برلن(نیوزڈیسک)دنیا کے اس منفرد قصبے کے بارے میں جانتے ہیں جو 2 ممالک کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔
جی ہاں واقعی Büsingen am Hochrhein مکمل طور پر سوئٹزر لینڈ کے علاقوں میں گھرا ہوا ہے مگر بنیادی طور پر یہ جرمن سرزمین کا حصہ مانا جاتا ہے۔
یہ قصبہ جرمنی کی سرحد سے دور اور سوئس سرزمین کے اندر ہے مگر پھر بھی جرمنی کی ملکیت ہے۔
1880 ایکڑ رقبے پر پھیلا قصبہ سیاسی طور پر جرمنی کا حصہ ہے مگر معاشی طور پر سوئٹزر لینڈ کا حصہ ہے۔
اسی طرح یہ واحد جرمن قصبہ ہے جہاں سوئس فرانک کو مرکزی کرنسی کی حیثیت حاصل ہے، جبکہ اس کے 2 پوسٹل کوڈز ہیں، ایک سوئس اور ایک جرمن۔
سوئٹزر لینڈ کی طرح یہ یورپی یونین کا حصہ نہیں تو یورپی معاشی قوانین کا اطلاق اس قصبے پر نہیں ہوتا۔
2019 میں یہاں کے ڈپٹی میئر رونالڈ گنٹرٹ نے کہا تھا کہ ہمارے قصبے پر جرمن قوانین کا اطلاق ہوتا ہے اور ہم جرمن حکومت کے زیر تحت ہیں مگر دوسری جانب ہماری معیشت سوئس ہے۔
1871 میں یہ قصبہ جرمن سلطنت کا حصہ بنا تھا اور 1919 میں ایک ریفرنڈم کے دوران 96 فیصد رہائشیوں نے جرمنی سے علیحدگی کے حق میں ووٹ ڈالا تھا مگر جرمن حکومت اسے خود سے الگ کرنے کے لیے تیار نہیں ہوا۔
تو اس طرح یہ قصبہ سوئٹزر لینڈ کا حصہ نہیں بن سکا۔
دوسری جنگ عظیم کے دوران جرمن فوجیوں کو وہاں جانے پر سوئس سرحد پر اپنے فوجی وردی چھپانا پڑتی تھی اور 1967 میں دونوں ممالک کے درمیان اس قصبے کو سوئس کسٹم ایریا قرار دینے پر اتفاق ہوا، جس کے بعد قصبے کے اردگر موجود سرحدی کنٹرولز اور چیک پوائنٹس ختم کر دیے گئے۔
یہاں کے رہائشیوں کو سوئس اور جرمن دونوں ٹیلی فون کوڈز کی سہولت فراہم کی جاتی ہے اور یہاں کا فٹبال کلب واحد جرمن ٹیم ہے جسے سوئس لیگ میں کھیلنے کی اجازت ہے۔