Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

ایک لمحے کے رحم و کرم پر دنیا

دنیاکی تاریخ ہمیں بارباریہ سبق سکھاچکی ہے کہ طاقت،شہرت یاذاتی جذبات کے ہاتھوں کئے گئے فیصلے کروڑوں انسانوں کی زندگیوں پرنہ صرف اثرڈال سکتے ہیں بلکہ جلدبازی، غروراورذاتی رنجشیں انسانیت کے لئے قیامت کا پیش خیمہ بن سکتی ہیں۔ دنیا نے اکثردیکھاہے کہ ایک واحدشخص کے فیصلے،ایک لمحے کی جذباتیت،یاایک کم ظرف ردعمل کس طرح ہزاروں، لاکھوں،بلکہ کروڑوں انسانوں کی زندگیوں پراثرڈال سکتے ہیں۔امریکا،جوآزادی،انصاف اور عالمی قیادت کی علامت کے طورپرجاناجاتاہے،اس کی صدارت صرف ایک عہدہ نہیں بلکہ پوری دنیاکی تقدیرکے فیصلوں کی کمان ہے۔ہرفیصلہ امن یاجنگ،زندگی یاموت، امید یا خوف کے درمیان ہوتاہے۔ امریکا،جسے آزادی، طاقت اورعالمی قیادت کی علامت سمجھاجاتاہے،اس کی صدارت صرف ایک قومی عہدہ نہیں،بلکہ عالمی امن اورجنگ کے فیصلوں کی کمان ہے۔یہاں ہرفیصلہ زندگی اورموت،امن اورجنگ، امید اورخوف کے درمیان ہوتاہے۔
ہلری کلنٹن کی یہ تنبیہ آج وقت کی کڑوی حقیقت بن چکی ہے۔ٹرمپ کی غیرمستحکم شخصیت،جذباتی فیصلے،اورعالمی تعلقات میں بے دھیانی نے نہ صرف امریکابلکہ پوری دنیاکوایک خطرناک چوراہے پرلاکھڑا کیا ہے۔یہ مضمون اسی سبق کی عکاسی کرتاہے کہ قیادت صرف طاقت یاشہرت کی بنیادپرنہیں بلکہ علم،صبر اور عالمی شعورکی بنیادپرمنتخب کی جانی چاہیے ۔ تاریخ گواہ ہے کہ ایسے رہنما،جوذاتی غروراورجلد بازی پرفیصلے کرتے ہیں،نہ صرف اپنی قوم بلکہ عالمی امن کوبھی نقصان پہنچاتے ہیں۔
2016ء میں ہیلری کلنٹن نے امریکی عوام کوایک ایساپیغام دیاجومحض تنبیہ نہیں بلکہ تاریخ کی ایک کڑوی حقیقت کی پیشگی اطلاع تھی،یہ آسان نہیں کہ کسی کے کم ظرف ہونے یاجذباتی غصے کی بنیادپرامریکا کو جنگ میں دھکیل دیاجائے۔ٹرمپ کی غیر مستحکم شخصیت، عجیب وغریب رنجشیں،اورجذبات پرمبنی فیصلے اورعالمی تعلقات میں بے دھیانی نے نہ صرف امریکا بلکہ پوری دنیاکوایک خطرناک چوراہے پرلاکھڑاکیاہے۔
شمالی کوریاکی دھمکیاں ہوں،ایران کے نیوکلئیرپروگرام کے معاملات،یامشرق وسطیٰ کے بحران، ہرجگہ غیر ذمہ دارانہ قیادت کے اثرات واضح ہیں۔یہ ابتدائیہ ہمیں یاددلاتاہے کہ قیادت صرف طاقت یا شہرت کی بنیادپرنہیں بلکہ علم،صبر،بصیرت،اورعالمی شعور کی بنیادپرہونی چاہیے۔تاریخ کی کتابیں باربارگواہی دیتی ہیں کہ غیرمستحکم رہنما،جواپنے ذاتی جذبات کی بنیادپرفیصلے کرتے ہیں،نہ صرف اپنی قوم بلکہ پوری دنیاکے امن کوخطرے میں ڈال دیتے ہیں۔یہ مضمون اسی سبق کی عکاسی کرتاہے کہ قیادت کی عظمت،علم اوراخلاق کے بغیر،انسانیت کے لئے ایک خطرناک بوجھ بن سکتی ہے۔
امریکی صدارت کاانتخاب نہ صرف امریکا کے لئے بلکہ عالمی سطح پربھی بے پناہ اثرات رکھتاہے۔ صدرکاعہدہ صرف ایک سیاسی مقام نہیں بلکہ یہ جنگ وامن،زندگی اورموت،اورعالمی تعلقات کے فیصلوں سے جڑاہوتاہے۔2016ء میں ہیلری کلنٹن نے 2016ء میں امریکی عوام کوانتباہ کیاتھاکہ ڈونلڈ ٹرمپ کی شخصیت اورپالیسی فیصلے امریکااوردنیادونوں کے لئے خطرناک ہوسکتے ہیں۔ان کا کہناتھاکہ صدرکاانتخاب صرف ایک سیاسی عہدہ نہیں بلکہ جنگ وامن،زندگی اورموت کے فیصلوں کے لئے بھی ہوتاہے۔انہوں نے کہا کہ یہ آسان نہیں ہے کہ کسی کے کم ظرف ہونے کی بنیادپرامریکا کو جنگ میں دھکیل دیاجائے۔
ہیلری کلنٹن کے اس بیان میں امریکی عوام کویاد دہانی کرائی گئی کہ صدرکاانتخاب ایک ذمہ دارانہ فیصلہ ہے،کیونکہ یہ شخص عالمی سطح پرجنگ یاامن کے فیصلے کرے گا۔ان کے مطابق ٹرمپ کے انتخاب سے نہ صرف امریکابلکہ دنیاکے دیگرممالک بھی خطرے میں آسکتے ہیں اوریہ فیصلہ تاریخی غلطی ثابت ہوسکتاہے۔ ہیلری کلنٹن نے ٹرمپ کوذہنی اورجذباتی طور پر غیرموزوں اورغیر مستحکم قراردیا۔انہوں نے کہاکہ ٹرمپ کے خیالات محض بے ترتیب باتوں،ذاتی رنجشوں اورجھوٹ پرمبنی ہیں۔ان کا کہنا تھاکہ ایسے شخص کوصدرکاعہدہ دینا خطرناک ہے، کیونکہ وہ کسی بھی لمحے جنگ کے فیصلے کرسکتاہے۔ہیلری کلنٹن نے واضح کیاکہ ٹرمپ نہ صرف تجربہ کارنہیں،بلکہ ان کی سوچ خطرناک حد تک غیرمنطقی اورغیرمستحکم ہے
ایک صدرجونیوکلیئرکوڈزکے حامل ہوں،ان کاغصے یاذاتی رنجش کی بنیادپرجنگ کافیصلہ کرناانتہائی خطرناک ثابت ہوسکتاہے۔ مثال کے طورپر،ٹرمپ کی شمالی کوریاپالیسی میں شدت اوربلاوجہ اشتعال کی بنیادپرجنگ کے خطرات پیداہوگئے۔2017ء میں شمالی کوریاکے رہنماکم جونگ ان کے ساتھ ٹرمپ کی ذاتی رنجش اورٹویٹ پرمبنی تبادلہ خیال نے عالمی برادری میں خوف اور عدم استحکام پیداکیا۔کلنٹن نے پہلے ہی کہا تھاکہ ایسے شخص کونیوکلیئرہتھیاروں کااختیاردینا غیرذمہ دارانہ ہے۔اگرکوئی بھی غیر مستحکم اورکم ظرف رہنمانیو کلیئر ہتھیاروں کے اختیارمیں ہوتوعالمی تباہی کاخطرہ ہمیشہ موجودرہتاہے۔
ٹرمپ کی شخصیت کی ایک اورمثال ان کی ایران مخالف تقریرہے،جس میں انہوں نے ایران معاہدے کو مستردکیااورعالمی سطح پر امریکاکی ساکھ کو کمزور کیا۔اس سے ظاہرہوتاہے کہ ہیلری کلنٹن کی پیشگوئی درست ثابت ہوئی ہے،کیونکہ غیرمستحکم جذبات اور کم ظرفی عالمی سطح پرخطرات پیداکرسکتی ہیں۔ہیلری کلنٹن نے واضح کیاکہ ٹرمپ کی جلدبازی اورکم ظرفی کے سبب امریکاکوجنگ میں دھکیلنے کاخطرہ بہت زیادہ ہے،اور نیوکلئیرہتھیاروں کااختیارایسے شخص کے ہاتھ میں ہوناناقابل تصورخطرہ ہے۔یہ ایک ایسامسئلہ ہے جس کی شدت اورنتائج پوری دنیاپراثراندازہوتے ہیں۔