Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

جوتا چھپائی میں 50 ہزار کی ڈیمانڈ، 5 ہزار دینے پر دولہا کو “بھکاری” کہہ کر کمرے میں بند کر دیا گیا

بجنور (نیوز ڈیسک) اتر پردیش کے ضلع بجنور میں ایک شادی کی تقریب اس وقت ہنگامہ آرائی کا شکار ہو گئی جب جوتا چھپائی کی رسم کے دوران دلہن والوں نے منہ مانگی رقم نہ ملنے پر دولہا کو ہی یرغمال بنا لیا۔

تفصیلات کے مطابق محمد شبیر، جو ریاست اتراکھنڈ سے اپنی بارات لے کر بجنور پہنچے تھے، رسم کے مطابق دلہن کے رشتہ داروں نے جوتا چھپائی کے بدلے 50 ہزار روپے کا مطالبہ کیا۔ شبیر نے اپنی استطاعت کے مطابق صرف 5 ہزار روپے پیش کیے، جو دلہن کے گھر والوں کو سخت ناگوار گزرا۔

دلہن کے خاندان نے نہ صرف شبیر کو “بھکاری” کہہ کر طعنے دیے بلکہ حالات اس حد تک بگڑ گئے کہ دلہا کو پکڑ کر ایک کمرے میں بند کر دیا گیا اور مبینہ طور پر اس پر لاٹھیوں سے تشدد بھی کیا گیا۔

اس واقعے پر دلہا شبیر نے میڈیا کو بتایا، “میں نے اپنی حیثیت کے مطابق پیسے دیے، مگر انہیں یہ کم لگا اور انہوں نے مجھے بےعزت کرنا شروع کر دیا۔”


دولہا والوں کا مؤقف ہے کہ یہ سب کچھ محض رقم کے لالچ میں کیا گیا، جبکہ دلہن کے گھر والوں نے الزام عائد کیا کہ دولہا اور اس کا خاندان لڑکی سے زیادہ سونے اور جہیز میں دلچسپی رکھتا تھا۔

واقعہ طول پکڑنے پر پولیس موقع پر پہنچی اور دونوں فریقین کو تھانے بلا کر معاملے کو رفع دفع کروایا۔ بعد ازاں دونوں خاندانوں میں صلح ہوگئی اور شادی کی تقریب مکمل کی گئی۔

ایک رسم کی ضد نے جہاں خوشی کا موقع رنج میں بدل دیا، وہیں ایک بار پھر سوال اٹھا دیا کہ کیا شادی کی رسومات خوشی کی علامت ہیں یا ایک معاشرتی دباؤ؟
مزیدپڑھیں:بالی ووڈ اداکارہ تمنا بھاٹیہ کی ویڈیو لیک ہوگئی

یہ بھی پڑھیں