Search
Close this search box.
هفته ,13 جون ,2026ء

نیا پاکستان پرانے اوزار

وہ جن پہ تکیہ تھا وہی ہوا دینے لگے۔ یہ محض ایک مصرع نہیں یہ پاکستان کی سیاست کا وہ نوحہ ہے جو ہر دور میں نئے سروں کے ساتھ دہرایا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا آئینہ ہے جس میں چہرے بدلتے رہتے ہیں مگر عادتیں نہیں نعرے بدلتے ہیں مگر نیتیں نہیں۔ اقتدار کے ایوانوں میں اصول نہیں جوڑ توڑ کی باریک ڈوریں حکمرانی کرتی ہیں اور یہ ڈوریں کبھی نظر نہیں آتیں مگر سب کچھ انہی سے بندھا ہوتا ہے۔یہاں سیاست عبادت نہیں مہارت ہے۔ نظریہ نہیں ضرورت ہے۔ وفاداری نہیں سہولت ہے۔ جب طاقت کا سورج پوری آب و تاب سے چمکتا ہے تو ہر کوئی اس کی روشنی میں خود کو سنہرا دکھانے لگتا ہے اور جونہی یہ سورج ڈھلتا ہے تو یہی لوگ سائے ڈھونڈتے ہوئے کسی اور در کے مکین بن جاتے ہیں۔ عمران خان کا سیاسی سفر اسی تضاد کی ایک جیتی جاگتی مثال ہے۔ ایک ایسا شخص جو امید کا استعارہ بنا جس نے نوجوانوں کو خواب دیکھنے کی جرات دی جس نے تبدیلی کو ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک تحریک بنایا مگر جب اس خواب کی تعبیر کا وقت آیا تو اس کے گرد وہی چہرے جمع ہو گئے جو ہر دور میں طاقت کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔ یوں لگا جیسے نیا پاکستان بنانے کے لئے پرانے اوزار ہی استعمال کئے جا رہے ہوں۔ اس کہانی کا ایک کردار ہے عثمان بزدار۔ عثمان بزدار جنوبی پنجاب کا ایک عام سا سیاستدان تھا جسے صوبائی سطح پر کوئی جانتا تک نہیں تھا۔
پاکستان کی بڑی سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف نے اسے ٹکٹ دے کر پنجاب اسمبلی کا ممبر بنوا دیا اور پھر بعد ازاں اسے عمران خان نے وزیر اعلی کے عہدے پر فائز کر دیا۔ بطور وزیر اعلی اس شخص نے لوٹ مار کی جو داستانیں رقم کیں وہ ایک الگ موضوع ہے جس پر بعد میں کبھی لکھوں گا۔ مگر ابھی یہ بتانا مقصود ہے کہ اس شخص نے پی ٹی آئی چھوڑ کر پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ عثمان بزدار ایک ایسا کردار جو سیاست کے اسٹیج پر اچانک نمودار ہوا مرکزی کردار بنا اور پھر اسی تیزی سے پس منظر میں چلا گیا۔ وہ ایک فرد نہیں ایک علامت ہے۔اس نظام کی علامت جہاں وفاداری کا وزن اقتدار کے پلڑے سے ہلکا ہوتا ہے۔ عمران خان کے پاس جب اقتدار تھا تو سب ساتھ تھے جب اقتدار گیا تو ساتھ بھی گیا۔پھر آیا وہ موڑ جس نے اس کہانی کو مزید ڈرامائی بنا دیا۔9مئی۔ یہ صرف ایک تاریخ نہیں تھی یہ ایک زلزلہ تھا جس نے سیاست کی عمارت میں دراڑیں ڈال دیں۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ کسی فلمی اسکرپٹ سے کم نہ تھا۔ لوگ ایک ایک کر کے جدا ہوتے گئے جیسے کسی ڈوبتے جہاز سے مسافر خاموشی سے نکلتے ہیں۔پرویز خٹک، جہانگیر ترین، عبدالعلیم خان یہ سب وہ نام ہیں جو کبھی ایک ہی صف میں کھڑے تھے۔ ایک ہی بیانیہ دہراتے تھے مگر وقت کے ایک جھٹکے نے ان کے راستے بدل دئیے۔ بات یہ نہیں کہ انہوں نے راستہ کیوں بدلا ؟ کیا ان کا کوئی راستہ تھا بھی؟ یا وہ ہمیشہ سے راستہ بدلنے کے لیے ہی سیاست میں آئے تھے؟استحکام پاکستان پارٹی کا قیام اسی کہانی کا نیا باب ہے۔ نام بڑا خوبصورت ہیاستحکام مگر اس کے اندر جھانکیں تو وہی عدم استحکام بے چینی وہی بیقراری اور وہی تلاشِ اقتدار نظر آتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے سیاست ایک ہی ڈرامہ ہے جس کے کردار صرف ملبوسات بدلتے رہتے ہیں۔یہ سارا منظر ادبی لحاظ سے ایک طنزیہ المیہ ہے۔ وفاداری جو کبھی انسان کی پہچان ہوتی تھی اب ایک بوجھ بن چکی ہے۔ لوگ اسے اٹھانے کے بجائے اتار پھینکنے میں عافیت محسوس کرتے ہیں۔ اسی کیفیت پر دل خود بخود یہ کہنے لگتا ہیوفا کے نام پہ سب نے دکان کھول لیجو بک نہ سکا اس نے زبان کھول لی احمد حسین ڈیہڑ ،فیاض الحسن چوہان ہوں ، عون چوہدری ہوں یا عمران اسماعیل یہ سب اس کہانی کے کردار ہیں جہاں کل کے وفادار آج کے ناقد بن جاتے ہیں اور کل کے مخالف آج کے اتحادی۔یہ سب دیکھ کر دل میں ایک عجیب سا سوال اٹھتا ہے کہ کیا مسئلہ افراد کا ہے یا نظام کا؟ اور سچ یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کا عکس بن چکے ہیں۔ نظام کمزور ہے تو افراد بھی کمزور ہو گئے ہیں اور جب افراد کمزور ہوں تو نظام کیسے مضبوط ہو سکتا ہے؟سیاست اب ایک نظریہ نہیں رہی ایک پیشہ بن چکی ہے۔ ایسا پیشہ جس میں کامیابی کا معیار صرف اقتدار ہے اور ناکامی کا مطلب اصولوں پر قائم رہنا۔ مزاح کی بات یہ ہے کہ یہاں ہر شخص خود کو اصولی کہتا ہے، بس اصول بدلتے رہتے ہیں۔اور بیانات وہ تو سیاست کے سب سے بڑے فنکار ہیں۔ کل تک جو لیڈر ایمانداری کی علامت تھا آج وہی ناکامی کی مثال بن جاتا ہے۔ کل کی تعریف آج کی تنقید میں بدل جاتی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے الفاظ بھی وفادار نہیں رہے۔وہ کہتے ہیں کہ انسان کی اصل پہچان مشکل وقت میں ہوتی ہے مگر ہماری سیاست میں مشکل وقت آتے ہی پہچان بدل جاتی ہے۔ چہرے وہی رہتے ہیں مگر نظریں بدل جاتی ہیں لہجے بدل جاتے ہیں اور سب سے بڑھ کر وفاداریاں بدل جاتی ہیں۔اسی کیفیت کو ایک اور شعر میں یوں سمیٹا جا سکتا ہے ۔
یہاں کردار نہیں چہرے بدلتے رہتے ہیں
یہاں سچ نہیں بس نعرے بدلتے رہتے ہیں
پاکستان تحریک انصاف بھی اس طوفان سے محفوظ نہ رہ سکی۔ ایک ایسی جماعت جو تبدیلی کی علامت بنی مگر خود تبدیلی کا شکار ہو گئی۔ اندرونی کمزوریاں شخصیات پر انحصار اور وقتی فیصلے یہ سب مل کر اسے اس مقام تک لے آئے جہاں اسے اپنے ہی لوگوں سے خطرہ محسوس ہونے لگا۔مگر سچ یہ بھی ہے کہ جو لوگ مشکل وقت میں ساتھ چھوڑ جاتے ہیں وہ صرف ایک جماعت نہیں چھوڑتیوہ ایک نظریہ ایک اعتماد اور ایک امید کو بھی چھوڑ جاتے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے ہم ایک ایسے تھیٹر میں بیٹھے ہیں جہاں ڈرامہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔ کردار آتے ہیں اپنے مکالمے بولتے ہیں تالیاں سمیٹتے ہیں اور پھر خاموشی سے پردے کے پیچھے چلے جاتے ہیں۔اور عوام ۔۔ وہ ہمیشہ کی طرح سامنے بیٹھے رہتے ہیں کبھی تالیاں بجاتے ہیں کبھی سر پکڑ لیتے ہیں اور کبھی خاموشی سے اگلے منظر کا انتظار کرتے ہیں۔ اگر اس تمام صورتحال کو ذرا ہلکے پھلکے انداز میں دیکھیں تو یوں کہنا غلط نہ ہوگا کہ ہماری سیاست ایک ایسا سرکس ہے جہاں شیر بھی وہی ہیں رنگ ماسٹر بھی وہی اور تماشائی بھی وہی بس کھیل کے انداز بدلتے رہتے ہیں۔کہانی ختم نہیں ہوئی کیونکہ جوڑ توڑ ابھی زندہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں