Search
Close this search box.
جمعرات ,09 جولائی ,2026ء

’’ہمیں ننگ سے کیا کام‘‘

جب ہم کہتے ہیں یہ ملک دشمن ہے تو بہت سی جبینیں شکن آلود ہو جاتی ہیں ، جب بتاتے ہیں کہ یہ دہشت گردوں کا ’’گارڈ فارد‘‘ ہے تو انتشاری مغلظات اگلنے لگتے ہیں۔ اب قائد انتشار وتخریب کی ہمشیرمحترمہ نے جیل میں ملاقات کے بعد ہمارے سب خدشات کی تصدیق کردی ہے ، انتشاری بتائیں کہ اس صورتحال کو کیا کہا جائے؟ علیمہ خان صاحبہ کے بقول ’’اس نے افغانستان میں دہشت گردوں کے اڈوں کو نشانہ بنانے پرافسوس کااظہار کیا ہے۔‘‘ یعنی اسے ٹی ٹی پی کے خود کش سکوارڈ کے چیف مخلص یار کے مارے جانے کا افسوس ہے ، اس کے ہاتھوں جام شھادت نوش کرنے والے ہزاروں بے گناہ پاکستانیوں کا نہیں، اسے ٹی ٹی پی کے دہشت گرد اظہار عرف ابو حمزہ ، اختر محمد ، انعام اللہ خوشحالی ، بخت اللہ اور رحمت ولی اور ان کے سو سے زیادہ ساتھی دہشت گردوں کے جہنم واصل ہونے پر افسوس ہے ۔ اسے افسوس ہوا منیب جٹ کے مارے جانے کا، جو القاعدہ کے سوشل میڈیا کا دماغ تھا ، 2022 کے آخر میں ٹی ٹی پی میں آیا ۔ الزام کی بات نہیں ،آج بھی کوئی ریسرچر بیٹھے اور چیک کرے تو گنگ رہ جائے گا کہ 9مئی 2023کے سانحہ کے دوران پی ٹی آئی سے زیادہ ٹی ٹی پی کا سوشل میڈیا متحرک رہا ، ایک دوسرے کے پیغامات ری پوسٹ کئے جاتے رہے، گو کہ بہت سا مواد ڈیلیٹ کردیا گیا ،لیکن اب بھی سوشل میڈیا ٹریفک کے اتنے ثبوت موجود ہیں کہ فیصلہ کرنا مشکل ہوجاتا ہے کہ یہ دو الگ کلٹ ہیں یا ایک ہی گروہ ۔
معاملہ صرف ٹی ٹی پی تک محدود نہیں ہے ، پاکستان کا ہر دشمن اس کا دوست اور مداح ہے ، کیوں ؟ اس وقت جن امریکی کرداروں کی حمائت کا ڈھول پیٹا جارہا ہے ، ان کا تعارف ہی یہ بتانے کو کافی ہے کہ مہاتما کی سیاست کا خمیر کہاں سے اٹھا؟ مقاصد کیا ہیں ؟ اور اس وقت ہنگامہ کیوں بپا ہے ؟ رچرڈ گرینیل کا نام تو اب سامنے آیا ، اس سے پہلے بریڈ شرمین کا نام گونجتا تھا ، یہ وہی ہے 9 مئی سے پہلے انتشاری قائد کا جس سے رابطہ منظر عام پر آیا ، پھر امریکہ سے ایک 12 رکنی وفد بھی پاکستان پہنچا جس کی واحد مصروفیت زمان پارک لاہور میں ملاقاتیں تھی۔ انتشاری سیاست کی ٹائم لائن چیک کرلیں ، اس میں تشدد اور تخریب کی شدت اس دورے کے بعد داخل ہوئی۔ بریڈ شرمین نامی یہ کردار کون ہے؟ جو انتشاریوں کی محبت میں پاگل ہوا پھرتا ہے ، کبھی اپنے وزیر خارجہ کو خط لکھتا ہے ، کبھی ارکان کانگریس سے خطوط لکھواتا ہے ، کبھی امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی میں بحث رکھواتا ہے اور پاکستان میں امریکی سفیر سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ جیل جاکر قائد انتشار سے ملاقات کرے اور اس کی جیل سے لائیو سٹریمنگ کا بندوبست کیا جائے ۔ موصوف کو دنیا بھر میں نیتن یاہو جونیئر کے نام سے جانا جاتا ہے ، اور یہ ایک سے زیادہ مرتبہ مطالبہ کرچکا ہے کہ غزہ پر ایٹم بم ماردیا جائے ، غزہ کی موت ، اسرائیل کا عالم اسلام پر قبضہ اور یہود کی فتح اس کا وہ خواب ہے ، جس کی تعبیر کے لئے یہ دن رات ایک کئے ہوئے ہے۔ سوال مگر یہ ہے کہ قائد انتشار کا اس کے مقاصد سے کیا تعلق دوسرا کردار جو اس کی حمائت میں بے کل ہے وہ ہے ، امریکہ کی نیشنل سکیورٹی کی مجوزہ ذمہ دار تلسی گیبرڈ، مذہبی طور پر انتہا پسند ہندو ، مودی کی مداح اور ہندوتوا سیاست کی علمبردار ، دنیا بھر کے مسلمانوں سے اس کی نفرت کے قصے زباں زد عام ہیں اور موصوفہ شرمین کی طرح ہی اپنے مقاصد اور خیالات کا کھلا اظہا ر کرتی ہے ، لیکن حیرت ہے کہ وہ امریکہ سے آزادی کے دعویدار کی حمائتی ہے ، کیوں؟ان تمام سوالوں کا جواب رچرڈ گرینیل کے انٹریو میں موجود ہے جو اس نے تین روز قبل ایک امریکی ٹی وی کو دیا ہےاور انتشاری ٹولہ اس پر پھولا نہیں سما رہا ۔ وائس آف امریکہ کی اردوویب سائٹ نے لکھا ہے کہ ’’امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تجویز کردہ مشیر رچرڈ گرینل نے امریکی ٹی وی ‘نیوز میکس کو دیے گئے انٹرویو میں رچرڈ گرینل کا کہنا تھا کہ عمران خان روایتی سیاست دانوں کی طرح نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان کے دور میں امریکہ کے پاکستان کے ساتھ بہت اچھے تعلقات تھے۔‘‘ اچھے تعلقات کا مطلب گرینیل کے نزدیک کیا ہے ، وہ بھی اسی کی زبانی پیش خدمت ہے ، ’’پاکستان کے میزائل پروگرام سے متعلق امریکی تشویش کے سوال پر رچرڈ گرینل کا کہنا تھا کہ آنے والے وزیرِ خارجہ مارک جوہری طاقت رکھنے والے ممالک کے معاملات دیکھیں گے اور پاکستان بھی ان میں شامل ہے۔ ‘‘ امریکہ کو پاکستان کے میزائل پروگرام سےتکلیف کیا ہے؟اس کا جواب بھی وائس آف امریکہ سے ہی تلاش کیا جاسکتا ہے ۔20دسمبر کو اس نے لکھا ’’امریکہ کے ڈپٹی نیشنل سکیوٹی ایڈوائز جون فائنر نے واشنگٹن میں کارنیگی انڈاؤمنٹ فار پیس انسٹی ٹیوٹ میں حاضرین سے خطاب میں کہاکہ میںکھلے طور پر کہوں گا کہ پاکستان امریکہ کے لیے ایک ابھرتا ہوا خطرہ ہے۔پاکستان نے انتہائی جدید میزائیل ٹیکنالوجی تیار کر لی ہے جس کے تحت وہ دور تک مار کرنے والے میزائل سسٹم سے لے کر دیگر آلات تک بنا سکتا ہے جس سے وہ بڑی راکٹ موٹرز کے تجربے کا اہل ہو جائے گا۔ اگر یہ رجحان جاری رہا تو پاکستان یہ صلاحیت حاصل کر لے گا کہ وہ جنوبی ایشیا سے باہر کافی دور تک بشمول امریکہ کے اندر تک اہداف کو نشانہ بنا سکے۔ ‘‘ گرینیل اور جون گرینر کے بیانات کو ملا کر دیکھا جائے تو کوئی ابہام نہیں رہتا کہ امریکی عمران خان کے لئے پاگل کیوں ہیں ؟ ان کی ضرورت یہ ہے کہ پاکستان کے میزائل پروگرام کو روکاجائےاور گرینیل یہ بتانے کی کوشش کر رہا ہے کہ ’’ عمران خان ہی امریکہ کے لئے یہ خدمت سر انجام دے سکے گا ۔ ‘‘
گرینیل کی یہ دلیل بے وزن نہیں کیونکہ ماضی میں ٹرمپ کے گزشتہ دور حکومت میں یہ موصوف ٹرمپ کے لئے یہی خدمات سرانجام دے چکےہیں ، کشمیر کا سودا کیا اور کہا کہ ’’ ایسے لگتا ہے ایک ا ور ورلڈ کپ جیت کر آیا ہوں ،‘‘ یعنی اب امریکی جانتے ہیں کہ اس کے بغیر وہ پاکستان کے میزائل پروگرام والاورلڈ کپ نہیں جیت سکتے ۔ گرینیل کاانٹر ویو یہ بتانے کو کافی ہے کہ جس طرح ساڑھے تین سالہ دور حکومت میں موصوف نے امریکہ کی خاطر سی پیک کو تباہ کیا اور امریکی نائب وزیر خارجہ کی آمد پر سی پیک کی تمام خفیہ دستاویزات تک رسائی دی ۔ وہی خدمت وہ اس سے میزائل پروگرام پر لینا چاہتے ہیں ۔ امریکہ پاکستان کے میزائل پروگرام کا دشمن کیوں ہے اور کیا امریکیوں کی تابعداری کی داستاں کوئی نئی بات ہے ، اس پر پھر بات ہوگی ۔ سر دست تو سوال یہ ہے کہ کل تک امریکہ سے آزادی کے نعرے اور آج امریکی مفاد کی خاطر پاکستان سے غداری کے وعدے ؟ نواب مصطفیٰ خان شیفتہ کے شعر میں تھوڑا سا تصرف کرتے ہوئے شہرت کی جگہ حکومت پڑھ لیا جائے تو اس سے بہتر وضاحت ممکن نہیں ۔
​ہم طالب’’ حکومت‘‘ ہیں، ہمیں ننگ سے کیا کام​
بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا​

یہ بھی پڑھیں