(گزشتہ سے پیوستہ)
برطانوی حکام نے وقتافوقتامختلف سرحدی لکیریں تجویزکیں مگر چین نے کبھی ان کوتسلیم نہیں کیاکیونکہ ان میں سے کوئی بھی چین کے ساتھ باضابطہ معاہدے کے ذریعے طے نہ ہوسکی۔یہی وجہ تھی کہ چین نے ان تمام لکیروں کویکسرمستردکر دیا۔ جب1947ء میں برطانوی راج کاخاتمہ ہواتواکسائی چن کی سرحدغیرواضح اورایک معمہ بنی ہوئی تھی۔یہ ایک ایساعلاقہ تھاجس پردونوں ممالک بھارت اورچین دونوں نے دعویٰ کر تے ہوئے اپنے اپنے نقشوں میں شامل کرلیا،حالانکہ زمینی حقیقت میں یہ ایک غیرمتعین خطہ تھا۔یوں ایک ’’نومینزلینڈ‘‘تنازع کامرکزبن گیا۔
چین نے1956-57ء میں اس علاقے سے گزرنے والی ایک اہم فوجی سڑک تعمیرکی،جس نے سنکیانگ کوتبت سے جوڑدیاجس سے اس کی عسکری برتری مستحکم ہوئی۔یہ اقدام نہ صرف عسکری لحاظ سے اہم تھابلکہ اس نے چین کی اس علاقے پرگرفت کوبھی مضبوط کردیا اوربھارت کیلئے خطرے کی گھنٹی بج گئی۔چین نے تنازع کے حل کیلئے ایک عملی تجویز پیش کی کہ اکسائی چن اسے دے دیا جائے اور بھارت اکسائی چن کوتسلیم کرلے اور بدلے میں چین اروناچل پردیش پراپنے دعوے سے دستبردارہوجائے گامگربھارت نے اسے اپنی خود مختاری کے منافی سمجھتے ہوئے مستردکردیاجس کے بعدکشیدگی میں اضافہ ہواجوآج شدت اختیارکرچکاہے۔
اس انکارکانتیجہ اکتوبر1962ء کی جنگ کی صورت میں نکلا،جس کے بعدلداخ کاشمال مشرقی حصہ چین کے کنٹرول میں آگیا، اگرچہ وقتی خاموشی طاری ہوئی،مگرسرحدی تنازع اپنی جگہ برقراررہااور خطے کی سیاست ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگئی۔ اس جنگ نے نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات کومنجمد کردیا بلکہ خطے کی جغرافیائی سیاست کوبھی یکسر بدل کررکھ دیا۔ بعدازاں1993ء میں لائن آف ایکچوئل کنٹرول کوتسلیم کرنے کامعاہدہ ایک عارضی سکون کاباعث بنا، لیکن 2019ء میں بھارت کی جانب سے جموں وکشمیرکی آئینی حیثیت کی تبدیلی نے اس توازن کوایک بارپھرتہ وبالاکردیاجس پرچین کے شدید ترین ردعمل نے اس اقدام کواپنی علاقائی خودمختاری کے خلاف قرار دیا۔
یہ تمام پیش رفتیں اس امرکی غمازی کرتی ہیں کہ کشمیرکاتنازع ایک نئے مرحلے میں داخل ہوچکاہے، ایسامرحلہ جہاں چین اور پاکستان کے درمیان تعاون مزید گہرا اور بامعنی ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورچین کے درمیان بھی ابتدامیں سرحدی اختلافات موجود تھے۔ 1959ء میں پاکستان کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کوچین نے سرد مہری سے لیا،کیونکہ اس وقت اس کی ترجیح بھارت تھا۔تاہم وقت کے ساتھ حالات بدلے۔ ایوب خان اورچینی قیادت کے درمیان سفارتی روابط نے اس جمودکوتوڑا،ایوب خان کی قیادت میں دونوں ممالک نے باہمی احترام کی بنیاد پرمسائل کوحل کرنے کیلئے ایک متوازن سفارتی حکمت عملی اپنائی،اورمضبوط اعتمادسازی کی فضاقائم کرنے کی جامع پالیسیاں تشکیل دیں۔اقوام متحدہ میں چین کی نمائندگی کے معاملے پرپاکستان کی حمایت نے بھی دونوں ممالک کوقریب لانے میں اہم کرداراداکیا۔
بالآخر12 اکتوبر 1962ء کوباقاعدہ مذاکرات کا آغازہوا۔ابتدائی اختلافات کے باوجوددونوں فریقین نے حقیقت پسندی کامظاہرہ کیااورایک قابلِ قبول حل کی طرف پیش رفت کی۔جن میں چین نے ابتدائی طورپرکچھ علاقوں پردعویٰ کیامگربعد ازاں پاکستان کے مؤقف کوتسلیم کرتے ہوئے معمولی ترامیم پراتفاق کیا۔ 2مارچ 1963ء کوبیجنگ میں تاریخی معاہدہ طے پایا۔ یہ معاہدہ قراقرم واٹرشیڈپرمبنی تھااوراس میں قراقرم واٹر شیڈ کوبنیادبنایاگیا،اوردونوں ممالک نے باہمی رضامندی سے اپنی سرحدوں کاتعین کیا۔یہ ایک ایسا لمحہ تھاجس نے دونوں ممالک کے تعلقات کونئی بنیادفراہم کی۔
پاکستان اورچین کے درمیان طے پانے والا معاہدہ ایک عارضی انتظام کے طورپربھی دیکھاگیا، جس میں یہ شرط شامل تھی کہ اگرکشمیر کامسئلہ کسی حتمی حل کی طرف بڑھتاہے توسرحدی حدبندی کاازسرنو جائزہ لیاجا سکتا ہے۔معاہدے میں یہ واضح کیاگیا کہ یہ ایک عبوری انتظام ہے اورجموں وکشمیرکے حتمی حل کی صورت میں اس کاازسرنوجائزہ لیاجا سکتا ہے۔اس معاہدے میں واضح کیاگیاکہ یہ جموں و کشمیرکی حتمی حیثیت پراثراندازنہیں ہوگا،بلکہ ایک عبوری انتظام ہے۔یہ شق اس معاہدے کی دوراندیشی کامظہراوربصیرت کامنہ بولا ثبوت ہے۔
پاکستان نے اس معاہدے میں اپنے مفادات کاتحفظ کرتے ہوئے ایک انچ زمین دیئے بغیر750 مربع میل علاقہ حاصل کیایہ معاہدہ محض سرحدوں کی حدبندی نہیں تھابلکہ ایک فکری ہم آہنگی کامظہرتھا۔پاکستان نے اپنے تاریخی حقوق کاتحفظ کرتے ہوئے شمشال پاس کے پار واقع چراگاہی علاقوں کوبھی اپنے نقشے میں شامل کروایا، جوصدیوں سے ہنزہ کے باشندوں کے زیراستعمال تھے۔یہ چین کی جانب سے ایک غیرمعمولی لچک کااظہار اورچین کی فراخ دلی کامظہرتھا۔
یہی وہ لمحہ تھاجب پاکستان اورچین کے تعلقات نے ایک نئی کروٹ لی۔یہ معاہدہ نہ صرف سرحدی تنازع کے حل کی ایک مثال بنابلکہ اس نے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد، تعاون اورہم آہنگی کی ایک مضبوط بنیادبھی فراہم کی۔1963ء کاپاک-چین سرحدی معاہدہ محض ایک جغرافیائی سمجھوتہ نہ تھا،بلکہ ایک ایسی سفارتی حکمت عملی کامظہر تھاجس نے خطے میں طاقت کے توازن کونئی شکل دی۔اس معاہدے کے بعد چین نے نہ صرف پاکستان کے موقف کی بھرپوراور جاندار تائیدکی بلکہ کشمیرکے مسئلے پربھی اس کے ساتھ ہم آہنگی اختیارکی جس سے دونوں ممالک کے درمیان اعتماداورہم آہنگی میں اضافہ ہوا۔
بھارت نے اس معاہدے کویکسرمستردکردیا اور اسے غیر قانونی قراردیا،یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ پورا کشمیراس کااٹوٹ انگ ہے۔مگر پاکستان کے وزیرخارجہ ذوالفقارعلی بھٹونے اس مؤقف کو نہایت مدلل اندازمیں ردکیا۔بھٹو نے اس معاہدے میں کلیدی کرداراداکیااور چین کے ساتھ تعلقات کوایک نئی جہت دی،جس سے پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ایک واضح تبدیلی آئی۔ان کی سفارتی بصیرت نے پاکستان کوایک نئی سمت دی اور چین کے ساتھ تعلقات کومضبوط بنیادوں پراستوار کیا۔ انہوں نے واضح کیاکہ کشمیرایک متنازع خطہ ہے جس کا مستقبل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق طے ہونا چاہیے،نہ کہ یکطرفہ دعووں کے ذریعے۔
آج جب ہم موجودہ عالمی منظرنامے پرنظر ڈالتے ہیں تویہ واضح ہوتاہے کہ کشمیرکا تنازع ایک نئے مرحلے میں داخل ہوچکاہے۔بھارت کی جانب سے5 اگست2019ء کوآئینی تبدیلیاں، چین کاردعمل،اور پاکستان کانیانقشہ ،یہ سب اس بات کی علامت ہیں کہ خطہ ایک نئی صف بندی کی طرف بڑھ رہاہے۔ایسے میں سوال یہ پیداہوتاہے کہ کیایہ تنازع یکطرفہ اقدامات سے حل ہو سکتا ہے؟یا اس کیلئے ایک جامع، منصفانہ اورباہمی طورپرقابلِ قبول حل کی ضرورت ہے؟
بطورایک کشمیری نژادپاکستانی،یہ سوال میرے لیے محض ایک علمی بحث نہیں بلکہ ایک ذاتی احساس کادرجہ رکھتاہے۔میں نے اپنی کئی ذاتی ملاقاتوں میں مرحوم اے جی نورانی جیسے دانشوروں سے جوکچھ سیکھا،وہ یہ ہے کہ تاریخ کے فیصلے جذبات سے نہیں بلکہ شواہد، اصولوں اورانصاف کے تقاضوں سے کئے جاتے ہیں۔ یہ امرقابلِ غورہے کہ چین نے 1963ء سے 2008ء کے درمیان اپنے تقریباً تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ سرحدی تنازعات کو بڑی حد تک حل کرلیامگربھارت اوربھوٹان کے ساتھ اس کے مسائل اب بھی حل طلب ہیں۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتاہے کہ مسئلہ صرف سرحدوں کانہیں بلکہ سیاسی ارادوں کابھی ہے۔اس سے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ تنازعات کاحل صرف تاریخی دعووں یاعسکری طاقت سے نہیں بلکہ باہمی مفاہمت، لچک اورحقیقت پسندی سے ممکن ہوتاہے۔
آج جب ہم اس تمام تاریخی پس منظرکودیکھتے ہیں توایک سوال ہمارے سامنے ابھرتاہے:کیایہ تنازعات یکطرفہ اقدامات سے حل ہوسکتے ہیں؟یااس کے لئے باہمی مفاہمت،لچک اور حقیقت پسندی کی ضرورت ہے؟تاریخ ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ پائیدار امن صرف اسی وقت ممکن ہے جب تمام فریقین اپنے اپنے موقف سے ایک قدم پیچھے ہٹ کرمشترکہ مستقبل کی طرف بڑھیں۔ شایدیہی وہ راستہ ہے جوجنوبی ایشیاء کوایک نئے دورِ استحکام کی طرف لے جاسکتاہے۔
آج ضرورت اس امرکی ہے کہ ہم ماضی کی تلخیوں کودہرانے کے بجائے مستقبل کی راہوں کو ہموار کریں۔چین اورپاکستان نے1963ء میں جس بصیرت کامظاہرہ کیا،وہ آج بھی ایک مثال بن سکتی ہے۔ اگر بھارت بھی اسی جذبے کے ساتھ آگے بڑھے توبعیدنہیں کہ یہ خطہ ایک نئے امن،استحکام اورترقی کے دورمیں داخل ہوجائے۔ آخرمیں یہ کہنابے جانہ ہوگاکہ سرحدیں صرف زمین کوتقسیم کرتی ہیں،دلوں کو نہیں۔اگرنیتوں میں خلوص،پالیسیوں میں توازن اورقیادت میں بصیرت ہوتوہرتنازع ایک نئے آغازاورایک بہترکل کاموقع بن سکتاہے۔