Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

ریاستی استحکام اور بلوچستان کا روشن مستقبل !

ایک جانب دہشت گردی کی لہر کے ذریعے ریاست دشمن قوتیں بلوچستان میں عدم استحکام پھیلانے میں کوشاں رہی ہیں تو دوسری جانب انہی قوتوں کے گماشتے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اپنی تمام توانائیاں سیاسی ہیجان پھیلانے میں صرف کر رہے ہیں ۔ بےبنیا د الزامات کا واحد مقصد یہی دکھائی دے رہا ہے کہ پاکستان کی مجموعی ترقی اور بلوچستان میں حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے مثبت اقدامات کے خلاف منفی نفسیاتی فضا بنائی جائے۔ مسلسل جھوٹے بیانئے کی ترویج کا شاخسانہ ہے کہ سادہ لوح پاکستانی عوام اکثر اپنے قومی مسائل کو طویل المیعاد نظر سے دیکھنے کے بجائے عارضی جذبات اور سوشل میڈیا پر پروپیگنڈے کی قوت سے بنائے گئے “ٹرینڈز” کے میزان پر تولنے لگے ہیں۔ یہ عام رجحان بن چکا ہے کہ تنقیدی بیانات میں حکمرانوں اور ریاستی اداروں کے بارے میں ایک یک طرفہ بے بنیا تنقیدی رویّہ اپنا کر صرف منفی پہلوؤں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے، جبکہ اہم کامیابیوں کو جانتے بوجھتے ہوئے نظر انداز کیا جاتاہے۔حال ہی میں پاکستان نے معاشی اور سفارتی محاذوں پر قابلِ ذکر پیش رفت کی ہے، جنہیں نظرانداز کرکے بعض شرپسند عناصر ریہاست کے مجموعی تاثر کو مسخ کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ خطے کی پیچیدہ تزویراتی صورتحال کے تناظر میں پاکستان دشمن عناصر بالخصوص بھارت یہ چاہتے ہیں کہ ‘جنریش زی کی جزباتیت ، توانائیاں اور سوشل میڈیا پر حد سے زیادہ تحرک کو گمراہ کن بیانیوں کے ذریعے ملک میں عدم استحکام پھیلانے کے لئے استعمال کیا جائے۔ اس حوالے سے بلوچستان میں دشمن ایجنسیوں کی جانب سے بہت سی سازشیں گھڑی جا رہی ہیں۔ بلوچستان میں ریاست کی ناکامی کا جھوٹا بیانیہ گھڑنے والے دراصل ہاکستان کی مجموعی کارکردگی کے بہتر ہوتے گراف سے خائف ہیں ۔ حالیہ حیران کن سفارتی کامیابیوں نے نہ صرف کہ عالمی اعتماد بحال کیا ہے بلکہ ملک کے اقتصادی مسائل کے حل کے لئے نئے امکانات بھی پیدا کئے ہیں۔صاف دکھائی دے رہا ہے کہ پاکستان نے عالمی سطح پر اپنے مجموعی تاثر اور باہمی تعلقات کو مضبوط کیا ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، اور چین کے ساتھ تعاون میں اضافے کی بدولت سرمایہ کاری اور تجارتی بندرگاہوں کی ترقی ممکن ہوئی۔مختلف عالمی فورمز پر پاکستان کی مثبت شمولیت نے خطے میں امن اور تعاون کے لیے اس کی سنجیدگی کو اجاگر کیا ہے۔ بلوچستان میں ترقیاتی اقدامات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔مسلسل مثبت کاوصوں کے نتیجے میں آج بلوچستان کو امن اور خوشحالی کے محور کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔سی پیک (CPEC) سے منسلک انفراسٹرکچر منصوبے بلوچستان میں جاری ہیں، جس سے مقامی روزگار، سڑکوں، اور صنعتی ترقی کو فروغ ملا ہے۔صوبائی سطح پر تعلیم، صحت اور توانائی کے بنیادی منصوبوں میں پیشرفت سے عوامی معیارِ زندگی بہتر ہو رہا ہے۔ مقامی کمیونیٹیز کے ساتھ مشاورت کے ذریعے قومی ڈھانچے میں شمولیت اور رہنماؤں کے ساتھ مکالمہ نے تشدد کی فضاء کو کم کیا ہے۔معاشی استحکام اور بین الاقوامی ادائیگیوں کے توازن میں متاثر کن بہتری پیدا ہوئ ہے۔ گزشتہ 2–3 سالوں میں پاکستان نے معاشی استحکام کی جانب اہم پیش رفت کی ہے۔
پاکستان نے اپنے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ کیا جس نے روپے کی قدر کو مستحکم رکھنے میں مدد دی۔ ایکسپورٹس میں اضافہ اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں بتدریج اضافہ ملکی معیشت کے لیے حوصلہ افزا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ مذاکرات اور شفاف اصلاحات نے عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھایا ہے۔ پاکستان کے خلاف بے بنیاد تنقید کو حقائق کی کسوٹی پر جانچا جائے تو ریاست اور بلوچستان کی مثبت تصویر نمایاں ہوتی ہے۔پاکستان کی ترقی کو صرف تنقیدی ٹوئٹس، طنزیہ کالموں، یا ماضی کی یادوں تک محدود رکھ کر پیش کرنا حقیقت سے قریب نہیں۔ جہاں ہر معاشرے میں بنیادی چیلنجز موجود ہوتے ہیں، وہیں مثبت کامیابیاں بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتیں۔پاکستان نے بلاشبہ بہت سے معاملات میں متاثر کن کارکردگی نہیں پیش کی مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہم نے اپنی حدود میں رہتے ہوئے عالمی سطح پر وقار، سفارتی شراکت داری، اور معاشی استحکام کے بیج بوئے ہیں، جن کے مثبت اثرات آنے والے وقت میں مزید واضح ہوتے جائیں گے۔پاکستان صرف دعووں تک محدود نہیں ، بلکہ جہد مسلسل اور کامیابیوں کی داستان بھی ہے۔ معاشی استحکام ، برآمدات میں اضافہ، بلوچستان میں انفراسٹرکچرسمیت تعلیم و صحت کے نئے منصوبے اور مضبوط عالمی تعلقات کے ساتھ سی پیک سے پیدا ہوتے ترقیاتی مواقع وہ حقائق ہیں جنہیں نظرانداز کرنا آسان نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں