یہ بہت تشویش ناک بات ہے کہ فتنہ ہندوستان سے وابستہ دہشت گرد گروہ بلوچستان میں سرحد پار حملوں کے لیے نوجوان طالب علموں کے ساتھ ساتھ گھریلو خواتین کو بھی استعمال کر رہے ہیں۔ 18اپریل کو بلوچستان حکومت کے زیر اہتمام کوئٹہ میں منعقد کی جانے والی پریس بریفنگ میں اس حوالے سے چشم کشا حقائق سامنے آئے ہیں۔دالبندین سے تعلق رکھنے والی خاتون رحیمہ بی بی کے بیان کردہ حقائق نے سرحد پار دہشت گردی کینیٹ ورک کو ایک مرتبہ پھر سے نقاب کر دیا ہے۔ رحیمہ بی بی کا شوہر منظور دراصل کالعدم بی ایل ایف کا سہولت کار کارندہ ہے۔ گزشتہ برس ماہ نومبر میں ایف سی بلوچستان کے کیمپ پر ہونے والے خودکش حملے کی سہولت کاری میں منظور پیش پیش تھا ۔رحیمہ بی بی ،جو کہ ایک سادہ لوح گھریلو خاتون ہے، پر اپنے خاوند کے دہشت گرد نیٹ ورک سے قریبی تعلقات کا انکشاف اس وقت ہوا جب ایف سی کیمپ پر ایک خاتون دہشت گرد کے خودکش حملہ کرنے کی خبر میڈیا پر نشر ہوئی ۔زرینہ رفیق نامی خودکش بمبار خاتون کی تصویر دیکھ کر رحیمہ بی بی کا ماتھا ٹھنکا کیونکہ اسی عورت کو کچھ ماہ قبل اس کا شوہر منظور اپنے گھر میں قیام کروا چکا تھا۔ کچھ دن رحیمہ بی بی کے گھر پناہ لینے کے بعد زرینہ رفیق نامی خودکش بمبار کو افغانستان پہنچا دیا گیا تھا۔ یہ سمجھنا کچھ مشکل نہیں کہ بلوچ خاتون کو اس کے گھر کی چار دیواری سے نکال کر افغانستان کسی نیک مقصد سے تو نہیں بھیجا گیا تھا۔
ایف سی ہیڈ کوارٹر پر خودکش حملے میں اس خاتون کے ملوث ہونے سے یہ معاملہ روز روشن کی طرح عیاں ہو چکا ہے کہ افغانستان کی سرزمین کس طرح پاکستان میں دہشت گردی کی آگ بھڑکانے کے لئے استعمال ہو رہی ہے۔ یہ پہلو قابل غور ہے کہ جب زرینہ رفیق جیسے کردار طویل عرصے تک دہشت گرد تربیتی کیمپوں میں قیام پذیر ہوں تو یکجہتی کمیٹی جیسے پریشر گروپ ریاست کے خلاف لاپتہ افراد کا واویلا مچاتے رہتے ہیں۔افغانستان آج کل اس گروہ کے تسلط میں ہے جو بظاہر تو اسلام کے علم بردار بنے بیٹھے ہیں لیکن ان کی فراہم کردہ چھتری تلے وہ دہشت گرد گروہ پھل پھول رہے ہیں جو پاکستان جیسے برادر اسلامی ملک میں بے گناہ شہریوں کے خون سے ہولی کھیلتے ہیں۔ حقوق کے نام پر خودکش حملوں جیسے حرام فعل کا مسلسل ارتکاب اسلامی احکام کی صریح خلاف ورزی ہے۔ طالبان کی غیر منتخب حکومت کی یہ غیر اسلامی حکمت عملی پاکستان سمیت پورے خطے میں عدم استحکام کا باعث بن رہی ہے۔ بھارت کی فتنہ سازی بلوچ معاشرے میں زہر بن کر سرایت کر رہی ہے۔ حقوق کا جھانسہ دے کر دہشت گرد گروہ اور ان کے فکری سہولت کار بلوچستان کے گھریلو ماحول کو تخریب کاری کی آلودگی سے برباد کر رہے ہیں۔ بلوچ معاشرے کی قابل قدر روایات میں خواتین کو احترام اور عافیت کے ماحول میں رکھا جاتا ہے۔ ان روشن روایات کے برعکس نام نہاد ہندوستانی پروردہ فسادی گروہ اب عورتوں کو دہشت گردی کے بھڑکتے الا میں ایندھن بنا کر ان کا استحصال کر رہے ہیں ۔خواتین کا یہ بدترین استحصال ان گروہوں اور پریشر گروپوں کے ذریعے کیا جا رہا ہے جو انسانی حقوق کا نقاب اوڑھ کر صبح و شام ریاستی اداروں کے خلاف واویلا مچاتے ہیں۔ 18اپریل کی پریس کانفرنس نے ایک مرتبہ پھر ایسے حقائق بے نقاب کر دیے ہیں کہ جن پر ریاستی اداروں سمیت سادہ لوح بلوچ عوام کو بھی بہت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
مودی سرکار کے پروردہ فتنہ ہندوستان کے حامی سہولت کار اور خیر خواہ کسی بھی صورت پاکستان اور بلوچستان کے دوست نہیں ہو سکتے۔ نوجوان طالب علموں کو تعلیم اور ہنر سے محروم کر کے ریاست کے خلاف فساد بپا کرنے کے لئے استعمال کرنے والے سازشی عناصر اب چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کر کے بلوچوں کے گھروں میں بھی داخل ہو چکے ہیں۔ قابل احترام پردہ دار بلوچ خواتین کو طرح طرح کے جھانسے دے کر گھر کی محفوظ چار دیواری سے باہر نکال کر دہشت گرد گروہوں کے چنگل میں پھنسایا جا رہا ہے ۔رحیمہ بی بی کی زبانی اس کے شوہر منظور اور خودکش بمبار زرینہ رفیق کی جو روداد سامنے آئی ہے وہ یہی بیان کر رہی ہے کہ نام نہاد نسل پرست گروہوں اور جعلی یکجہتی کمیٹیوں جیسے پریشر گروپوں کے ہاتھ اب بلوچ ماں بیٹیوں کے سر کی چادر اور چہرے کے نقاب تک پہنچ چکے ہیں۔ زرینہ رفیق کے ماں ،باپ اور دیگر رشتہ داروں نے کبھی یہ خواب نہیں دیکھا ہوگا کہ ان کے گھر کی رونق اور آنکھوں کی ٹھنڈک ہندوستانی سرکار کی سازش کا شکار ہو کر خودکش جیکٹ کے ذریعے اپنے چیتھڑے اڑا لے گی ۔
بدقسمتی سے وہ ہو گیا جس کا تصور بھی محال ہے۔ رحیمہ بی بی کا معاملہ بھی بہت دل شکن ہے۔ اس کا شوہر گھر کی کفالت کرنے کے بجائے دہشت گرد گروہوں کا سہولت کار بن گیا۔ رحیمہ بی بی کا ہنستابستا گلشن بھی دہشت گردی کی آگ میں بھسم ہو گیا۔ رحیمہ بی بی اور زرینہ رفیق محض دو خواتین نہیں بلکہ دو خاندانوں کی بربادی کی علامت بن چکی ہیں ۔برسوں تک ان خاندانوں کو دہشت گردی اور قتل و غارت گری کے حوالے سے جانا جائے گا۔ گلی کوچوں میں ان خاندانوں کو دہشت گردوں کے قرابت دار ہونے کا طعنہ دیا جائے گا۔ وقت آ چکا ہے کہ بلوچستان میں سرائیت کرنے والے اس زہر کا تریاق فوری طور پر تلاش کیا جائے ۔ ہندوستان، افغانستان اور دہشت گرد گروہوں کی زہریلی مثلث کا فوری خاتمہ کیے بنا ریاست میں داخلی استحکام قائم نہیں ہو سکے گا۔