاہے۔یہ وہ لمحہ ہےجب ایک حریف کی کامیابی دوسرے کےلئے سوالیہ نشان بن جاتی ہے۔ بھارت میں اس پیشرفت پرجو ردعمل سامنے آرہاہے،وہ محض سیاسی بیان بازی نہیں بلکہ ایک گہری تشویش کااظہارہے۔ (جاری ہے )

یہ بھی پڑھیں