Search
Close this search box.
جمعرات ,09 جولائی ,2026ء

نیچاں دی اشنائی کولوں فیض کسے نئیں پایا

انتخابات کے بعد تیاری کے مراحل میں ٹرمپ کی امریکی حکومت کے بارے میں کسی نے درست کہا ہے کہ ’’ امریکی تاریخ کی پہلی مخلوط حکومت ‘‘بن رہی ہے ۔جس میں صدر کے سوا تمام وزارتیں اور اہم عہدے بھارتی دہشت گر دتنظیم بی جے پی اور اسرائیل کی حکمران دہشت گرد جماعت ’’لیکوڈ پارٹی‘‘ کے پاس 40اور60 کے تناسب سے ہوں گے۔ دوسری خصوصیت اس حکومت کی یہ ہے کہ اس کا ہر عہدیدار اتنا بد کردار ہے کہ امریکہ جیسے ’’کھلے ڈھلے‘‘معاشرے میں بھی انہیں اخلاقی مجرم ہی سمجھا جاتا ہے ، اکثریت تو باقاعدہ ریپ کیسز بھگت چکی ہے یا بھگت رہی ہے ۔ ویسے تو پوری دنیا ہی اس فکر میں ہے کہ ابلیس کی اس مجلس شوریٰ سے کیسے نمٹا جائے اور اپنا دامن اس کیچڑ سے کس طرح بچاپانا ممکن ہو سکے گا، لیکن دوجماعتیں اور دو ملک ایسے ہیں جوٹرمپ کو آتے دیکھ کر باقاعدہ جشن منا رہی ہیں ،ملکوں کی تو سمجھ آتی ہے کہ بھارت اور اسرائیل ٹرمپ پارٹی کے ’’ جرم شریک بھائی ‘‘ ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ’’سیاں‘‘ کوتوال بنے گا تو پہلے سے بڑھ کر دہشت گردی اور خونریزی کر سکیں گے۔ دوجماعتوں یعنی پی ٹی آئی اور بنگلہ دیشی قاتلہ حسینہ دیوی کی جماعت عوامی لیگ کیوں خوش ہیں؟ یہ بعض لوگوں کے لئے حیرت کی بات ہے ، حالانکہ سامنے کی حقیقت ہے کہ بر صغیر ہی نہیں عالمی سطح پر یہ ہی دوجماعتیں ہیں جو بحیثیت جماعت اور اپنی اپنی قیادت کی سطح پر اس شیطان منڈھلی کی رکنیت کے معیار پر پورا اترتی ہیں، لہٰذا خوش ہونا اور امیدیں باندھنا ان کا حق ہے۔اگر یہ اس مقصد کی خاطر کوئی پوجا پاٹھ بھی رکھ لیں تو اچنبھے کی بات نہیں ہوگی ، کہ ہرجاندار شدید غصے اور خوشی کے موقع پر اپنی اصل کی جانب ہی لوٹتا ہے لہٰذاٹرمپ کے معتقدین ، مقلدین اور متوصلین کی گرنیلی دھمال پر چیں بجبیں ہونا ، درست نہیں ، ارباب دانش بہت پہلے کہہ چکے ہیں ۔
صحبتِ صالح ترا صالح کُنَد
صحبتِ طالح ترا طالح کُنَد
کُند ہم جنس باہم جنس پرواز
کبوتر با کبوتر ، باز با باز ـ
دوسری لفظوؓں میں یہ کہ’’نیچاں دی اشنائی کولوں فیض کسے نہ پایا۔یہ الگ بات کہ جو کل تک ’’فیض یاب‘‘ ہو کر دوسروں کو دھمکاتے تھے ، اب اسی فیض یابی کے ذکر سے خوف کھاتے ہیں۔
ایک سوال یہ بھی ہے کہ ٹرمپ حکومت اس کے عزیز ازجان اتحادی بھارت و اسرائیل کے ساتھ مائی حسینہ اور ہینڈسم دونوں کا کیا مشترک ہے کہ یہ چہار قالب یک جانب دکھائی دے رہےہیں ، ایک قدر مشترک تو بیان کی جا چکی ہے کہ چاروں کا اخلاق ایک جیسا ہی’’ شاندار ہے۔‘‘چاروں ایک جیسے ہی پاکباز ہیں۔ ایک قدر مشترک البتہ اور بھی ہے، جو اس سے زیادہ مستحکم ہے اور وہ ہے نظریاتی ہم آہنگی یعنی اسلام دشمنی اور پاکستان دشمنی ۔ اسرائیل کا کردار کسی تعارف کا محتاج نہیں 50ہزار فلسطینیوں کے خون میں لتھڑے اس کے پنجے اور تھوتھنی پوری دنیا کے سامنے ہے ۔ بھارت کو بھی کون نہیں جانتا ؟ہم تو اسے اس کے قیام سے بھی پہلے سے جانتے ہیں ، لیکن مودی نے ایک کام ضرور کیا ہے کہ تاریخ میں جس ہندو کو’’ بغل میں چھری منہ میں رام رام ‘‘ کے استعارے سے پہچانا جاتاتھا، مودی نے اس کے مکروہ دانت پوری دنیا کو دکھا دئے ہیں ، اب تو امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ اور برطانوی جریدے دی گارڈین نے مودی کے پیچ چوراہے میں کپڑے اتار کر رکھ دئے ہیں۔
اگر کوئی سمجھتا ہے کہ واشنگٹن پوسٹ کی یہ رپورٹ کہ ’’بھارت عالمی دہشت گرد بن چکا ہے‘‘ ، صرف بھارت کے خلاف چارج شیٹ ہے تو یہ بڑی غلط فہمی ہے ، اس موقع پر بھارتی دہشت گردی کے ثبوت منظر عام پر لاکر واشنگٹن پوسٹ نے در اصل ٹرمپ کو چتاونی دی ہے کہ پون صدی سے امریکی سر پرستی میں پاکستان کے خلاف دہشت گردی کا نیٹ ورک چلانے والا بھارت اب امریکہ اور کینیڈا میں بھی خونریزی کا آغاز کر چکا ہے ، ایسے میں جب ٹرمپ کی نصف کابینہ بھارت نواز اور مودی کے چاہنے والوں پر مشتمل ہے ، امریکیوں کو بھارتی دہشت گردی کی سازشوں سے آگاہ کرنا ایک طرح سے مودی اور ٹرمپ دونوں پر چارج شیٹ ہے ۔ رہا سوال پاکستان اور بنگلہ دیش میں ٹرمپ کی پجاری جماعتوں کا تو وہ بھی پاکستان اور اسلام کے بارے میں وہی خیالات اور نظریات رکھتی ہیں جو اسرائیل اور بھارت کے ہیں ۔ 9 مئی کو پاکستان میں جو کچھ کیا گیا ، 26نومبر کو جس طرح سے ریاست کے خلاف بغاوت کی کوشش کی گئی ، اب ملک کی معاشی شہ رگ پر پائوں رکھنے کی جس طرح سے ناکام کوشش کی گئی ، یہ سب کیا ہے ؟ وہی تو ہے جو مودی دہلی میں بیٹھ کر اور نیتن یاہو تل ابیب میں بیٹھ کر رہا ہے ۔ دسمبر 2019 میں بھارتی آنجہانی ڈیفنس چیف جنرل بیپن راوت نے دہلی میں پریس کانفرنس کرکے کہا تھا ’’ ہم نے امریکہ سے مل کر پاکستان کو پھنسادیا ہے ، اب کوئی پاکستانی بھی پاکستان کو زرمبادلہ نہیں بھیج سکے گا، ہم اسے دیوالیہ کردیں گے۔‘‘ کچھ اسی طرح کے الفاظ آج کل پاکستان کے اندر سے نہیں سنائی دے رہے کہ ’’ پاکستانیوں پاکستان کے لئے ریمیٹنس روک دو‘‘ یہ الگ بات کہ پاکستان کا زرمبادلہ روکتے روکتے بیپن راوت اپنی آگ میں خود جل مرا ، لیکن پاکستان کو دیوالیہ قرار دلوانے کا خواب پورا نہ ہو سکا،اب ریمیٹینس روکنے کی خواہش مند آواز بھی ناکام ونامراد ثابت ہو چکی ۔ اس کے کسی اپنے نے بھی تسلیم نہیں کیا، البتہ اس کی ملک دشمنی کی چارج شیٹ میں ایک اور جرم کا اضافہ ضرور ہوگیا ہے ۔ سچ فرمایا تھا ، میاں محمد بخش نے،
نیچاں دی اشنائی کولوں فیض کسے نئیں پایا
ککر تے انگور چڑھایا ہر گچھا زخمایا

یہ بھی پڑھیں