صدر ٹرمپ کا مضحکہ خیز بھاشن
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’سوشلٹروتھ‘‘پر لکھا ہے کہ’’چین اب ایران سے تیل کی خریداری جاری رکھ سکتا ہے اور مجھے امید ہے کہ چین امریکہ سے بھی بڑی مقدار میں تیل خریدے گا‘‘ بین الاقوامی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’سوشلٹروتھ‘‘پر لکھا ہے کہ’’چین اب ایران سے تیل کی خریداری جاری رکھ سکتا ہے اور مجھے امید ہے کہ چین امریکہ سے بھی بڑی مقدار میں تیل خریدے گا‘‘ بین الاقوامی
پاکستان اور امریکہ کے تعلقات ہمیشہ ایک پیچیدہ مگر ناگزیر حقیقت رہے ہیں۔ قیامِ پاکستان کے فوراً بعد سے لے کر آج تک، واشنگٹن کے ساتھ اسلام آباد کے تعلقات میں اتار چڑھائو آتے رہے، مگر ہر دور میں خواہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بقول ’’امریکی جنگی طیاروں نے ایران میں تین جوہری مقامات پر بمباری کی ہے ۔جس کے بعد امریکہ باقاعدہ طور پر ایران اسرائیل کے درمیان جنگ میں شامل ہوگیا ہے ‘‘۔ اتوار کی صبح اپنے
دوسری جنگِ عظیم کے بعد جب دنیا نے تباہی سے سبق سیکھنے کی امید باندھی تھی، تبھی ایک نیا عالمی نظام ابھرا جس میں امریکہ نے خود کو ’’امن‘‘، ’’جمہوریت‘‘ اور’’آزادی‘‘ کا علمبردار قرار دیا۔ مگر وقت نے یہ ثابت
مشرق وسطیٰ کی سیاسی اور عسکری تاریخ کا بنظر غائر مطالعہ کیا جائے تو مصر اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کی نوعیت ہمیشہ غیر معمولی اہمیت کی حامل دکھائی دیتی ہے ۔اسرائیلی ریاست کے قیام عمل میں آجانے کے بعد
آج کا اظہاریہ معمول سے ہٹ کر ہے یہ سوچ کے عمل کا شاخسانہ ہے۔ جو اس عمر رفتہ کا لازمہ ہے کہ ہم جو الفاظ استعمال کرتے ہیں ان کے معنی پر سرسری توجہ دے رہے ہوتے ہیں ان
ایلیس سلور کے آبائی وطن اور شخصی زندگی کے بارے میں انتہائی محدود معلومات ملتی ہیں تاہم یہ طے شدہ بات ہے کہ وہ امریکہ میں ماہر ماحولیات کے حوالے سے خاصی شہرت رکھتا ہے ۔ اس نے ماحولیاتی تحفظ
چائنا کے چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ ’’میری نظر میں کرپشن قتل سے بھی زیادہ سنگین جرم ہے کیونکہ قاتل صرف ایک شخص یا چند افراد کو قتل کرتا ہے لیکن ایک کرپٹ شخص پورے ملک کے معاشی نظام
وہ ملک جس کی معیشت کی کمر اتنی نہ مضبوط ہو کہ اپنی اسی فیصد آبادی کی بھوک کا بوجھ نہ سہار سکے اس ملک کی اشرافیہ اور مقتدرہ کروڑوں روپے کا زر شرلیوں اور دیگر آگ اگلتے پٹاخوں کو
وہ کہاں ہے ؟ جہاں بھی ہے چپ ہے۔اس نے اپنے ہونٹ مصلحت کے دھاگے سے سی لئے ہیں ۔اس کے ملک پر سے کتنا بڑا حادثہ گزر گیا ،وہ چپ رہا ۔جغرافیائی سرحدوں پر قیامت ٹوٹ پڑی وہ چپ