Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

خاموش سفارت کی بازگشت

(گزشتہ سے پیوستہ)
پاکستان کی جانب سے بظاہرخاموشی اختیار کرنا ایک معنی خیزحکمت عملی اوردانشمندانہ سکوت معلوم ہوتا ہے، جس میں شایدغوروفکر کی گونج پوشیدہ ہے۔ سفارتکاری میں بعض اوقات خاموشی ہی سب سے بلیغ بیان ہوتی ہے اورالفاظ سے زیادہ خاموشی بولتی ہے اور سفارتکاری کے میدان میں یہ خاموشی اکثرحکمت کاپیرہن اوڑھے ہوتی ہے۔یہ خاموشی شایداس بات کی غمازہے کہ پس پردہ سنجیدہ غور وفکرجاری ہے اورکسی حتمی موقف سے قبل تمام پہلوئوں کاباریک بینی سے جائزہ لیاجارہاہے۔
اگرچہ مذاکرات میں اعلیٰ سطح کے نمائندے شریک نہیں تھے،تاہم سفیروں کی ملاقاتیں اورمثبت بیانات اس بات کاثبوت ہیں کہ پس پردہ ایک سنجیدہ پیش رفت اورسفارتی عمل جاری وساری ہے۔تاہم یہ وہ خاموش سفارتکاری اورسفارتی روابط کاتسلسل ہے جواس بات کا عندیہ ہے کہ پس پردہ ایک سنجیدہ پیش رفت جاری ہے۔سفیروں کی ملاقاتیں اورمثبت بیانات اس خاموش سفارتکاری کے مظاہر ہیںی۔یہ وہ خاموش سفارتکاری ہے جواکثر بڑے فیصلوں کی بنیادبنتی ہے اورجس کے اثرات فوری طور پرنہیں بلکہ بتدریج ظاہرہوتے ہیں۔ امید کی جاسکتی ہے کہ آنے والے مراحل میں یہ مذاکرات مزیداعلیٰ سطح تک پہنچیں گے۔
دوسری جانب پاکستان کاسکیورٹی بیانیہ اپنی جگہ واضح اوردوٹوک ہے۔دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشن اس امرکی دلیل ہے کہ پاکستان اس مسئلے کومحض سیاسی اورعارضی خطرہ نہیں بلکہ اپنی بقاء سے جوڑ کر دیکھتا ہے۔افغان سرزمین کے پاکستان کیخلاف استعمال کا مسئلہ محض ایک شکایت نہیں بلکہ ایک دیرینہ خدشہ ہے جو دونوں ممالک کے تعلقات پرسایہ فگن رہا ہے جواب ایک مطالبے کی صورت اختیارکرچکاہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کابنیادی نکتہ یہی ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو یہ مطالبہ دراصل قومی سلامتی کااستعارہ ہے۔
افغانستان کی جانب سے آنے والے مثبت بیانات اس بات کی علامت ہیں کہ وہ بھی اس مسئلے کے حل کے لئے سنجیدہ ہے۔امیرخان متقی کے الفاظ میں امیدکی کرن اوراعتدال کی جھلک ملتی ہے کہ معمولی اختلافات اس عمل کی راہ میں دیوارنہیں بنیں گے،جواس امر کا ثبوت ہے کہ دونوں فریق اب تصادم کی بجائے تعاون کی راہ پرگامزن ہوناچاہتے ہیں۔یہ بیان دراصل جہاں اس حقیقت کااعتراف ہے کہ اختلافات فطری ہیں،مگران کاحل ہی اصل دانشمندی ہے وہاں افغانستان کی جانب سے مثبت بیانات اس بات کی علامت ہیں کہ وہ بھی اس مسئلے کے حل کے لئے سنجیدہ ہے۔امیرخان متقی کے الفاظ میں ایک امیدجھلکتی ہے ،ایسی امیدجواگرعملی اقدامات میں ڈھل جائے توخطے کے لئے ایک نئی صبح کا آغاز ہو سکتا ہے۔
قطرمیں افغان ترجمان سہیل شاہین کامحتاط بیان سفارتی نزاکت کاآئینہ دارہے۔تجزیہ نگاروں کے مطابق اس بارمذاکرات میں فریقین کا رویہ نسبتاًنرم اور شائستہ رہا،جوخوش آئند تبدیلی کاثبوت ہے کہ دونوں ممالک اب ماضی کی تلخیوں کوپس پشت ڈال کرمستقبل کی طرف دیکھناچاہتے ہیں۔گویاتلخ یادوں کے باوجودمستقبل کی طر ف ایک مثبت قدم بڑھایا جا رہا ہے۔
گزشتہ اکتوبرکی کشیدگی اس خطے کی تاریخ کے ناقابل یقین اورافسوس کے وہ اہم لمحات ہیں جب دو برادرمسلم ممالک کے درمیان دشمن اپنی چالوں میں کامیاب رہااورکشیدگی،فضائی حملے اورجوابی کارروائیوں نے اس خطے کی تاریخ کے وہ ابواب رقم کئے جوخون آلود سطروں سے لکھے گئے۔یہ اس امرکی یاددہانی ہیں کہ جنگ کاراستہ ہمیشہ تباہی کی طرف لے جاتا ہے۔یہی تجربہ اب دونوں ممالک کو مذاکرات کی اہمیت کااحساس دلارہاہے۔ یہی پس منظران مذاکرات کومزیداہم بناتاہے،کیونکہ یہ محض حال کانہیں بلکہ ماضی کے زخموں کا بھی مداواہیں۔سرحدی بندش اورتجارتی تعطل نے دونوں ممالک کومعاشی اورسماجی سطح پرشدیدمتاثر کیا ۔ تجارت کا رک جانادراصل زندگی کی روانی کارک جانا،عوامی زندگی کے لئے جان لیواثابت ہورہا ہے اوریہی احساس اب دونوں فریقین کومکالمے کی میزتک لے آیاہے اوراب دونوں ممالک اس حقیقت کوتسلیم کررہے ہیں کہ معاشی روابط کوسیاسی اختلافات سے الگ رکھنا ضروری او ر ناگزیر ہے۔
