Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

اپنا گائوں، اپنے لوگ(۱)

یوں توپاکستان کے سب گائوں ہی اپنے ہیں مگر ’’اپنا گائوں‘‘ تو اپنا ہی ہوتا ہے۔ انسان سفر حیات میں کہیں بھی نکل جائے اسے اس گائوں کی مٹی ضرور کھینچتی ہے جہاں اس نے آباء کی پرخلوص محبتوں او ر قربتوںمیں اپنا وقت بتایا ہوتا ہے۔ ان گھروں ، گلیوں اور کھیتوں کی مانوس تصویر کو وقت کی گرد بھی اوجھل نہیں کر پاتی جس میں آپ کی لازوال یادیں بسیرا کیے ہوتی ہیں۔ خوش بخت ہیں وہ لوگ جن کا کوئی اپنا گائوں ہوتا ہے جس کی جڑیں ان کو گاہے بگاہے ہی سہی ،پکارتی رہتی ہیں، اورجہاںجا کر وہ شہر کے پر شور اور آشوب ذدہ لمحات سے دور کھلی فضاوں اور لہلہاتے سرسبز کھیتوں کے بیچ کچھ وقت گزار کر تھوڑی سی آسودگی پالیتے ہیں۔
روات سے نکل کر چک بیلی خان روڈ پر آتے ہی کوئی ۲۳ کلو میٹر پر میرا اورمیرے والدین کااپنا گائوں ’’ڈھوک بدہال‘‘ واقع ہے۔ گائوں کے قیام کی داستان سڑک پار ملحقہ گائوں ’’بندہ‘‘ سے جڑی ہوئی ہیں۔ گائوں سے ۲ کلو میٹر کی دوری پر واقع ’’ بندہ‘‘ میں قیام پاکستان سے قبل سکھوں کی اکثریت ہوا کرتی تھی۔ اسی بندہ گائوں میں ہمارے آباء بھی رہا کرتے تھے۔ موجودہ ’’ڈھوک بدہال‘‘ غیرآباد تھا البتہ لوگوں کی زمینیں موجود تھیں ۔ لطف الدین ( میرے لکڑ دادا ) نے ۱۸۸۰ ء کی دہائی میں بندہ سے ہجرت کرنے کا فیصلہ کیا۔ لطف الدین اور ان کے ہمراہ کچھ اور گھرانوںنے یہاں آکر اس ڈھوک کو آباد کیا۔ ایک چھپر ڈال کر ایک مسجد کی بنیاد بھی رکھ دی۔ یہی مسجد بعد میں پختہ بھی ہوئی جو آج تک قائم ہے اور جس کی پیشانی پر میرے دادا جان کی خوبصورت خطاطی کے آثار آج بھی موجود ہیں۔میرے پڑدادا غلام قادر کی پیدائش ڈھوک بدہال ہی میں ہوئی ۔ غلام قادر کے دو صاحبزادوں عبدالحق ( میرے دادا) اور نذیر احمد( میرے نانا) نے بعد میں گائوں کی دینی، تعلیمی اور سماجی نمو میں اہم کردار ادا کیا۔میرے والد عرفان صدیقی بھی اسی گائوں سے اٹھے اور ملک کی تعلیمی، صحافتی اور سیاسی میدانوں میں گرانقدر خدمات سرانجام دیں اور ڈھوک بدہال کو ایک نمایاں پہچان دلائی۔
بچپن میں گائوں آتے جاتے سڑک کے دونوں اطراف تا حد نگاہ لہلہاتی سرسبز فصلیں اس علاقہ کی زرخیز ی کی گواہی دیتی تھیں۔اس وقت گائوں میں گندم اور مکئی کے علاوہ مونگ پھلی، تربوز اور خربوزے کی کاشت بڑے پیمانے پر کی جاتی تھی، جو اب ناپید ہیں۔ مونگ پھلی جیسی منافع بخش فصل کا اس علاقے سے معدوم ہو جاناتعجب کی بات لگتی ہے۔ بزرگوں سے اس بارے پوچھنے پر پتہ چلا کہ آج کل کی نوجوان نسل محنت سے بھی جی چراتی ہے اور کھیتی باڑی کی طرف بھی رغبت نہیں رکھتی ۔
گندم کی فصل پک کر سنہری ہونے کا موسم آتا تو اپنی محنت کا پھل ملنے کی خوشی ہر چہرے سے چھلک رہی ہوتی تھی ۔ان خوشیوں کے اظہار کے لئے گائوں میں ہر سال اپریل میں اس پورے علاقے کا سب سے بڑا میلہ منعقد کیا جاتا تھا جو ڈھوک بدہال کی ایک خاص پہچان تھا۔ میلے میں کھانے پینے کے سٹال اور روزمرہ زندگی کی اشیاء بھی سجائی جاتی تھیں۔ بیل دوڑ، کبڈی، والی بال، کشتی، نیزہ بازی اور رسہ کشی کے مقابلے ہوا کرتے تھے اور ان کی تیاری سارا سال جاری رہتی تھی۔ گائوں اور علاقے کے لوگ اس میلے کے لئے خصوصی طور پر نئے جوتے اور کپڑے بنواتے تھے۔ یہ میلہ لوگوں کے لئے خوشی، آسودگی اور محظوظ ہونے کا واحد ذریعہ ہوتا تھا۔ میلہ تواب بھی ہوتا ہے مگر اس میں وہ دلچسپی اور لذتیں اب باقی نہیں رہیں۔
