اسلام آباد: کسٹمز ایف آئی آر میں اسکریپ کی آڑ میں نئے ایئر کنڈیشنرز درآمد کرنے کے مبینہ اسکینڈل کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ کسٹمز حکام نے شریف انٹرپرائزز اور ایک کلیئرنگ ایجنٹ کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے، جبکہ کروڑوں روپے مالیت کا سامان ضبط کر لیا گیا۔
دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق امریکا سے درآمد کی گئی چار مختلف کنسائنمنٹس کو مبینہ طور پر اسکریپ ظاہر کیا گیا تھا، تاہم کسٹمز حکام کی جانب سے معائنہ کیے جانے پر کنٹینرز سے بڑی تعداد میں نئے برقی آلات برآمد ہوئے۔
دستاویزات کے مطابق معائنے کے دوران 897 نئے ایئر کنڈیشنرز، 113 ڈی ہیومیڈیفائرز اور 3 واٹر ڈسپنسرز برآمد کیے گئے۔ برآمد ہونے والے سامان کی مجموعی مالیت 6 کروڑ 33 لاکھ 90 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔
تحقیقات کے مطابق درآمدی سامان پر واجب الادا ڈیوٹی اور ٹیکس کی مد میں تقریباً 4 کروڑ 79 لاکھ 50 ہزار روپے کی مبینہ چوری کی کوشش کو ناکام بنا دیا گیا۔
ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن اسکیم کے غلط استعمال کا الزام
کسٹمز حکام نے ملزمان پر ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن اسکیم (EFS) کے مبینہ غلط استعمال کا بھی الزام عائد کیا ہے۔ حکام کے مطابق ضبط شدہ سامان کو کسٹمز ایکٹ کی دفعہ 168 کے تحت سرکاری تحویل میں لے لیا گیا ہے، جبکہ مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔
ایف بی آر کی انتظامی کارروائی
دوسری جانب فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے بھی اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے مبینہ طور پر ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن اسکیم کے غلط استعمال پر ایڈیشنل کلیکٹر یاور نواز اور ڈپٹی کلیکٹر اقصیٰ اسلم کا تبادلہ کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق دونوں افسران کے خلاف چارج شیٹ کو بھی حتمی شکل دے دی گئی ہے، جبکہ مزید محکمانہ کارروائی متوقع ہے۔
