Search
Close this search box.
جمعه ,19 جون ,2026ء

حضرت عمر فاروق ؓکی شہادت اور کارنامے

26ذی الحجہ، 23ہجری کو حضرت عمررضی اللہ عنہ فجر کی نماز کے لئے مسجد نبوی تشریف لائے۔ صفیں درست کر رہے تھے کہ اتنے میں ایک مجوسی غلام ابو لولو فیروز چھری لے کر اچانک آگے بڑھا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر حملہ کر دیا۔ اس خبیث نے زہر میں بجھی ہوئی دو دھاری چھری سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر پے در پے وار کئے اور پھر بھاگتے ہوئے کئی اور نمازیوں کو زخمی کر دیا۔شدید زخموں کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اٹھا کر ان کے گھر لے جایا گیا۔ لوگوں نے بہت غم کا اظہار کیا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا :
’’کیا نماز ہو گئی؟‘‘
لوگوں نے کہا: ’’جی، امیر المومنین، نماز باقی ہے۔‘‘
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’جس کا نماز میں کوئی حصہ نہیں، اس کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں۔‘‘ پھر آپ نے زخمی حالت میں نماز ادا کی۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اپنی شہادت کا یقین ہو چکا تھا۔ آپ نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا کہ ان سے اجازت لیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو نبی کریم ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پہلو میں دفن کیا جائے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے خوش دلی سے اجازت دے دی۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خلافت کا معاملہ چھ افراد کی شوریٰ کے سپرد کیا تاکہ وہ اپنے مشورے سے نیا خلیفہ منتخب کریں۔تین دن شدید زخمی رہنے کے بعد، یکم محرم الحرام 24 ہجری کو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس دنیا سے رخصت فرمایا۔ آپ کو نبی کریم ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پہلو میں دفن کیا گیا۔امیر المومنین حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی خلافت کے بے مثال کارناموں پر امت مسلمہ تا قیامت نازاں رہے گی،ان میں سے چند ایک کا ذکر مینارہ نور میں کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں،خلافت فاروقی سے پہلے مستقل خزانہ کاوجود نہ تھا،بلکہ جو کچھ آتا اسی وقت تقسیم کردیا جاتا تھا۔آپ رضی اللہ عنہ نے تقریباً 15ھ میں ایک مستقل خزانہ کی ضرورت محسوس کی اور مجلسِ شوریٰ کی منظوری کے بعد مدینہ منورہ میں بہت بڑابیت المال قائم کیا، دارالخلافہ کے علاوہ تمام اضلاع اورصوبہ جات میں بھی اس کی شاخیں قائم کی گئیں اور ہر جگہ اس محکمہ کے جداگانہ افسر مقرر ہوئے،مثلاً اصفہان میں حضرت خالد بن حارث رضی اللہ عنہ اورکوفہ میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ خزانہ کے افسر تھے، صوبہ جات اوراضلاع کے بیت المال میں مختلف آمدنیوں کی جو رقم آتی تھی وہ وہاں کے سالانہ مصارف کے بعد اختتام سال پر صدر خزانہ یعنی مدینہ منورہ کے بیت المال میں منتقل کردی جاتی تھی، صدر بیت المال کی وسعت کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے کہ دارالخلافہ کے باشندوں کی جو تنخواہیں اوروظائف مقرر تھے،صرف اس کی تعداد تین کروڑ درہم تھی، بیت المال کے حساب کتاب کے لئے مختلف رجسٹرڈ بنوائے،اس وقت تک کسی مستقل سنہ کا عرب میں رواج نہ تھا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے61ھ میں سنہ ہجری ایجاد کرکے یہ کمی بھی پوری کردی۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں پورے ملک کی مردم شماری کی گئی اور ہر ایک عربی نسل کی علی قدرمراتب تنخواہ مقرر ہوئی، یہاں تک کہ شیر خوار بچوں کے لئے وظائف کا قاعدہ جاری کیا گیا، گویا عرب کا ہر ایک بچہ اپنے یوم ولادت ہی سے اسلامی فوج کا ایک سپاہی تصور کرلیا جاتا تھا، ہر سپاہی کو تنخواہ کے علاوہ کھانا اورکپڑا بھی ملتا تھا۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو فوج کی تربیت کا بہت خیال تھا۔ہر سال حج کے زمانے میں تمام عمال عوامی احتساب کے لئے اپنے آپ کو پیش کرتے تھے، کھلی کچہری میں عوامی شکایات کو سنا جاتا تھا اور اس کے تدارک کے احکامات جاری کئے جاتے تھے۔عمال پر عائد الزامات کی تحقیقات کے لئے تحقیقاتی کمیشن قائم تھا۔ شاہی خاندانوں کی جاگیریں،لاوارث جائدادیں باغیوں اور مفروروں کی ضبط شدہ املاک بھی بیت المال کی ملکیت سمجھی جاتی تھیں۔آپ نے زراعت کے میدان میں ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا،اراضی کی ازسر نو پیمائش کراکے پیداوار میں اضافہ کرایا۔
مالیہ کی وصولی کے علاوہ جاگیرداری نظام ختم کرکے زمین کاشتکاروں میں تقسیم کردی آبپاشی کا باقاعدہ نظام قائم کیا،عدالتوں کے دروازے ہر عام وخاص کے لئے کھلے رہتے، مقدمہ دائر کرنے کی کوئی فیس ہوتی نہ وکیل کی ضرورت رہتی،افتا کا شعبہ بھی قائم کیا گیا،ناپ تول،قیمتوں کا تعین،شراب نوشی کی روک تھام،انسداد بے رحمی حیوانات، راستوں اور گزرگاہوں کی حفاظت قافلوں کی سلامتی وغیرہ کے امور محکمہ پولیس کے سپرد تھے۔باقاعدہ عسکری نظام قائم کیا گیا اور جوانوں کی تنخواہیں مقرر کی گئیں انکے بچوں کے وظائف مقرر کیے گئے،چھاونیاں تعمیر کی گئیں اور پنشن کا نظام قائم کیا گیا،غیر مسلموں کو جان ومال کی حفاظت دے کر انہیں مکمل مذہبی آزادی دی گئی۔ عوام کی فلاح وبہبود اورآسائش کے لئے سڑکیں، پل اور سرائے تعمیر کرائی گئیں۔تمام زمانہ خلافت میں خیمہ کبھی آپ کے پاس نہ رہا،سفر میں منزل پر پہنچ کر دھوپ یا بارش سے بچنے کے لئے کسی درخت پر کپڑا تان کر گزارہ کرلیتے،اپنے زمانہ خلافت میں تین عمرے کیے،اپنی مملکت میں ہر ایک کا خیال رکھتے تھے،حتی کہ جن عورتوں کے خاوند جہاد کے لئے گئے ہوئے تھے ان کے دروازوں پر جاکر انہیں سلام پیش کرتے،ان کیلئے سودا سلف خرید کرلاتے اور جن کے پاس پیسہ نہ ہوتا انہیں اپنی جیب سے خریدکردیتے۔آپ کے بہت سے اعزازات میں سے ایک اعزاز یہ بھی ہے کہ آپ وہ پہلی شخصیت ہیں جنہیں امیر المومنین کے لقب سے پکارا گیا،17ہجری میں مسجد نبویؐ اور مسجد حرام میں توسیع کی اور مسجد نبویؐ کے لکڑی کے ستون نکال کر اینٹ کے ستون لگادئیے زمین پر موجود انسانوں کے علاوہ بھی اگر آپ نے ہوا کو حکم دیا تو اس نے مانا،قبرستان میں مردوں کو مخاطب کیا تو انہوں نے جواب دیا،دریا کو خط لکھا تو اس نے عمل کیا،اگر کہیں سے آگ نکلی جو لوگوں کو نقصان پہنچارہی تھی تو اس کو اندر دھکیلنے کے لئے اپنی چادر بھیجی،زلزلے کی وجہ سے زمین ہلی تو اسے کوڑا رسید کیا اورآج تک مدینہ میں دوبارہ زلزلہ نہیں آیا اور جب بارش کو دعا کے ذریعے بلایا تو پوری خوشی اور آب وتاب کے ساتھ بارش آپ کی طرف برستی ہوئی آئی،حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ رسول اللہﷺ کے ساتھ تھا کہ اتنے میں حضرت ابوبکر صدیق ؓاور حضرت عمرؓ دور سے آتے ہوئے دکھائی دیئے انہیں دیکھ کر آنحضرتﷺ نے فرمایا،یہ انبیاء اور رسولوں کے بعد باقی تمام جنتیوں کے سردار ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں