اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی دارالحکومت میں موسلا دھار بارش نے نظامِ زندگی درہم برہم کر دیا۔ یکم ستمبر 2025 کو جی-11 سیکٹر شدید بارشوں کے بعد زیرِ آب آ گیا، جہاں سڑکیں ندی نالوں کا منظر پیش کر رہی تھیں اور درجنوں گاڑیاں پانی میں ڈوب گئیں۔
یہ مناظر سوشل میڈیا پر صحافی علی عمران عباسی نے شیئر کیے، جو محکمہ موسمیات کی اس پیش گوئی کی تصدیق کرتے ہیں جس میں یکم سے 3 ستمبر تک خطے میں طوفانی بارشوں اور سیلابی خطرات کی وارننگ جاری کی گئی تھی۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ ناقص نکاسیٔ آب نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ پانی کے ریلے گھروں اور دکانوں میں داخل ہو گئے، جبکہ سڑکوں پر گھنٹوں ٹریفک جام رہا۔
یہ پہلا موقع نہیں جب اسلام آباد کو ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ جولائی 2010 میں بھی ریکارڈ 257 ملی میٹر بارش نے شہر میں فلیش فلڈز برپا کیے تھے۔ ماہرین کے مطابق یہ بار بار آنے والے واقعات موسمیاتی تبدیلی اور کمزور شہری منصوبہ بندی کی عکاسی کرتے ہیں۔
اسلام آباد میں شدید بارش کے 3 مقامات کے مناظر،بنی گالہ،جی الیون اوت زیرو پوائنٹ۔۔ کچھ لوگ کہہ رہے ہیں یہ۔کلاوڈ برسٹ تھا مگر محکمہ موسمیات نے ابھی تک کنفرم نہیں کیا pic.twitter.com/E98yUzBCjJ
— Fahim Akhtar Malik (@writetofahim) September 1, 2025
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے کہا ہے کہ وہ متاثرہ علاقوں میں ہنگامی اقدامات کر رہی ہے اور سیلابی خطرات کے پیش نظر لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔
اسلام آباد شدیدبارش اللہ رحم۔#G11 #Islamabad pic.twitter.com/cMXauJCQXN
— Ali Imran Abbasi (@aliimranabbasi) September 1, 2025
مزیدپڑھیں:آسٹریا میں گائیوں کے حملے میں ہائیکر ہلاک

