Search
Close this search box.
جمعه ,05 جون ,2026ء

ڈینگی سے موت یا غفلت؟وکیل کا ہسپتال انتظامیہ کیخلاف قتل کا مقدمہ، ڈاکٹر سراپا احتجاج

حیدرآباد (اوصاف نیوز) ڈینگی سے بیٹے کی ہلاکت پر وکیل نے ہسپتال انتظامیہ کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرادیا، ڈاکٹرز نے کل یوم سیاہ منانے کا اعلان کردیا۔

سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد میں ڈینگی وبائی شکل اختیار کر گیا ہے۔ متعلقہ حکام کی عدم توجہی کے باعث ایک ماہ میں ڈینگی سے 20 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جب کہ سینکڑوں افراد اس موذی مرض کی لپیٹ میں ہیں۔

ڈینگی مچھر کا ڈنک اتنا خطرناک ہے کہ سول ہسپتال حیدرآباد، شاہ بھٹائی ہسپتال، پریت آباد اور قاسم آباد ہسپتال مریضوں سے بھرے پڑے ہیں۔ پرائیویٹ ہسپتالوں میں بھی بستر خالی نہیں جس کی وجہ سے سینکڑوں مریض گھروں میں ہی بیمار ہیں۔

صرف ایک ماہ میں شہر میں ڈینگی کے 16 ہزار کے قریب مریض رجسٹرڈ ہوئے ہیں۔ شہریوں میں شدید خوف وہراس پایا جاتا ہے تاہم انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ہسپتالوں میں سہولیات کی کمی کے باعث یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے۔

گزشتہ روز مقامی وکیل کا نوجوان بیٹا بھی ڈینگی سے جان کی بازی ہار گیا۔ جس کے بعد مذکورہ وکیل نے مارکیٹ پولیس اسٹیشن میں سول ہسپتال حیدرآباد کے ایم ایس ایم ایس ڈاکٹر علی اکبر ڈاہری اور ڈاکٹروں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرایا ہے۔

حیدرآباد میں ڈینگی کا کیس تھانہ کچہری پہنچ گیا۔ ڈاکٹرز اور وکلاء آمنے سامنے آ گئے ہیں لیکن محکمہ صحت کے اہلکار جائے وقوعہ سے مکمل طور پر غائب ہیں۔

مقدمہ درج ہونے کے بعد ہسپتالوں میں علاج معالجے کی صورتحال بہتر ہونے کے بجائے ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف سراپا احتجاج بن گئے۔ گزشتہ روز بھی سول ہسپتال میں او پی ڈی کا بائیکاٹ کیا گیا جبکہ لمس ٹیچرز ایسوسی ایشن نے یوم سیاہ منانے کا اعلان کیا ہے۔

لمس ٹیچرز ایسوسی ایشن کے یوم سیاہ کے سلسلے میں کل سول ہسپتال میں او پی ڈی کا بائیکاٹ اور پرائیویٹ کلینکس بند رہیں گے اور مقدمہ واپس نہ لیا گیا تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں‌:نجی ایئر لائن کی دبئی کے لیے براہ راست پروازیں شروع

یہ بھی پڑھیں