اسلام آباد (اوصاف نیوز) وفاقی درالحکومت میں سپین ویزہ سکینڈل سامنے آ گیا ،صرف اپائنٹمنٹ کے نام پر ایجنٹ حضرا ت لاکھوں بٹور رہے ہیں ،غیر معمولی تاخیر اور اپائنٹمنٹ کی عدم دستیابی کی وجہ سے درخواست گزار مجبور ہو کر ایجنٹ سے رابطہ کرتا ہے تو اسے لاکھوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے ،یہ بھی مبینہ طور پر معلوم ہوا ہے کہ جو پیسہ نہیں لگاتا وہ مینوں تک اپائنٹمنٹ لینے کے لیے انتظار کرتا رہتا ہے ۔
درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ فیملی ویزہ کے لیے دو سے تین لاکھ روپے، اسٹوڈنٹ ویزہ کے لیے پانچ لاکھ روپے، جبکہ ورک ویزہ کے لیے بارہ سے چودہ لاکھ روپے تک وصول کیے جا رہے ہیں۔ایک درخواست گزار نے بتایا کہ مبینہ طور پر اس نے تمام کاغذات مکمل فراہم کیے، پھر بھی تین بار اپائنٹمنٹ کینسل ہوئی۔
بعد میں ایک ایجنٹ نے کہا، پیسے دو تو ایک دن میں اپائنٹمنٹ مل جائے گی!”بعض درخواستیں جان بوجھ کر ریجیکٹ کر دی جاتی ہیں اور انہی منسوخ اپائنٹمنٹس کو بعد میں ایجنٹس کے ذریعے فروخت کیا جاتا ہے۔ ویزہ سینٹر کے اطراف درجنوں کنسلٹنسی دفاتر سرگرم ہیں جو اپائنٹمنٹ دلوانے کے نام پر بھاری فیسیں وصول کرتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق، ایسے ایجنٹس بھی سرگرم ہیں جو بغیر اپائنٹمنٹ کے کیس جمع کرانے کی “خصوصی سہولت” دینے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ بعض اہلکاروں ترجیحی درخواست گزاروں کی فہرستوں کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق، ایف آئی اے نے ان شکایات پر ابتدائی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور اسپین ویزہ سینٹر کے کچھ افسران سے بھی پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔
اہم بات یہ ہےکہ ویزہ سینٹر مبینہ طور پر ایک بھارتی کمپنی کے زیرانتظام ہے، جس نے پاک بھارت کشیدگی کے بعد اپنا نام تو تبدیل کر لی تھا، مگر نظام، ویب سائٹ اور عملہ وہی برقرار رکھا۔شفافیت کی کمی، نگرانی کے فقدان اور کرپشن کے بڑھتے خدشات نے عام شہریوں کے اعتماد کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
ایف آئی اے کی تحقیقات منطقی انجام تک پہنچیں، تو یہ نہ صرف ایک منظم کرپشن نیٹ ورک کو بے نقاب کرے گی بلکہ بیرونِ ملک جانے کے خواہشمند ہزاروں پاکستانیوں کے لیے امید کی کرن بھی بن سکتی ہے۔




