Search
Close this search box.
جمعه ,12 جون ,2026ء

ادویات کی قیمتوں میں ہوشرباء اضافہ نے سب کو ہلا کر رکھ دیا!

لاہور (اوصاف نیوز) ادویات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے نے مریضوں کی پریشانیوں میں اضافہ کر دیا۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال ڈی ریگولیشن کے بعد ادویات کی قیمتوں میں 32 فیصد اضافہ ہوا جس کے باعث عام استعمال ہونے والی 200 سے زائد ادویات مہنگی ہو گئیں۔

نگراں حکومت کے دور میں ادویات کی قیمتوں پر سے کنٹرول ختم کیا گیا۔ حکام کا خیال تھا کہ ڈی ریگولیشن سے مسابقت بڑھے گی جبکہ قیمتیں کم ہوں گی لیکن اس کے برعکس ادویات کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر شہریوں، ہسپتالوں اور محکمہ صحت کی جانب سے ادویات کی نا قابل برداشت قیمتوں کی شکایات کی بنیاد پر ادویات کی قیمتوں کے معاملے پر قومی سروے کیا گیا جس میں ادویات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کا انکشاف ہوا ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نیشنل ہیلتھ سروسز کے چیئرمین سینیٹر عامر ولی الدین چشتی نے انکشاف کیا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان نے تصدیق کی ہے کہ ڈی ریگولیشن کے آغاز سے اب تک ادویات کی قیمتوں میں اوسطاً 32 فیصد اضافہ ہوا ہے، بعض ادویات کی قیمتوں میں 100 فیصد جبکہ دیگر میں 50 فیصد کے قریب اضافہ دیکھا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈی ریگولیشن پالیسی کا مقصد سرمایہ کاری میں اضافہ اور برآمدات کو فروغ دینا ہے نہ کہ مریضوں پر بوجھ ڈالنا۔ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ جہاں بھی ادویات کی قیمتوں میں 50 فیصد یا اس سے زیادہ اضافہ ہوا ہے، انڈسٹری سے وضاحت طلب کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ کمیٹی اگلے ماہ فارماسیوٹیکل کمپنیوں سے ملاقات کرے گی اور اگر ملی بھگت یا کارٹیل بنانے کا کوئی ثبوت ملا تو معاملہ مسابقتی کمیشن آف پاکستان کو کارروائی کے لیے بھیج دیا جائے گا۔

قائمہ کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ حکومت فارماسیوٹیکل انڈسٹری کی ترقی چاہتی ہے لیکن یہ ترقی ان مریضوں پر نہیں ہونی چاہیے جو پہلے ہی مہنگائی کے دباؤ میں ہیں۔ کمیٹی اب ادویات کی قیمتوں کے حوالے سے وزیراعظم کی سفارشات کی منتظر ہے۔

واضح رہے کہ ڈی ریگولیشن سے قبل کمپنیوں کو صارف قیمت انڈیکس سے منسلک فارمولے کے تحت قیمتوں میں سالانہ 7 فیصد تک اضافے کی اجازت تھی۔ اس نظام کے مطابق دو سالوں میں ادویات کی قیمتوں میں تقریباً 14 فیصد اضافہ ہونا تھا جو کہ موجودہ 32 فیصد اضافے سے بہت کم ہے۔

پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن نے سروے کے اعداد و شمار سے اختلاف کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حقیقی اضافہ صرف 15 فیصد ہے۔ اگر نئی مصنوعات کو خارج کر دیا جائے تو موجودہ ادویات کی قیمتوں میں حقیقی اضافہ صرف 12 فیصد ہے۔

ماہرین کے مطابق ڈی ریگولیشن پالیسی کا مقصد سرمایہ کاری کو راغب کرنا تھا لیکن اس کے برعکس عوام میں مایوسی بڑھی جس کے نتیجے میں مریضوں کو مہنگے داموں ادا کرنا پڑ رہے ہیں۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو صحت کی بنیادی سہولتیں بھی ناقابل برداشت ہو سکتی ہیں۔
مزید پڑھیں‌:سینیٹر عرفان صدیقی کے اہلِ خانہ نے سوشل میڈیا پر چلنے والی خبروں کی تردید کردی

یہ بھی پڑھیں