Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

بیجنگ کا “برڈز نیسٹ اسٹیڈیم” جدید ترین انجینئرنگ کا شاہکار مگر بھاری اخراجات

بیجنگ (نیوز ڈیسک) چین کے دارالحکومت بیجنگ میں واقع برڈز نیسٹ اسٹیڈیم (Bird’s Nest Stadium) دنیا کے معروف ترین کھیلوں کے مقامات میں سے ایک ہے، جو اپنی انوکھی ڈیزائن اور جدید انجینئرنگ کے باعث عالمی شہرت رکھتا ہے۔ تاہم، یہ عظیم الشان اسٹیڈیم اب بھاری سالانہ اخراجات کی وجہ سے مالی مشکلات کا شکار ہے۔

تعمیراتی لاگت اور اخراجات
اس اسٹیڈیم کی تعمیر پر تقریباً 423 ملین امریکی ڈالر (یعنی 42 کروڑ 30 لاکھ ڈالر) لاگت آئی۔ رپورٹوں کے مطابق، اسٹیڈیم کی سالانہ دیکھ بھال پر تقریباً 11 ملین ڈالر خرچ ہوتے ہیں، جب کہ آمدنی محض 8 ملین ڈالر کے لگ بھگ ہے، جس کے باعث ہر سال کروڑوں ڈالر کا خسارہ برداشت کرنا پڑتا ہے۔

مقام اور گنجائش
برڈز نیسٹ اسٹیڈیم اولمپک گرین (Olympic Green)، بیجنگ، چین میں واقع ہے۔ اس کی مستقل نشستوں کی گنجائش 80,000 افراد پر مشتمل ہے، جب کہ 2008ء کے اولمپکس کے دوران 91,000 تماشائیوں نے یہاں ایک ساتھ بیٹھنے کا ریکارڈ قائم کیا۔

ڈیزائن اور تعمیر
یہ شاہکار سوئس آرکیٹیکچر فرم ہرزوگ اینڈ ڈی میورن (Herzog & de Meuron) نے دیگر ماہرین کے تعاون سے تیار کیا۔ اس کا ڈیزائن چینی مٹی کے برتنوں اور پرندے کے گھونسلے کی ساخت سے متاثر ہے۔ اسٹیڈیم کی بیرونی ساخت میں اسٹیل کی باہم جڑی ہوئی جالی دار بیمیں (steel lattice beams) استعمال کی گئی ہیں، جو اپنے وقت کا دنیا کا سب سے پیچیدہ اسٹیل ڈھانچہ قرار دیا گیا۔

انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی
اس اسٹیڈیم کی تعمیر میں جدید زلزلہ مزاحم (seismic) اور ماحولیاتی انجینئرنگ کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ ڈیزائن کو اس طرح ترتیب دیا گیا کہ قدرتی روشنی اور ہوا کی نکاسی (ventilation) کا زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کیا جا سکے۔

افتتاح اور تقریبات
تعمیر کا آغاز دسمبر 2003ء میں ہوا اور اسٹیڈیم کو باضابطہ طور پر 28 جون 2008ء کو افتتاح کیا گیا۔ یہ مقام 2008ء کے بیجنگ اولمپکس اور پیراولمپکس کی افتتاحی اور اختتامی تقریبات کا مرکزی مرکز رہا۔
مزیدپڑھیں:صدر مملکت کیخلاف تاحیات نہ کوئی کیس بنے گا نہ گرفتار کیا جاسکے گا، مسودے میں نئی ترمیم شامل

یہ بھی پڑھیں