اسلام آباد (اوصاف نیوز) ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات سے متعلق قومی اسمبلی کی متعلقہ کمیٹی کا بیان پرانے ڈیٹا پر مبنی ہو سکتا ہے، متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی جانب سے کوئی نئی قانون سازی نہیں کی گئی۔
ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیر دفاع نے سندھ کے حوالے سے اشتعال انگیز بیان دیا، بھارت کو متنبہ کیا کہ وہ ایسے متنازعہ اور نفرت انگیز بیانات دینے سے باز رہے۔
طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ مسائل کے مذاکرات کے ذریعے پرامن حل کی حمایت کرتا ہے۔
ترجمان وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے ماہرین کی حالیہ رپورٹ نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بے نقاب کردیا، رپورٹ کے مطابق 2800 کشمیری بھارت کی حراست میں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو تاریخی بابری مسجد کی جگہ مندر کا جھنڈا لہرانے پر سخت تحفظات ہیں، پاکستان کو بھارت میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز کارروائیوں پر تحفظات ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ نے فلسطین بالخصوص غزہ پر اسرائیل کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان حملوں میں بے شمار بے گناہ افراد بالخصوص خواتین اور بچے شہید ہوئے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ بھارت نے سندھ طاس معاہدے کے تحت پانی کا ڈیٹا شیئر نہیں کیا اور ڈیٹا شیئرنگ کے طے شدہ طریقہ کار پر عمل نہ کرنا افسوسناک ہے۔ بھارتی رجحانات پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی نشاندہی کرتے ہیں۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاک ایران گیس پائپ لائن کا مسئلہ خوش اسلوبی سے حل ہو جائے گا۔
ترجمان دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان افغان مہاجرین کے حوالے سے تین درجے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، ہمارے ادارے افغان مہاجرین کے حوالے سے تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے سعودی عرب کی جانب سے پاکستان اور افغان طالبان کو ثالثی کی کوئی پیشکش نہیں دیکھی اور پاکستان ثالثی کی کسی بھی ٹھوس پیشکش کا خیر مقدم کرتا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ داعش افغانستان میں موجود ہے اور وہاں تشکیل پا رہی ہے۔ پاکستان میں داعش کی موجودگی کے افغان الزامات بے بنیاد ہیں۔
مزید پڑھیں:حرفِ اقبالؒ اور حِسِ بلوچستان