میرے بچپن نے وہ وقت بھی دیکھا جب بجلی نہیں ہوتی تھی مگر زندگی اپنے تمام خوشگوار احساسات کے ساتھ روشن اور رواں دواں رہتی تھی۔ لکھنے پڑھنے اور کسی بھی طرح سے روشنی درکار ہوتی تو لالٹین یا ٹارچ کا استعمال کیا جاتا تھا۔ شدیدگرم دنوں میں دستی پنکھی جھلا کرہوا کا بندوبست کیا جاتاتھا۔ گرمیوں کی راتوں میںکھلے آسمان تلے مچھردانی کے پہرے میں لیٹ کر تارے گنتے گنتے کب نیند آجاتی، پتہ بھی نہ چلتا ۔ خواتین سر پر مٹی کے گھڑے لے کر کنووں پر جاتیں اور پانی بھر کر لاتی تھیں۔ کپڑے دھونے کے لئے بھی خواتین گائوں سے نکل کر کسی ایسی جگہ جاتی تھیں جہاں سے پانی کی کوئی قدرتی گزرگاہ دستیاب ہوتی تھی۔ ایسی جگہ کو مقامی زبان میں ’’کَسی‘‘کہا جاتا ہے۔ گیس یا سلینڈر کا تصور ہی نہ تھا۔ ایندھن کا بنیادی ذریعہ قریبی جنگل سے لائی گئی لکڑیاں ہوتی تھیں ۔یہی لکڑیاں چولہے کا ایندھن بنتی تھیں اور انہی کو سلگا کرموسمِ سرما کی یخ بستہ راتوں سے نبرد آزما ہوا جاتا تھا۔
سادا غذا کے ساتھ کھانے پینے میں نظم وضبط ہوتاتھا۔ تروتازہ سبزیاںیا دیسی مرغی ، گھر کا بنا ہوا آم اور لسہوڑے کا اچار اور پھر سر شام لکڑیوں کی آنچ پر پکی ہنڈیا کا ذائقہ اور تندور کی روٹی کی خوشبو کی بات ہی کچھ اور ہوتی تھی ۔ مگر اس سادگی کے پیچھے کتنی محنت مشقت تھی ۔ میں دیکھتا تھا میری نانی جان لکڑیوںکو آگ دکھانے کے لئے چولہے میں پھونکیں مار مار کر اپنی طبیعت ہلکان کر لیتیں اور دھوئیں کی تپش سے ان کی آنکھیں لال ہو جاتی تھیں۔ ایسے بے لوث کردار تو بس پرانی کہانیوں میں ہی پڑے رہ گئے ہیں۔ ان سب مسائل کے باوجود زندگی میں خوشیاں بھی تھیں، محبتیں بھی۔کسی چہرے پر نہ کبھی کوئی بیزاری کی لکیرآئی اور نہ کسی کے لہجے میں بے چارگی کی سلوٹ۔ کسی احساس محرومی کے بغیر قناعت اور سادگی کا ایک عالم تھااور ہر طرف مسکراہٹوں کا ڈیرہ۔نہ ٹی وی ہوتا تھا اور نہ انٹرنیٹ، لوگ ایک دوسرے کے قریب ہوتے تھے ، ایک دوسرے کے غم آشنا بھی ، چارہ گر بھی اور دوائے دل بھی۔
آج میں نگاہ دوڑاتا ہوں تو اپنا گائوں ارتقائی مراحل سے گزرتا ہوا خاصا آگے بڑھ چکا ہے۔ گائوں میں بجلی بھی ہے۔ گھر گھر بورنگ اور موٹریں لگی ہیں۔ لکڑیوں کی جگہ سلینڈر نے لے لی ہے۔نہ سروں پر گھڑے رکھے خواتین نظر آتی ہیں۔کسیاں ویران اور خشک ہو چکی ہیں کہ اب کپڑے دھونے بھی باہر نہیں جانا پڑتا۔انٹرنیٹ فرد فرد تک پہنچ چکا ہے۔ گائوں کی تنگ سی سڑک، اب کشادہ اور معیاری ہو کر اہم تجارتی گزرگاہ میں بدل رہی ہے۔ سڑک موٹر وے سے منسلک ہو چکی ہے اور اس پر کئی فیکٹریاں بھی کھل چکی ہیں۔راولپنڈی رنگ روڈ کا ایک انٹر چینج بھی اس روڈ پر تعمیر ہو رہا ہے جس سے ڈھوک بدہال کی بھی سڑک کنارے اراضی کے دام بڑھ چکے ہیں۔ بلا شبہ یہ ترقی اور سہولت انسان کی ضرورت ہے۔ مگر پھر بھی چہروں پر پژمردگی اور اداسی نمایاں ہے۔ شاید وہ باکمال افراد ہی نہیں رہے جو اقدار، محبت ، محنت، تہذیب، باہمی رواداری اور سماجی ہم آہنگی کے دیپ جلائے رکھتے تھے ۔ ابنِ انشاء نے کیا خوب کہاتھا:
’’یہاں الجھے الجھے روپ بہت
پر اصلی کم، بہروپ بہت
اس پیڑ کے نیچے کیا رکنا
جہاں سایہ کم ہو، دھوپ بہت
چل انشاء اپنے گائوں میں
بیٹھیں گے سکھ کی چھائوں میں‘‘
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں