Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

یوکرین اور نواز شریف کا توپخانہ

’’میدان جنگ میں اللہ کی مدد بہترین توپخانے والے لشکر کے ساتھ ہوتی ہے۔‘‘
نپولین بوناپارٹ کا یہ تاریخی مقولہ حالیہ روس یوکرین جنگ میں ایک بار پھر سچ ثابت ہو گیا ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان میں راج نیتی کے معرکے میں نواز شریف کے سیاسی توپخانے کا ’’تاریخی کردار‘‘ بھی عظیم فرانسیسی فاتح کے اس مقولے میں چھپے تلخ حقائق کا آئینہ دار ہے ، آج ہم یوکرینی توپخانے کے حالیہ عروج و زوال کی وجہ سے جیتی ہوئی جنگ ہار دینے کی حیران کن تفصیلات شیئر کریں گے اور ساتھ ہی میاں نواز شریف کی اس ’’بد قسمتی‘‘ کا بھی تجزیہ کریں گے کہ جارحانہ پیش قدمی کے دوران ان کے سیاسی توپخانے کے اچانک ’’خاموش‘‘ ہو جانے کے واقعات کی وجہ سے انہوں نے کتنی جنگیں ہار دیں اور یہ کہ ن لیگ کے توپخانے میں ایسا کیا مینوفیکچرنگ فالٹ ہے کہ جس کی وجہ سے ہر آزمائش کے وقت اچانک انکشاف ہوتا ہے کہ گولہ بارود ختم ہو گیا ہے اور فائر کور ممکن نہیں رہا۔
روس یوکرین جنگ کے پہلے ڈیڑھ سال میں امریکہ نے توپخانے کے 20 لاکھ گولے یوکرین کو سپلائی کیے ، ان میں سے آدھے امریکی اسلحہ ڈپووں سے فراہم کیئے گئے اور باقی آدھے انتہائی خاموشی سے جنوبی کوریا اور کچھ دیگر ممالک سے خریدے گئے ۔ ان 20 لاکھ گولوں کے ساتھ یورپی ممالک اور کچھ دیگر ذرائع سے مزید لاکھوں گولے بھی یوکرینی فوج کو فراہم کیئے گئے جس کی وجہ سے اس نے روزانہ اوسطاً 10 ہزار گولے فائر کر کے جنگ کے پہلے ڈیڑھ سال کے دوران روسی فوج کے حملے کو عملاً مفلوج کرکے رکھ دیا اور یہ تاثر زور پکڑنے لگا کہ پیوٹن یہ جنگ ہار رہے ہیں۔
روس نے ہمت نہیں ہاری اور اپنے توپخانے کو مسلسل آگ اگلتا رکھنے کیلئے اپنی گولہ بارود تیار کرنے کی فیکٹریوں کو پوری پیداواری صلاحیت کے ساتھ چلایا اور ساتھ شمالی کوریا کے اسلحہ کے گوداموں میں کئی عشروں سے پڑے لاکھوں گولے خرید لیئے ۔
امریکی انٹیلی جنس اہلکاروں کی تازہ ترین رپورٹ جو سی این این سے شیئر کی گئی ہے ، اس کے مطابق روسی فیکٹریوں کی اس وقت ماہانہ پیدوار ڈھائی لاکھ توپوں کے گولے ہے جو سالانہ 30 لاکھ گولے بنتی ہے ۔ جبکہ امریکہ اور یورپ دونوں مل کر یوکرین کو زیادہ سے زیادہ سالانہ 12 لاکھ توپوں کے گولے فراہم کر سکتے ہیں کیونکہ اس سے زیادہ سپلائی دینے کی ان کے پاس پیداواری صلاحیت ہی نہیں۔
روسی توپخانہ اس وقت روزانہ 10 ہزار گولے فائر کر رہا ہے جبکہ یوکرینی فوج کی طرف سے اس کے مقابلے میں صرف 2 ہزار گولے فائر ہوتے ہیں۔ اس غیر معمولی عدم توازن نے دونوں ممالک کے درمیان گرم کم و بیش ایک ہزار کلومیٹر طویل محاذ جنگ کے بہت سے مقامات پر صورتحال انتہائی بدترین بنا دی ہے اور خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ روسی فوج رواں موسم گرما میں جگہ جگہ سے یوکرینی دفاعی لائن میں چھید کر کے اندر گھس جائے گی اور مختلف محاذوں پر لڑنے والی یوکرینی فوج کو گھیرے میں لے کر تباہ و برباد کر دے گی ۔ یوکرین کی مزید بدقسمتی یہ ہے کہ سابق صدر ٹرمپ اور ری پبلیکن ارکان کانگریس نے اس کیلئے 60 ارب ڈالر کی امریکی جنگی امداد کا بل پچھلے 6 ماہ سے روک رکھا ہے ۔
ایک جلسے میں قدم بڑھا نواز شریف کا نعرہ لگنے پر ن لیگ کے تاحیات بانی قائد نے بے ساختہ شکوہ کیا تھا کہ پارٹی کارکنوں کے اس نعرے پر اعتماد کرکے نواز شریف نے قدم بڑھا دیا لیکن جب پیچھے مڑ کر دیکھا تو ساتھ دینے والا کوئی نہیں تھا ۔ پاکستان مسلم لیگ ن کی پنجاب حکومت نے حال ہی میں نواز شریف کو صف اول میں رکھ کر سیاسی پیش قدمی کا جو سلسلہ شروع کر رکھا تھا نامعلوم وجوہات کی وجہ سے اچانک اس کو پیچھے سے فائر کور ملنا بند ہو گیا ہے اور پنجاب حکومت کے ڈیڑھ کھرب روپے کے سستے زرعی قرضوں کے عظیم پراجیکٹ کے تحت جاری کیے جانے والے کسان کارڈ پر نواز شریف کی تصویر لگانے کا فیصلہ واپس لے لیا گیا ہے ۔ اس فیصلے کی اچانک واپسی کا انکشاف لاہور ہائی کورٹ کی ایک سماعت کے دوران ہوا جس میں جسٹس شاہد کریم نے شہری مشکور حسین کی درخواست کی سماعت کی ، وکیل پنجاب حکومت نے موقف اختیار کیا کہ ایسا کچھ نہیں ہو رہا ، اس پر عدالت نے درخواست کو واپس لینے کی بنیاد پر نمٹا دیا ۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں