Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

خالقِ و مالک کائنات کی طرف دل کا سفر

ایک ایسی دنیامیں جہاں شور،بحث،اور بےشمار نظریات موجود ہیں، انسانی دل خاموشی سےایک سادہ سوال کرتاہے،آخری اورمطلق حقیقت کیا ہے؟کیا وجود محض ایک اتفاق ہے؟کیا زندگی ایک بے مقصد حادثہ ہے؟یا اس سب کے پیچھے ایک ایسی حقیقت ہے ایک خالق جس نے ہرچیز کوحکمت، مقصد اورمحبت کےساتھ پیداکیا؟صدیوں سے مفکرین،سائنسدانوں، فلسفیوں اور روحانی تلاش کرنے والوں نے اس سوال کا جواب تلاش کیا ہے۔ کچھ نے مادہ کو دیکھا، کچھ نے ریاضی کو، کچھ نے توانائی کو، اور کچھ نے نظریات کو۔ مگر تمام تر علم اور ترقی کے باوجود ایک بنیادی سوال آج بھی باقی ہے:آخر کچھ ہےہیکیوں؟خاموش نشانیاں جو ہر طرف موجود ہیں ایک لمحہ رکیں نہ سائنسدان بن کر، نہ فلسفی بن کربلکہ ایک انسان بن کر۔آسمان کو دیکھیں۔زمین کو محسوس کریں۔ اپنے اندر اور اپنے اردگرد زندگی کو دیکھیں۔پانی بغیرقیمت کےبہتا ہے۔پھل بغیرمطالبے کےاگتے ہیں۔ہوا بغیر رکے سانسوں میں داخل ہوتی ہے۔زمین بغیر شکایت کے ہمیں سنبھالتی ہے۔قرآن ہمیں اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے:پس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلائو گے؟(سورہ الرحمن 55:13) یہ صرف مذہبی سوال نہیں یہ شعور کا سوال ہے۔ہماری ہر ضرورت ہمیں مفت عطا کی گئی ہے۔نہ ہم نےاسے پیدا کیا، نہ ہم اس کے مالک ہیں۔یہ اتفاق نہیں۔یہ اللہ کی طرف سے رزق ہے۔سائنس سے آگےانسانی علم کی حدانسانی علم عظیم ہے۔ فزکس، کوانٹم میکینکس اور ریاضی جیسے علوم نے کائنات کےحیرت انگیزرازکھولے ہیں۔ یہ بتاتے ہیں کہ ستارے کیسے بنتے ہیں، ایٹم کیسے کام کرتے ہیں اور توانائی کیسے بہتی ہےمگر ایک حدکےبعد یہ خاموش ہو جاتے ہیں۔ہرلمحہ اس کی عطا ہے۔قرآن کا آغاز ہی ہوتا ہے:اللہ کے نام سے جوبڑامہربان نہایت رحم والا ہے۔(سورہ الفاتحہ 1:1) سب تعریف و ستائش رب العالمین کی۔ جس کی مہربانی اور رحمت بےحد ہے۔اسکی عطا بےحساب ہے۔اس کی شفقت ہرچیزکو گھیرے ہوئے ہے۔
یہ دنیا ایک عارضی سفر،یہ دنیاجتنی بھی خوبصورت ہو، آخری منزل نہیں۔یہ ایک راستہ ہے۔ایک امتحان ہے۔ایک تیاری ہے۔قرآن فرماتا ہے:ہرجان کو موت کامزہ چکھنا ہے۔(سورہ آل عمران 3:185) یہ خاتمہ نہیں ایک منتقلی ہے۔فانی دنیاسےابدی دنیا کی طرف۔محدود زندگی سےلامحدودحقیقت کی طرف۔ انصاف کادن مکمل حقیقت اًیک دن آئےگاجب سب کچھ واضح ہوجائے گا۔وہ دن جب سچ سامنے ہوگا۔وہ دن جب مکمل انصاف ہوگا۔بدلے کے دن کا مالک ہے۔(سورہ الفاتحہ 1:4) اس دن کوئی ظلم باقی نہیں رہے گاکوئی نیکی ضائع نہیں ہوگی کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوگی یہ کامل انصاف ہوگااللہ کی طرف سے۔ابدی زندگی اور انعامات کا وعدہ اس دن کےبعدایک ایسی دنیا ہےجو ہماری سوچ سے بھی زیادہ خوبصورت ہےاوروسیع وعریض ہے وہاں وقت کی قید نہیں۔وہاں درد و دکھ بیماری اور موت کا وجود و تصور نہیں۔وہاں خوف نہیں۔قرآن بیان کرتاہے:ایسے باغات جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی وہ ہمیشہ ان میں رہیں گے۔(سورہ البقرہ 2:25) وہاں:نہ غم ہوگانہ تکلیف نہ کوئی محرومی ہرچیز مفت اللہ کی رحمت سے۔ نعمتیں،خوشیاں،سکون ہمیشہ کےلیے۔محبت اور واپسی کی حقیقت یہ سفرصرف عقیدےکانہیں یہ محبت کاسفر ہے۔اس ذات سے محبت جس نےہمیں پیداکیا۔اس ذات سےمحبت جوہمیں سنبھال رہا ہے۔اس ذات سے محبت جس کی طرف ہم لوٹیں گے۔قرآن فرماتا ہے:بےشک تمہارے رب ہی کی طرف لوٹنا ہے۔(سورہ النجم 53:42) ہم اسی سے آئے ہیں۔اسی کے ذریعے زندہ ہیں۔اور اسی کی طرف واپس جائیں گے۔انسانی دل کے نام ایک پکاربحثوں سے ہٹ کر، نظریات سے ہٹ کر، حقیقت سادہ ہے:تم اکیلے نہیں ہو۔تم بے مقصدنہیں ہو۔تم بغیرخالق کےنہیں ہو۔ایک ہی حقیقت ہےاللہ وہی خالق۔وہی مالک۔وہی رازق وہی انصاف کےدن کاحاکم۔وہی جسکی رحمت تمہیں ابھی بھی گھیرے ہوئے ہے۔جب دنیا کاشورختم ہوتا ہے، دل ایک سچائی کو پہچان لیتا ہے:ایک ہی حقیقت ہے۔ایک خالق جس نے سب کچھ پیدا کیا ایک رب جو ہمیشہ سنبھالتا ہے۔ایک رازق جوسب کچھ دیتاہے ایک مالک جو انصاف کرے گا۔ایک بادشاہ جو ابدی زندگی عطا کرے گایہی وعدہ حق تعالیٰ ہے ۔مخلص بندےکا اقرار واعلان،اےہمارے خالق و مالک ، رحمان و رحیم میں دل و دماغ ، عقل و شعور اتھاہ گہرائیوں سے اقرار و اعلان کرتا ہوں کہ تو ہی حقیق واحد و لاشریک معبود ہے۔ تیرے سواکوئی حق ازل و ابد نہیں۔ میں تیرا بندہ اور اور غلام ہوں ۔ تو ہی سب کچھ دینے والا ہے۔ باقی ساری مخلوق تیری محتاج اور تیرے در کی سوالی ہے ۔ یااللہ مجھےاپنے مخلص ترین بندوں کی صف میں شامل فرمادے۔ آمین یا رب العالمین

یہ بھی پڑھیں