Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

سیرت النبی ﷺ، اختلاف میں اعتدال کی راہ

سلام ایک ایسا کامل اور ہمہ گیر ضابطہ حیات ہے جو انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو اعتدال، توازن اور فلاح کے اصولوں پر استوار کرتا ہے۔ اس نظام کی بنیاد جن اعلیٰ ترین اخلاقی اور سماجی اصولوں پر رکھی گئی ہے ان میں انصاف، عدل، حسنِ سلوک اور رحم دلی کو مرکزی حیثیت حاصل ہے کیونکہ اسلام صرف عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل طرزِ زندگی ہے جو انسان کو انسانیت کے اعلیٰ مقام تک پہنچانے کے لیے آیا ہے۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے بار بار عدل قائم کرنے کا حکم دیا ہے اور فرمایا ہے کہ انصاف کرو، یہی تقوی کے قریب تر ہے اور یہ بھی واضح کیا کہ کسی قوم کی دشمنی بھی تمہیں انصاف سے نہ ہٹائے۔ یہ تعلیم اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام میں انصاف کسی جذباتی یا وقتی عمل کا نام نہیں بلکہ ایک مستقل، غیر متزلزل اور آفاقی اصول ہے جو ہر حال میں برقرار رہنا چاہیے۔ انصاف کا مطلب صرف عدالتوں میں فیصلے کرنا نہیں بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں حق کو اس کے اصل مقام پر رکھنا ہے، چاہے وہ گھر ہو، معاشرہ ہو، معیشت ہو یا ریاستی نظام، اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ ہر فرد کو اس کا حق دیانتداری کے ساتھ دیا جائے اور کسی کے ساتھ بھی ناانصافی نہ کی جائے۔انسانی تاریخ میں اگر کسی شخصیت نے اخلاق، عدل، انصاف، رحم دلی اور حسنِ سلوک کی ایسی جامع اور عملی تصویر پیش کی ہو جو ہر زمانے، ہر معاشرے اور ہر فرد کے لئے رہنمائی کا ذریعہ بن سکے تو وہ صرف اور صرف نبی کریم ﷺ کی ذاتِ اقدس ہے۔ جن کی سیرت نہ صرف ایک مذہبی روایت بلکہ ایک مکمل ضابطہء حیات ہے جس میں انسانیت کے ہر پہلو کو اس خوبصورتی سے سمو دیا گیا ہے کہ آج کا جدید انسان بھی اس سے رہنمائی حاصل کئے بغیر مکمل فلاح حاصل نہیں کر سکتا۔
انصاف اور عدل وہ بنیادی ستون ہیں جن پر ایک مہذب معاشرے کی بنیاد رکھی جاتی ہے اور سیرتِ نبوی ﷺ ہمیں بتاتی ہے کہ انصاف صرف قانون کا نفاذ نہیں بلکہ ایک ایسی اخلاقی ذمہ داری ہے جس میں انسان اپنے ذاتی مفادات، جذبات اور تعلقات سے بالاتر ہو کر حق کا ساتھ دیتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اپنی پوری زندگی میں اس اصول کو اس قدر مضبوطی سے قائم رکھا کہ دشمن بھی آپ کے انصاف کے معترف ہو گئے۔ مکہ کے دور میں جب آپ کو طرح طرح کی اذیتیں دی گئیں، آپ کا سماجی بائیکاٹ کیا گیا، آپ کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا گیا، حتی کہ آپ کے قتل کی سازشیں تک کی گئیں، اس کے باوجود جب فتح مکہ کا موقع آیا تو آپ نے بدلے کے بجائے عام معافی کا اعلان کیا۔ یہ وہ عدل اور رحم دلی تھی جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی کیونکہ عام طور پر فاتح اپنے دشمنوں سے انتقام لیتے ہیں مگر آپ ﷺ نے فرمایا کہآج تم پر کوئی گرفت نہیں۔ اس ایک جملے نے نہ صرف دشمنوں کے دل جیت لئے بلکہ یہ ثابت کر دیا کہ حقیقی طاقت انتقام میں نہیں بلکہ معاف کرنے میں ہے۔ اسی طرح حسنِ سلوک کا پہلو سیرتِ نبوی ﷺ میں اس قدر نمایاں ہے کہ آپ نے نہ صرف مسلمانوں کے ساتھ بلکہ غیر مسلموں، غلاموں، عورتوں، بچوں اور حتیٰ کہ جانوروں کے ساتھ بھی ایسا برتا کیا جو انسانیت کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہتم میں بہترین وہ ہے جو اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ اچھا ہو۔ اس فرمان میں ایک مکمل معاشرتی نظام کی بنیاد رکھی گئی ہے جہاں گھر سے لے کر معاشرے تک ہر جگہ حسنِ سلوک کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ رحم دلی کا تصور بھی آپ ﷺ کی سیرت میں نہایت گہرائی کے ساتھ موجود ہے۔ آپﷺ کورحمت للعالمین کہا گیایعنی صرف مسلمانوں کے لئے نہیں بلکہ تمام جہانوں کے لیے رحمت۔ آپ ﷺ نے ایک بار ایک عورت کو دیکھا جو اپنے بچے کو تلاش کر رہی تھی، جب وہ اسے مل گیا تو اس نے فورا اسے گلے لگا لیا۔ اس موقع پر آپ ﷺ نے صحابہ سے پوچھا کہ کیا یہ ماں اپنے بچے کو آگ میں ڈال سکتی ہے؟ سب نے کہا ہرگز نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ اپنے بندوں پر اس ماں سے بھی زیادہ مہربان ہے۔یہ مثال نہ صرف اللہ کی رحمت کو واضح کرتی ہے بلکہ انسانوں کو بھی یہ درس دیتی ہے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ شفقت اور محبت کا برتا کریں۔
عدل اور انصاف کا ایک اور عظیم واقعہ وہ ہے جب ایک معزز قبیلے کی عورت نے چوری کی اور کچھ لوگوں نے سفارش کی کوشش کی، اس پر آپ ﷺ نے فرمایا کہاگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ قانون کی نظر میں سب برابر ہیں اور کسی بھی قسم کی سفارش یا تعلق انصاف کے راستے میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ آج کے معاشرے میں جہاں اقربا پروری، کرپشن اور ناانصافی عام ہو چکی ہے وہاں سیرتِ نبوی ﷺ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ انصاف کا قیام صرف اسی وقت ممکن ہے جب ہم ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر حق کا ساتھ دیں۔ رحم دلی کا یہ عالم تھا کہ آپ ﷺ نماز میں کھڑے ہوتے اور اگر کسی بچے کے رونے کی آواز سنتے تو نماز کو مختصر کر دیتے تاکہ ماں کو تکلیف نہ ہو۔یہ چھوٹی چھوٹی باتیں دراصل ایک بڑے اخلاقی نظام کی عکاسی کرتی ہیں جس میں انسانیت، محبت اور ہمدردی کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ آج کا انسان جو نفرت، تقسیم اور عدم برداشت کا شکار ہے اس کے لئے سیرتِ نبوی ﷺ ایک مکمل رہنمائی فراہم کرتی ہے کہ کس طرح ایک معاشرہ عدل، انصاف، حسنِ سلوک اور رحم دلی کی بنیاد پر قائم کیا جا سکتا ہے۔ اگر ہم اپنی روزمرہ زندگی میں ان اصولوں کو اپنائیں تو نہ صرف ہماری ذاتی زندگی بہتر ہو سکتی ہے بلکہ پورا معاشرہ امن اور سکون کا گہوارہ بن سکتا ہے۔ بدقسمتی سے ہم نے سیرت کو صرف ایک مذہبی رسم تک محدود کر دیا ہے جبکہ اس کا اصل مقصد عملی زندگی میں اس کا اطلاق ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے رویوں، اپنے فیصلوں اور اپنے تعلقات میں ان اصولوں کو شامل کریں، انصاف کریں چاہے وہ ہمارے اپنے خلاف ہی کیوں نہ ہو، دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک کریں چاہے وہ ہمارے دشمن ہی کیوں نہ ہوں، رحم دلی اختیار کریں چاہے ہمیں سختی کا موقع ہی کیوں نہ مل رہا ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں ایک بہتر انسان اور ایک بہتر معاشرہ بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔ اگر ہم واقعی ایک مثالی معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں سیرت النبی ﷺ کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی خامیوں کو دور کرنا ہوگا۔ یہی وہ پیغام ہے جو نبی کریم ﷺ کی پوری زندگی ہمیں دیتی ہے کہ انسانیت کی اصل کامیابی طاقت، دولت یا شہرت میں نہیں بلکہ انصاف، عدل، حسنِ سلوک اور رحم دلی میں ہے اور یہی وہ اقدار ہیں جو نہ صرف ایک فرد بلکہ پوری انسانیت کو کامیابی اور فلاح کی طرف لے جا سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں