Search
Close this search box.
جمعه ,19 جون ,2026ء
No upcoming prayer found.

نسلِ نو، عقیدہ ختم نبوت ؐ اور تحفظ ناموسِ رسالتؐ

آج کا دور معلومات کی فراوانی کا دور ہے۔ چند لمحوں میں دنیا کے کسی بھی کونے سے خبر، رائے، نظریہ یا فکر ہمارے موبائل فون کی اسکرین پر موجود ہوتی ہے۔ اس تیز رفتار زمانے میں جہاں علم کے بے شمار مواقع پیدا ہوئے ہیں، وہیں فکری انتشار اور عقائدی گمراہی کے دروازے بھی کھلے ہیں۔ خصوصاً نوجوان نسل ایسی فکری یلغار کا سامنا کر رہی ہے جس کا مقصد ان کے ذہنوں میں شکوک و شبہات پیدا کرنا اور انہیں اپنی دینی شناخت سے دور کرنا ہے۔ ایسے حالات میں یہ ضروری ہے کہ نسلِ نو اپنے بنیادی اسلامی عقائد کو مضبوطی سے سمجھے اور ان پر کامل یقین رکھے۔ ان بنیادی عقائد میں عقیدہ ختم نبوتؐ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، کیونکہ یہ صرف ایک مذہبی مسئلہ نہیں بلکہ اسلام کی مکمل عمارت کی بنیادوں میں شامل ایک ایسا عقیدہ ہے جس کے بغیر ایمان کی تکمیل ممکن نہیں۔اے نوجوانو!تم وہ نسل ہو جس کے ہاتھوں میں مستقبل کی قیادت ہے۔ تمہاری فکری مضبوطی، دینی بصیرت اور نظریاتی استقامت ہی آنے والے معاشرے کی سمت متعین کرے گی۔ اس لئے ضروری ہے کہ تم عقیدہ ختم نبوتؐ کو صرف ایک سنا ہوا عقیدہ نہ سمجھو بلکہ اس کی حقیقت، اہمیت اور اس کے تقاضوں کو جاننے کی کوشش کرو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی حضرت محمد مصطفیﷺ کو تمام انسانیت کے لئے آخری نبی بنا کر مبعوث فرمایا۔ آپ ﷺ کی بعثت کے بعد نبوت کا سلسلہ ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا گیا۔ قرآن مجید نے اس حقیقت کو واضح اور دوٹوک انداز میں بیان کیا کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول اور تمام نبیوں کے خاتم ہیں۔ یہی وہ عقیدہ ہے جس پر چودہ صدیوں سے پوری امتِ مسلمہ متفق چلی آ رہی ہے۔ عقیدہ ختم نبوتؐ دراصل اسلام کی حفاظت کی ضمانت ہے۔ اگر نبوت کا دروازہ کھلا رہتا تو ہر دور میں نئے دعوے دار پیدا ہوتے، نئی شریعتیں سامنے آتیں اور دین اپنی اصل صورت میں باقی نہ رہتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی ﷺ کے ذریعے دین کو مکمل فرمایا اور اسے قیامت تک محفوظ رکھنے کا وعدہ کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آج بھی اپنی اصل تعلیمات کے ساتھ موجود ہے۔ اس حقیقت کو سمجھنا ہر مسلمان نوجوان کی ذمہ داری ہے تاکہ وہ کسی بھی قسم کے فکری فریب کا شکار نہ ہو۔
بدقسمتی سے سوشل میڈیا اور جدید ذرائع ابلاغ نے جہاں مثبت معلومات کی ترسیل آسان بنائی ہے، وہیں بعض گمراہ نظریات کو بھی نئی زندگی دی ہے۔ نوجوانوں کو مختلف انداز میں ایسے مواد تک رسائی دی جاتی ہے جس میں اسلامی عقائد کے بارے میں شبہات پیدا کیے جاتے ہیں۔ بعض اوقات مذہبی آزادی، روشن خیالی یا انسانی حقوق کے نام پر ایسے نظریات پیش کئے جاتے ہیں جو براہِ راست اسلامی عقائد سے متصادم ہوتے ہیں۔ ایک مسلمان نوجوان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر بات کو بغیر تحقیق قبول نہ کرے بلکہ قرآن، سنت اور مستند علما کی رہنمائی کی روشنی میں حق اور باطل میں فرق کرے۔تاریخ شاہد ہے کہ امتِ مسلمہ نے ہر دور میں عقیدہ ختمِ نبوتؐ کے تحفظ کے لیے عظیم قربانیاں دی ہیں۔ صحاب کرام رضی اللہ عنہم نے جھوٹے مدعیانِ نبوت کے خلاف استقامت کا مظاہرہ کیا۔ بعد کے ادوار میں علماء، محدثین، مفسرین اور فقہا نے علمی دلائل کے ذریعے اس عقیدے کی حفاظت کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ حضرت محمد ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا اور جو شخص اس کے برعکس عقیدہ رکھے وہ اسلامی تعلیمات سے انحراف کرتا ہے۔ یہ صرف فقہی یا نظری بحث نہیں تھی بلکہ امت کی فکری وحدت اور دینی شناخت کے تحفظ کی جدوجہد تھی۔نسلِ نو کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ محبتِ رسول ﷺ اور عقیدہ ختم نبوتؐ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں۔ جو دل حضور اکرم ﷺ کی محبت سے سرشار ہوتا ہے وہ آپ ﷺ کی ختمِ نبوت پر بھی کامل یقین رکھتا ہے۔ محبت صرف جذبات کا نام نہیں بلکہ اطاعت، وفاداری اور عقیدت کا نام ہے۔ اگر ہم واقعی رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں آپ ﷺ کی تعلیمات کو اپنانا ہوگا، آپ ﷺ کے اخلاق کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا اور آپ ﷺ کے مقام و مرتبے کے بارے میں ہر قسم کے شکوک و شبہات سے خود کو محفوظ رکھنا ہوگا۔
تحفظ ناموسِ رسالتؐ بھی اسی محبت کا فطری تقاضا ہے۔ دنیا میں ہر شخص اپنی عزت، خاندان اور محبوب شخصیات کے احترام کا خواہاں ہوتا ہے۔ ایک مسلمان کے لئے سب سے زیادہ محترم ہستی رسولِ اکرم ﷺ کی ذاتِ اقدس ہے۔ آپ ﷺ کی شان میں گستاخی یا بے ادبی صرف ایک فرد کے جذبات کو نہیں بلکہ پوری امت کے ایمان کو مجروح کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کے دلوں میں حضور ﷺ کی محبت ہر محبت سے بڑھ کر ہوتی ہے۔ تاہم نوجوانوں کو یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ تحفظ ناموسِ رسالتؐ کا صحیح راستہ علم، حکمت، اخلاق اور قانونی دائرے میں رہتے ہوئے جدوجہد کرنا ہے۔ اسلام ہمیں جذبات کے ساتھ ساتھ حکمت اور دانش بھی سکھاتا ہے۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوان صرف نعروں تک محدود نہ رہیں بلکہ اپنے علم میں اضافہ کریں۔ جب تک عقائد کی بنیادیں مضبوط نہ ہوں، محض جذبات دیرپا نتائج پیدا نہیں کرتے۔ قرآن مجید کا مطالعہ، احادیثِ نبویہ کا فہم، سیرتِ طیبہ کا مطالعہ اور علماِ حق کی صحبت نوجوانوں کو فکری استحکام عطا کرتی ہے۔ جو نوجوان اپنے دین کو جانتا ہے وہ باطل نظریات کے سامنے کبھی کمزور نہیں پڑتا۔ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اسلام نے ہمیشہ دلیل اور حکمت کی بنیاد پر دعوت دی ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ نے مکہ کے سخت ترین حالات میں بھی صبر، برداشت اور اعلی اخلاق کا مظاہرہ کیا۔ آپ ﷺ نے لوگوں کے دل جیتے، کردار سے انقلاب برپا کیا اور انسانیت کو روشنی کا راستہ دکھایا۔ آج اگر ہم واقعی آپ ﷺ کے سچے امتی بننا چاہتے ہیں تو ہمیں بھی اپنے کردار کو مضبوط بنانا ہوگا۔ دیانت داری، سچائی، امانت، عدل، رحم اور احترامِ انسانیت وہ صفات ہیں جو ایک مسلمان نوجوان کو دوسروں سے ممتاز کرتی ہیں۔عقیدہ ختمِ نبوتؐ کا ایک اہم تقاضا یہ بھی ہے کہ مسلمان اپنی شناخت پر فخر کرے۔ مغرب کی اندھی تقلید یا فکری مرعوبیت سے نکل کر اپنی دینی اقدار کو سمجھنا وقت کی ضرورت ہے۔ جدید تعلیم حاصل کرنا، سائنس اور ٹیکنالوجی میں ترقی کرنا اور دنیاوی میدانوں میں آگے بڑھنا یقینا ضروری ہے، لیکن اس کے ساتھ اپنی دینی بنیادوں کو مضبوط رکھنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔ کامیاب وہی نوجوان ہے جو جدید دنیا کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے اپنے ایمان اور عقیدے کی حفاظت بھی کرے۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں