Search
Close this search box.
جمعه ,05 جون ,2026ء

اسلام آباد ہائیکورٹ، ٹرائل کورٹ کو 190 ملین پاونڈ کیس کا فیصلہ سنانے سے روک دیا ،نیب کو نوٹس جاری

اسلام آباد(نیوزڈیسک)بانی پی ٹی آئی کی 190 ملین پاؤنڈ کیس بند کرنے کے نیب کے پرانے فیصلے کی ریکارڈ فراہمی کی درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کو کیس کا حتمی فیصلہ سنانے سے روک دیا۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس بابر ستار پر مشتمل ڈویژن بینچ نے بانی پی ٹی آئی کی 190 ملین پاؤنڈ کیس بند کرنے کے نیب کے پرانے فیصلے کے ریکارڈ فراہمی کی درخواست پر اعتراضات کے ساتھ سماعت کی۔

سلمان اکرم راجہ، عارف علوی، شبلی فراز، علی محمد خان، اعظم خان اور دیگر بھی کمرہ عدالت موجود تھے۔وکیل سلمان صفدر کا کہنا تھا بانی پی ٹی آئی کے خلاف ریفرنس کی سماعت جاری ہے، 35 گواہ ہو چکے آخری گواہ تفتیشی افسر پر جرح جاری ہے، آٹھ ملزم ہیں جس میں سے 6 اشتہاری ہیں اور دو میاں بیوی کے خلاف کیس جاری ہے۔

عمران خان کے وکیل سلمان صفدر کا کہنا تھا الزام یہ ہے پٹشنر جب وزیراعظم تھے تو 190 ملین پاؤنڈ سے متعلق سہولت فراہم کی، نیب کا کیس ہے پیسے بینک میں آنے تھے لیکن سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں آئے، ریفرنس میں ہے کہ القادر ٹرسٹ کیس فعال ہے، یہ گھوسٹ پراجیکٹ نہیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں ٹرائل کورٹ کو حتمی فیصلہ سنانے سے روکتے ہوئے نیب سے جواب طلب کرلیا ہے۔ہائیکورٹ میں 190 پاؤنڈز کیس بند کرنے سے متعلق نیب کے پرانے فیصلے کے ریکارڈ کی فراہمی کی درخواست پر سماعت ہوئی،درخواست گزار کے وکلا بیرسٹر سلمان صفدر اور خالد یوسف چوہدری ایڈووکیٹ نے دلائل دیئے۔

وکلاء نے دلائل میں کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے خلاف ریفرنس میں 35 گواہ ہو چکے، آخری گواہ تفتیشی افسر پر جرح جاری ہے،تحریک انصاف کے بانی کو القادر ٹرسٹ کیس میں ہی اسلام آباد ہائیکورٹ سے گرفتار کیا گیا تھا، نیب کے مطابق این سی اے نے 190 ملین پاؤنڈزز کی رقم ضبط کی۔

وکلاء کا کہنا تھا کہ الزام یہ ہے پٹشنر جب وزیراعظم تھے تو انہوں نے 190 ملین پاؤنڈ کے حوالے سے سہولت فراہم کی، نیب کا کیس ہے پیسے اسٹیٹ بنک میں آنے تھے لیکن سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں آئے، القادر رجسٹرڈ ٹرسٹ ہے، 2019 میں زمین یونیورسٹی کے لئے گفٹ ہوئی۔

وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ ہم نے ٹرائل کورٹ میں نیب ایگزیکٹو بورڈ میٹنگ کا ریکارڈ طلب کرنے کی درخواست دی، مگر ٹرائل کورٹ نے ریکارڈ طلب کرنے کی ہماری درخواست مسترد کر دی، جج نے درخواست مسترد کرنے کی حیران کُن وجوہات لکھیں کہ تفتیشی افسر اس ریکارڈ کا لکھنے والا یا کسٹوڈین نہیں ہے، تین ہفتے میں مجھے پتہ چلا کہ یہ کیس بند ہو چکا ہے، نیب کے کسی بھی ٹرائل کو سپریم کورٹ نے روکا ہوا ہے۔
عدالت نے وکیل سے کہا کہ آپ کو کب معلوم ہوا کہ نیب پہلے انکوائری کر کے بند کر چکا ہے؟ سلمان صفدر نے عدالت کو جواب دیا کہ ہمیں پہلے معلوم نہیں تھا، جس پر عدالت نے کہا کہ یہ اہم ہے کہ کیا آپکو پہلے معلوم تھا کہ انکوائری پہلے بند ہو چکی ہے؟ وکیل سلمان صفدر نے عدالت سے کہا کہ مشکل سے گواہ قابو آیا اور وہ ساری بات مان گیا ہے۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں ٹرائل کورٹ کو حتمی فیصلہ سنانے سے روکتے ہوئے بدھ تک نیب کو جواب جمع کروانے کا حکم دیا، اس موقع پر عدالت نے بانی پی ٹی آئی کے وکلاء سے کہا کہ ٹرائل کورٹ میں تاخیری حربے استعمال نہ کریں۔

عدالت نے استفسار کیا کہ کیا ٹرسٹ رجسٹرڈ ہے؟ جس پر سلمان صفدر کا کہنا تھا جی رجسٹرڈ ٹرسٹ ہے، عدالت نے کہا میرے پاس کیس ہے یہ ٹرسٹ رجسٹرڈ تو نہیں، جس پر سلمان صدر کا کہنا تھا میں اس حوالے سے معلوم کرکے آئندہ سماعت پر عدالت کو بتاؤں گا۔

وکیل سلمان صفدر کا کہنا تھا یونیورسٹی کے نام جگہ گفٹ ڈیڈ تھی، یکم دسمبر 2023 کو ریفرنس دائر ہوا اور 27 فروری چارج فریم ہوا، 35 گواہوں کے بیانات ہو چکے باقی غیر ضروری قرار دے کر نکال دیے گئے، اس وقت آخری گواہوں پر جرح جاری ہے۔

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا یہ زمین تحفے میں کب دی گئی؟ جس پر سلمان صفدر نے بتایا کہ 2019 میں زمین یونیورسٹی کے لیے گفٹ ہوئی۔سلمان صفدر کا کہنا تھا ہم نے ٹرائل کورٹ میں نیب ایگزیکٹو بورڈ میٹنگ کا ریکارڈ طلب کرنے کی درخواست دی، ٹرائل کورٹ نے ریکارڈ طلب کرنے کی ہماری درخواست مسترد کر دی، ٹرائل جج نے درخواست مسترد کرنے کی حیران کُن وجوہات لکھیں، جج نے لکھا تفتیشی افسر اس ریکارڈ کا لکھنے والا یا کسٹوڈین نہیں۔

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے پوچھا آپ نے کتنی درخواستیں دائر کیں؟ جس پر وکیل عمران خان نے بتایا کہ صرف یہی ایک درخواست دائر کی ہے، نیب کے کسی بھی ٹرائل کو سپریم کورٹ نے روکا ہوا ہے۔سلمان صفدر کا کہنا تھا ہم نے تفتیشی افسر تک کیس کا ٹرائل چھٹیوں میں کر لیا ہے، تین ہفتے میں مجھے پتا چلا کہ یہ کیس بند ہو چکا ہے۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ آپ کا یہ مسئلہ ہے ٹرائل کوئی کر رہا ہوتا ہے ہائیکورٹ کوئی آ رہا ہوتا ہے سپریم کورٹ کوئی جا رہا ہوتا ہے، سلمان صفدر نے کہا ہمارے اوپر بوجھ بہت ہے ابھی بھی ایک کیس کر کے آ رہا ہوں۔جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کیا آپ نے سرور سندھو کیس پڑھا ہے، جس پر سلمان صفدر نے جواب دیا یہ ججمنٹ ہمارے مؤقف کی تائید کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں