ہائے اس زود پشیماں کا پشیماںہونا
(گزشتہ سےپیوستہ) مکتی باہنی کے سابق کمانڈر نےکہا کہ بھارت میں ایک نیا انقلاب برپا ہو گا،جس کے نتیجے میں نئی ریاستیں بنیں گی۔ہم 98فیصد مسلمان ہیں جوبھارت سے لڑیں گے۔ بھارت تقسیم ہو جائے گا کیونکہ اس کا 48فیصدعلاقہ
(گزشتہ سےپیوستہ) مکتی باہنی کے سابق کمانڈر نےکہا کہ بھارت میں ایک نیا انقلاب برپا ہو گا،جس کے نتیجے میں نئی ریاستیں بنیں گی۔ہم 98فیصد مسلمان ہیں جوبھارت سے لڑیں گے۔ بھارت تقسیم ہو جائے گا کیونکہ اس کا 48فیصدعلاقہ
انتشاری ٹولہ اور بعض صحافتی گدھ جس طرح سےشیخ مجیب کے وکیل صفائی بنے ہوئے ہیں ،اگر کوئی سمجھتا ہے کہ یہ محض اتفاق ہے توبڑی غلط فہمی میں ہے یا سٹریٹجک تبدیلیوں سے لاعلم، بلکہ جہالت کا شکار ۔
جھوٹ ہمیشہ سے جنگ کا اک مہلک ہتھیار رہا ہے ، استعمار نے اسے فن بنادیا ، اورہمارے ٹوڈیان انتشار نے اسے طرہ امتیاز بنا لیا ہے ۔ ہندو متھڈولوجی کے گرو چانکیہ کوٹلیہ سے لے کر فرنگیوں کے استاد
مقصد ایک ہی ہے ،طریقہ کار بھی تبدیل نہیں ہوا،سازش وہی ہے ، آلہ کار بھی نئےنہیں ، فرق صرف اتنا ہے کہ 71 میں باپ وطن فروش تھا، ملک دشمنوں کا آلہ کار اور ہم وطنوں کی لاشوں کا سوداگر تو
جنگوں کی تاریخ میں لاشوں کی تعداد اور تباہی کی مقدار کو کبھی فتح و شکست کا پیمانہ نہیں سمجھا گیا ، بلکہ حصول مقصد فتح وشکست کی بنیاد قرار پاتا ہے۔ آزادی کی جنگوں میں اس اصول میں ایک اور
ان کے لئے مذہب صرف ایک ٹچ ہے اور جھوٹ ، فریب اور فراڈ آرٹ ۔ جب بھی زبان کھلتی ہے ، جھوٹ برآمد ہوتا ہے یا الزام۔ سارے زمانے کو بلا ثبوت چورچور کہنےو الوں کی جب ایسی چوری پکڑی
دہلی سے یہ اچانک چیخ وپکار کیوں شروع ہوگئی ہے؟ بھارتی لیڈرشپ کو پاکستان کی طرف منہ کرکے ہذیانی انداز میں گالیاں بکنے اور الزام تراشی کرنے کا دورہ کیوں پڑگیا ہے؟ وہ تو اپنی فلم انڈسٹری اور میڈیا کے ذریعہ
موت کیا ہے؟ محض کشمکش حیات؟ ….انسان سمجھتا ہے اس نے بہت سیکھ لیا ، بہت ترقی کرلی ، دنیا تسخیر کرلی ، حقیقت صرف اتنی ہے کہ ایک سانس ، محض ایک سانس…. جس پر اس کا کوئی اختیار ہی
انتخابات کے بعد تیاری کے مراحل میں ٹرمپ کی امریکی حکومت کے بارے میں کسی نے درست کہا ہے کہ ’’ امریکی تاریخ کی پہلی مخلوط حکومت ‘‘بن رہی ہے ۔جس میں صدر کے سوا تمام وزارتیں اور اہم عہدے
جب ہم کہتے ہیں یہ ملک دشمن ہے تو بہت سی جبینیں شکن آلود ہو جاتی ہیں ، جب بتاتے ہیں کہ یہ دہشت گردوں کا ’’گارڈ فارد‘‘ ہے تو انتشاری مغلظات اگلنے لگتے ہیں۔ اب قائد انتشار وتخریب کی ہمشیرمحترمہ نے