اگرچہ باضابطہ اعلامیہ سامنے نہیں آیا،مگر سات روزہ مذاکرات اس بات کاثبوت ہیں کہ بات چیت سنجیدگی سے ہوئی۔یہ محض رسمی ملاقاتیں نہیں بلکہ ایک مسلسل مکالمہ تھاجس میں دونوں فریقین نے اپنے موقف کھل کربیان کئے۔یہ محض رسمی نشستیں نہیں بلکہ ایک مسلسل اورگہرامکالمہ تھا۔سات دن کامسلسل مکالمہ اس بات کاثبوت ہے کہ دونوں فریق سنجیدگی سے حل کے متلاشی ہیں۔
پاکستان کامؤقف واضح ہے کہ وہ افغانستان میں موجود شدت پسندگروہوں کے خلاف ٹھوس کارروائی چاہتاہے جوایک عرصہ درازسے دشمن ملک کی پراکسی وار کا آلہ کاربنے ہوئے ہیں اورپاکستان میں دہشت گردانہ کاروائیوں میں نہ صرف ملوث ہیں بلکہ ان حملوں کی مکمل ذمہ داری بھی قبول کرتے ہیں۔پاکستان کایہ مطالبہ اس کے داخلی امن اوراستحکام سے جڑا ہوا ہے۔اس مسئلے کوحل کیے بغیرکسی بھی قسم کی پیش رفت ممکن نہیں۔یہ مطالبہ محض سیاسی دبانہیں بلکہ ایک مسلسل تجربے کانچوڑہے اوریہ مطالبہ اس کے داخلی امن سے جڑاہواہے اور اس کے بغیرکسی بھی قسم کی پیش رفت ممکن نہیں۔
تحریک طالبان پاکستان کے حوالے سے پاکستان کاموقف نہایت واضح ہے۔اسے دہشت گرد تنظیم قراردینااوراس کے نیٹ ورک کوختم کرنا وہ اقدامات ہیں جواعتماد کی بحالی کے لئے ضروری اقدامات ہیں۔ تحریک طالبان پاکستان کے حوالے سے پاکستان کا اصرار دراصل اس کے داخلی امن کاتقاضاہے۔جنگ بندی اور سرحدپارحملوں کی روک تھام ایسے نکات ہیں جوکسی بھی پائیدارامن کے لئے ناگزیرہیں۔اب اصل کسوٹی عملدرآمدہے۔اگریہ مذاکرات اگلے مرحلے میں اعلیٰ سطح تک پہنچتے ہیں تویہ اس بات کی دلیل ہوگی کہ ابتدائی بیج نے جڑ پکڑ لی ہے اوریہی ان مذاکرات کی ایک بڑی کامیابی ہوگی۔بصورت دیگر یہ بھی ماضی کی ناکام کوششوں کی فہرست میں شامل ہوسکتے ہیں۔دیگرشدت پسند تنظیموں کامسئلہ بھی اسی زنجیرکی کڑیاں ہیں۔جب تک ان عناصرکی سرگرمیاں کم نہیں ہوتیں،اعتمادکی فضامکمل طور پرقائم نہیں ہوسکتی۔ان کی سرگرمیوں میں کمی ہی اس بات کاثبوت ہوگی کہ مذاکرات کامیاب ہورہے ہیں۔بالآخر، یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ نہ پاکستان طویل جنگ کامتحمل ہوسکتاہے اورنہ افغانستان۔ امن ہی وہ واحدراستہ ہے جودونوں کو استحکام کی منزل تک لے جا سکتا ہے۔ماضی کی ناکام کوششیں اس بات کی یاددہانی ہیں کہ صرف مذاکرات کافی نہیں،بلکہ نیت،اعتماد اورعمل کاامتزاج انتہائی ضروری ہے۔تحریری ضمانت کامطالبہ اوراس پراختلاف،گزشتہ ناکامیوں کی ایک بڑی وجہ رہا۔یہی وہ نکتہ ہے جہاں دونوں فریقین کے درمیان اعتمادکی کمی اوراختلاف واضح اورنمایاں ہوجاتاہے۔ پاکستان کا مطالبہ اور افغان طالبان کا مؤقف دراصل دومختلف زاویہ ہائے نظرکی عکاسی کرتے ہیںایک سلامتی کے تناظرمیں سوچتاہے،اوردوسرا خودمختاری اورنظریاتی وابستگی کے پس منظرمیں۔
اورمچی مذاکرات اس طویل داستان کاایک نیا باب ہیں اورچین کی ثالثی نے اس عمل کوایک نئی جہت دی ہے۔اگریہ سلسلہ اسی سنجیدگی سے جاری رہاتوبعید نہیں کہ یہ خطہ،جومدتوں سے اضطراب اوربے یقینی کاشکاررہا ہے، ایک دن امن واستحکام کاگہوارہ بن جائے۔یہ مذاکرات محض سفارتی عمل نہیں بلکہ ایک امید ہیںاور امید ہی وہ قوت ہے جواگرحقیقت کا روپ دھارلے توتاریخ کا دھارا بدل دیتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں