Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

اداروں میں اداروں کی مداخلت

(گزشتہ سےپیوستہ)
یہ وہی مائنڈ سیٹ ہے کہ جس کے تحت ہر فرد اور ہر ادارہ ، تمہارا کتا ، کتا اور ہمارا کتا ٹومی والی ذہنی کیفیت کا اسیر ہے ۔ ریاست کے چاروں ستونوں عدلیہ ، انتظامیہ ، مقننہ اور میڈیا کی پچھلے 76 برسوں کی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو یہ سات آٹھ عشرے فوج اور حکومت کی طرح خود عدلیہ کی بھی دوسرے اداروں کی حدود میں مداخلت کی سینکڑوں بلکہ ہزاروں مثالوں سے بھرے پڑے ہیں ، حد یہ ہے کہ کچھ چیف جسٹس صاحبان نے ازخود نوٹس یعنی سو موٹو اختیار کا ایسا بے دریغ استعمال کیا کہ پارلیمنٹ اور حکومت کو بارہا مفلوج کر کے رکھ دیا ، ایک سابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری کی ریکوڈک کیس میں غیر ضروری مداخلت سے پاکستان کو 6 ارب ڈالر کے بھاری جرمانے کا بھی سامنا کرنا پڑا ۔ سپریم کورٹ کے ایک اور سابق چیف جسٹس ، جسٹس ثاقب نثار نے تو مختلف اداروں اور محکموں میں جا کر چھاپے مارنے شروع کر دیئے ۔ عدلیہ کی دوسرے اداروں میں مداخلت اتنی بڑھ گئی کہ پارلیمنٹ کا قانون سازی کا اختیار بار بار سلب کیا جاتا رہا ‘ نیب ، ایف آئی اے ، اینٹی کرپشن اور انتظامی افسران کے کام میں مداخلت کی انتہا حالیہ چند عشروں کی ملکی تاریخ کا افسوسناک ترین باب ہے ، انتظامی امور میں بار بار اور مسلسل مداخلت سے خوف و ہراس اتنا بڑھا کہ بیوروکریسی اور فنانشل افسران نے بڑے مالیاتی پراجیکٹس کی فائلوں کو ہاتھ لگانے سے ہی ڈرنا شروع کر دیا، ایگزیکٹو کے معاملات میں عدلیہ کی اس بے پناہ مداخلت کی وجہ سے وفاقی و صوبائی دارالحکومتوں سے لے کر ضلعی و تحصیل سطح تک پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے سینئر آفیسرز آئے روز عدالتوں میں پیش ہونے کیلئے چکر لگا رہے ہوتے ہیں ۔ عوام کی خدمت کیلئے اپنے روز مرہ امور نمٹانے کی بجائے بیوروکریسی اور پولیس افسران کو آئے روز عدلیہ کے سینئر ججوں کے خصوصی احکامات پر ذاتی حیثیت میں پیش ہو کر ہائیکورٹس اور سپریم کورٹ میں بھیگی بلی بن کر کھڑے رہنا پڑتا ہے ۔
عدلیہ کا مطالبہ یہ ہوتا ہے کہ آئی جی صاحب ، ڈی آئی جی صاحب ، کمشنر صاحب ، ڈپٹی کمشنر صاحب خود حاضر ہوں ، سوال یہ ہے کہ دوسرے اداروں میں عدم مداخلت کا اصول صرف یکطرفہ طور پر ہی کیوں لاگو ہو ؟ انتظامیہ کے افسران کی ذاتی حیثیت میں طلبیاں اور ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ ڈائریکشن کی آڑ میں تمام اداروں کو اپنے فیصلے جج صاحبان کی مرضی و منشا اور ڈکٹیشن کے مطابق کرنے پر مجبور کرنے کا کلچر کیوں ؟ ہر ادارہ اپنے شعبے کا ماہر ہونے کی وجہ سے اپنے پروفیشنل معاملات میں اتھارٹی ہوتا ہے لیکن پاکستان میں نہ جانے یہ کیوں سمجھ لیا گیا ہے کہ جس کے نام کے ساتھ چیف لگ جائے وہ ہر شعبے کا ماسٹر بن جاتا ہے ۔ اگر آپ کو اپنے کام میں کسی دوسرے ادارے کی مداخلت پسند نہیں ہے تو دوسرے اداروں میں آپکی مداخلت بھی قابل قبول نہیں ہو سکتی ‘ خود گڑ کھانے والے دوسروں کو میٹھا کھانے سے کیسے روک سکتے ہیں ؟چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسی اور وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف کی ملاقات میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ جج صاحبان کے سپریم جوڈیشل کونسل کو لکھے گئے خط کی انکوائری کیلئے ریٹائرڈ جج صاحب پر مشتمل ایک رکنی انکوائری کمیشن بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ، امید کی جانی چاہیئے کہ اس کمیشن کے فیصلے پر موثر طریقے سے عمل درآمد کیا جائے گا اور اداروں میں اداروں کی مداخلت کے حوالے سے تمام اداروں کو لیول پلیئنگ فیلڈ مل جائے گی ۔ عدم مداخلت کے اصول کا ہر طرف سے احترام کیا جائے تو ہی یہ پیچیدہ مسئلہ حل ہو گا ، اگر ہم جائز مداخلت اور ناجائز مداخلت کی بحث میں الجھے رہے تو پھر یہ تنازع بار بار سر اٹھاتا ہی رہے گا ۔ کیونکہ پھر مداخلت کے ’’جائز‘‘ ہونے کا ہر فرد اور ہر ادارے کا اپنا اپنا تصور ہے اور اس مداخلت کے دوران کتنا دکھ ، کتنی تکلیف ، کتنی ٹینشن ’’روٹین‘‘کے مطابق ہے اور کتنی حد سے زیادہ ؟ یہ فیصلہ بھی پھر ہر فرد اور ہر ادارہ اپنے اپنے سسٹم اور اپنی اپنی فطرت ، اپنی اپنی تربیت اور اپنی اپنی مجبوریوں کے مطابق کرتا ہے ،کہنے کو تو دونوں آپریشن ہی ہیں لیکن جب سرجن ڈاکٹر آپریشن کرتا ہے تو درد اور تکلیف سے بچانے سے لے کر خون بہنے اور ہلاکت تک کے معاملے کو سو فیصد کنٹرولڈ رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے اور عموماً اس میں کامیابی بھی مل جاتی ہے لیکن جب فوج آپریشن کرتی ہے تو دکھ ، درد اور تکلیف سے لے کر خون بہنے اور ممکنہ ہلاکتوں کے معاملے کو کم از کم رکھنے کی کوشش تو کی جاتی ہے لیکن اس حوالے سے سو فیصد تو کیا آپ پچاس فیصد رزلٹ کی بھی گارنٹی نہیں دے سکتے ۔

یہ بھی پڑھیں