پاکستان سمیت شمالی نصف کرے میں سال 2024 کا سب سے چھوٹا دن اور طویل ترین رات 21 دسمبر کو ہے۔
مگر سب سے چھوٹے دن اور طویل ترین رات کے پیچھے کیا سائنس چھپی ہے؟سال کے مختصر ترین دن کو راس الجدی یا winter solstice کہا جاتا ہے۔اگر آپ کو علم نہ ہو تو جان لیں کہ زمین اپنے محور میں سورج کی جانب 23.5 ڈگری کے زاویے سے جھکی ہوئی ہےناسا کے محقق مائیکل ایس ایف کرک کے مطابق زمین اپنے محور پر بالکل سیدھا نہیں گھومتی۔
محور پر جھکے ہونے کے باعث شمالی اور جنوبی نصف کروں میں سال بھر سورج کی روشنی کی مقدار مختلف ہوتی ہے۔سورج کے گرد گھومتے ہوئے سورج کی روشنی کا دورانیہ اور شدت میں سال بھر مسلسل تبدیلیاں آتی ہیں اور اسی وجہ سے مختلف موسموں کا سامنا ہوتا ہے۔
شمالی نصف کرے میں موسم سرما کے مہینوں میں سورج کی روشنی کا دورانیہ گھٹ جاتا ہے جبکہ جنوبی نصف کرے میں بڑھ جاتا ہے۔مائیکل کرک کے مطابق راس الجدی کے موقع پر قطب شمالی اتنا جھک جاتا ہے کہ وہ سورج کی رسائی سے باہر ہو جاتا ہے اور وہاں مکمل اندھیرا چھا جاتا ہے۔


