مصور اور مسیحا ڈاکٹر خلیق الرحمان
یوں تو وہ ایک ڈاکٹر ہے ،ملتان سے ایم بی بی ایس کیا ، لاہور سے یورالوجی میں ایم ایس کیا ، مگر پیاس پھر بھی نہیں بجھی اور دیار مغرب کی تیاری باندھ لی ۔اس وقت پاکستان میں اس
یوں تو وہ ایک ڈاکٹر ہے ،ملتان سے ایم بی بی ایس کیا ، لاہور سے یورالوجی میں ایم ایس کیا ، مگر پیاس پھر بھی نہیں بجھی اور دیار مغرب کی تیاری باندھ لی ۔اس وقت پاکستان میں اس
قوم پرستی کی بہت ساری جہتیں ہیں ،ہر جہت کی اپنی ایک تعریف ہے تاہم اس کی ایک اہم جہت ایک ایسا مثبت جذبہ ہے جو کسی فرد کے اندر اپنی قوم کی ترقی و خوشحالی اور خودمختاری و شناخت
سید یوسف رضا گیلانی سرائیکی وسیب کے نفیس طبع سنجیدہ مزاج سیاستدان اور پڑھے لکھے ،ادیب اور ادب شناس انسان ہیں انہوں نے پروقار سیاسی زندگی کا آغاز کیا اور عزیمت کے رستے کے مسافر رہے ہیں ،انہیں بات کرنے
’’آئین کسی ملک کی جغرافیائی حدود میں رہنے والے لوگوں کا ’’سماجی معاہدہ‘‘ ہوتا ہے۔ پاکستان کے آئین کی تشکیل اور اس کے حکمرانوں اور عوام کی طرف سے قبولیت کی ایک مختلف تاریخ ہے۔یہ امر دلچسپ ہے کہ آزادی
انسان جب شعور کی منزل پر پہنچتا ہے تو اس کی زندگی دو رخ پر تقسیم ہو جاتی ہے subjective اور objective یعنی غیر معروضی اور معروضی۔غیر معروضی کا مطلب ہے جو ذاتی خیالات و احساسات پر مبنی ہو جبکہ
دنیا کی قدیم ترین متنوع تہذیبی تاریخ کا حامل پیرو جو ہمیشہ سیاسی انتشار کا شکار رہا ہے ۔پیرو کی ثقافتیں جہتیں بھی ایک سے زیادہ ہیں ۔ہسپانیہ سے پہلے کا دور،جس کا مرکز ’’کوزکو‘‘ تھا اس کا تہذیبی دور
’’دانشور ڈاکٹر سلامت اللہ فرماتے ہیں‘ یہ ناممکن ہے کہ کسی قوم کی معیشت خراب ہو اور اس قوم کا اخلاق و کردار ا چھا ہو‘‘ اسی لئے تو میرے پیارے نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
اہل علم وہ ہوتے ہیں جو حالات کے تیور دیکھتے ہوئے مستقبل کا اندازہ لگا لیتے ہیں ۔روبرو حقائق پر الفاظ کے غلاف چڑھانے کا ہنر رکھنے والے اہل قلم تو فقط فروغ منافقت کے آرزو مند ہوتے ہیں ،کیا
فنون لطیفہ ہو یا شعرو ادب ،کلاسیکل تحریک ایسی تحریک کو کہا جاتا ہے جو قدیم یونانی ،رومی اور تاریخ کے ابتدائی ادوار کے اصولوں، جمالیات اور فکری اقدارو روایات کو اپنا موضوع بناتی ہے۔اردو ادب کی تاریخ لکھنے والوں
پہلی بار نہ سہی مگر اکادمی ادبیات پاکستان نے ادبی ایوارڈ زکی صورت میں جو اندھا یدھ برپاکیا ہے اس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی ۔قومی معاملات میں مقتدرہ یا اسٹیبلشمنٹ کے کردار پر تو ہوہکار کے طوفان تو