مثال کے طورپر، 2017ء میں شمالی کوریاکے ساتھ کشیدگی کے دوران ٹرمپ نے ٹویٹرپرشدید بیانات جاری کیے جن میں انہوں نے نیوکلیئرہتھیاروں کے استعمال کی دھمکی دی۔ عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق،اگراس وقت ٹرمپ کاغصہ ذاتی نوعیت کانہ ہوتاتو عالمی بحران اس شدت تک نہ پہنچتا۔ہیلری کلنٹن نے پہلے ہی خبردار کیا تھاکہ ایک پتلی جلد والاناسمجھ صدرعالمی امن کیلے خطرہ بن سکتاہے۔
نیوکلیئرخطرات صرف شمالی کوریاتک محدودنہیں ہیں۔ایران کے نیوکلیئرپروگرام کے معاملے میں بھی ٹرمپ کی پالیسی نے خطرات بڑھادئیے۔انہوں نے ایران معاہدے کومستردکیا ، جس سے ایران دوبارہ نیوکلیئر ہتھیار بنانے کی راہ اختیارکرسکتاتھا اور عالمی طاقتیں غیرمستحکم ہوسکتی تھیں۔ہیلری کلنٹن نے واضح کیاکہ سفارتکاری صبر، مستقل مزاجی اوردانشمندی کے بغیرممکن نہیں۔ایران کے نیوکلیئرپروگرام کے معاملے میں سابق صدراوباما نے فوجی کارروائی کی بجائے اقتصادی پابندیاں اور مذاکرات کو ترجیح دی،جس سے ایران کونیوکلیئر ہتھیاربنانے سے روکاگیا۔
ٹرمپ نے ایران معاہدے کومستردکیااورعالمی سطح پرامریکاکی ساکھ کمزورکی۔ایران نے دوبارہ نیوکلیئر پروگرام کی راہ اختیار کی،مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھی اورعالمی اقتصادی استحکام متاثرہوا۔ہیلری کلنٹن نے کہا کہ سفارتکاری اکثرواحدراستہ ہے جوبڑے بحران سے بچا سکتی ہے۔صبر،مستقل مزاجی،اورطویل مدتی منصوبہ بندی عالمی تنازعات کوحل کرنے کے لئے ضروری ہیں۔ مثال کے طورپر،ایران کے نیوکلیئرپروگرام کے دوران سابق صدر اوباما نے فوجی کارروائی کی بجائے اقتصادی پابندیاں اور مذاکرات کوترجیح دی۔سخت پابندیاں اورمذاکرات کے ذریعے ایک معاہدہ طے پایاجس نے ایران کوہتھیارحاصل کرنے سے روکا۔ اگر اس وقت ٹرمپ جیساغیرمستحکم شخص صدرہوتا،توفوری فوجی کارروائی یا سخت بیانات سے پورے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے امکانات بڑھ سکتے تھے۔
سفارتکاری کی ایک اورمثال عالمی سطح پرشمالی کوریاکے ساتھ مذاکرات ہیں۔2018ء میں ٹرمپ نے تاریخی ملاقاتیں کیں،لیکن ان کاطرزعمل اورغیر متوقع بیانات عالمی رہنماؤں کے لئے تشویش کاباعث بنے۔ہیلر ی کلنٹن کے مطابق،مسائل کوصبراوردانشمندی سے حل کرناہی پائیدارامن کی ضمانت ہے ۔ٹرمپ نے ایران معاہدے کومستردکیا،عالمی سطح پرتنقید کی اورعالمی پابندیوں کوکمزورکیا، اورایران کودوبارہ نیوکلئیرپروگرام کی راہ پرڈال دیا۔اس کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھی اوردنیامیں امریکاکی ساکھ کمزور ہوئی۔ ہیلری کے مطابق ایسے غیرذمہ دارانہ اقدامات عالمی امن کوخطرے میں ڈال سکتے ہیں۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں