لیکن ایساہوگانہیں!
پچھلی سات دہائیوں سے زائد امت مسلمہ کے دودیرینہ زخموں مسئلہ کشمیراورفلسطین کوجس بیدردی کے ساتھ کھرچاگیاہے،ہماری تیسری نسل بھی انگشت بدنداں ہے کہ آخر مسلمان ہی ظلم وستم کاشکارکیوں ہیں؟آخرپوری مسلم امہ کی بے حسی کایہ عالم ہے کہ
پچھلی سات دہائیوں سے زائد امت مسلمہ کے دودیرینہ زخموں مسئلہ کشمیراورفلسطین کوجس بیدردی کے ساتھ کھرچاگیاہے،ہماری تیسری نسل بھی انگشت بدنداں ہے کہ آخر مسلمان ہی ظلم وستم کاشکارکیوں ہیں؟آخرپوری مسلم امہ کی بے حسی کایہ عالم ہے کہ
(گزشتہ سے پیوستہ) یہ تبدیلی وہ نہیں ہے جس کالوگوں کوسردجنگ کے فوراً بعدانتظارتھا،لیکن یہ حیران کن بھی نہیں۔ طاقتورہونے کی بجائے دنیاکی بڑی اوراہم جمہوریتوں کوگزشتہ پچیس سال کے دوران بڑے نقصانات سے دوچارہوناپڑاہے۔امریکہ نے عراق اورافغانستان پر غلط
چندعشرے کتنافرق ڈال دیتے ہیں۔90کی دہائی کے وسط میں امریکیوں(اوربعض دیگر اقوام) کویقین تھاکہ امریکی لبرل جمہوریت مستقبل میں دنیاپرچھاجائے گی۔وارساپیکٹ پاش پاش ہوچکا تھا۔لاطینی امریکاکے آمرانتخابات کرارہے تھے۔ انسانی حقوق کے تصورات پھیل رہے تھے اورلبرل ادارے پروان چڑھ
میں ہمیشہ دل کی بات کرنے کی کوشش کرتا ہوں آپ سے۔خودکوکبھی حرف اوّل وآخرنہیں سمجھامیں نے۔میں انکسارسے نہیں کہہ رہاکہ میں کچھ نہیں جانتا،واقعی ایساہی ہے۔میں لوگوں سے گفتگو کرتا ہوں، انہیں پڑھتاہوں۔ہا ں میں بہت کتابیں پڑھتاہوں اورہرطرح
’’تم نے اس سال ٹانگوں کی زکو دی”۔انہوں نے عجیب سوال پوچھا۔میں پریشان ہوکررک گیا، سامنے لندن کامشہورِزمانہ خوبصورت باغ ریجنٹ پارک اپنی جولانی پرتھا،شام دھیرے دھیرے کھڑکیوں میں اتر رہی تھی،درختوں، پھولدار پودوں کی ہریالی میں برسات کی خوشبورچی
خروشچیف جب سوویت یونین کے صدربنا توانہوں نے پارلیمنٹ میں اپنے پہلے خطاب میں اسٹالن اوراس کی پالیسیوں پرتنقید شروع کردی۔ان کا کہنا تھاکہ اسٹالن میں برداشت نہیں تھی،وہ ایک آمرتھا،ظالم تھا،اختلاف کرنیوالے ساتھیوں تک کودشمن سمجھ لیتاتھا۔اس کے خوشحالی
عید پھر آئے گی اورچلی جائے گی ۔یہ توخوشی کا موقع ہے، اللہ کے انعام پر شکر ادا کرنے کا دن ہے۔لیکن جب میں اپنے وطن کے ان بے شمار لوگوں کو دیکھتا ہوں جن کے پاس عید کے دن
قرون وسطیٰ میں بصرے کاایک چور عباس بن الخیاطہ بہت نامورہوا،اس کی وارداتوں نے بصرہ اوراس کے اطراف میں ایک عرصے تک اہل ثروت کے ہوش اڑائے رکھے۔ پولیس نے لاکھ جتن کئے مگرعباس کسی طوربھی ہاتھ نہ لگا۔ ایک
ہاں ایسا ہی ہوتا ہے۔ میں کا چکر کبھی ختم نہیں ہوتا۔ بس میں کا چکر۔ دھوکا ہی دھوکا اور خود فریبی۔ دربارِ عالیہ میں مسندِ نشین خوشامد پسند حکمران اورچاپلوس مشیرانِ کرام… راگ رنگ کی محفلیں، نائونوش کا دور
نہ کوئی دنیاکی حقیقتوں کوجانتاہے اورنہ ہی اپنے اردگردبکھرتی قوموں اورتباہ ہوتی ہوئی قوتوں کودیکھتاہے۔عذاب کے فیصلوں اوراللہ کی جانب سے نصرت کے مظاہروں کودیکھنے کیلئے کسی تاریخ کی کتاب کھولنے یاعادوثمودکی بستیوں کا مطالعہ کرنے کی ضرورت نہیں۔یہ ابھی