واعتصِموا بِحبلِ اللہِ جمِیعا ولا تفرقوا۔۔۔ سورۃ آل عمران، آیت 103
یعنی اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو، اور تفرقہ میں نہ پڑو۔
یہ آیت دراصل امتِ مسلمہ کے وجودی فلسفے کا خلاصہ ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے اقبالؒ کی فکر، نثر، اور بصیرت ایک نکتہ مرکز پر آ کر ملتی ہیں۔ یہ آیت اتحادِ امت کی صدا بھی ہے ، اور بیداریِ شعور کا منشور بھی۔ اقبالؒ اسی پیغام کو اپنے شعری الہام میں یوں ڈھالتے ہیں۔
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر
یہی وحدت آج ہماری فکری زندگی کا وہ گمشدہ راز ہے، جس کے بغیر نہ ایمان میں گرمی رہ سکتی ہے، نہ وطن میں سلامتی۔یہی وہ صدا ہے جو صدیوں کے پردوں کو چیر کر آج بھی ملتِ اسلامیہ کے ضمیر کو جھنجھوڑتی ہے، اور اقبالؒ کی روح اسے اپنے وجدانی آہنگ میں دہراتی ہے۔
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
یہ مصرعہ اقبالؒ کا ایک سوال نہیں، ایک آئینہ ہے جس میں امتِ مسلمہ اپنی غفلت کا چہرہ دیکھ سکتی ہے۔یہ محض شاعرانہ پکار نہیں بلکہ ایک عہدِ نو کی اذان ہے ، ایک ایسی صدا جو عقل کو بیدار کرتی ہے، ایمان کو حرارت بخشتی ہے، اور کردارکوصیقل کرتی ہے۔اقبالؒ نے نوجوانِ مسلم کوزمانے کے ہنگاموں کا راہبر بنایا، محض مقلد نہیں بلکہ مجتہدِ عصربنایا۔فرماتے ہیں:
نہیں ہے ناامید اقبالؒ اپنی کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
اے نوجواں مسلم تو وہ چراغ ہے جو اگر بجھ جائے تو ملت کی تاریخ اندھیروں میں ڈوب جائے۔ تدبر کا مطلب صرف سوچنا نہیں بلکہ ایمان، عقل اور عمل کی مثلث میں جینا ہے۔کہاتو وارث ہے جسے قرآن نے خلِیف فِی الارضِ کہا مگر کیا تو نے کبھی غور کیا کہ خلافت کا مطلب صرف اقتدار نہیں بلکہ ذمہ داری ہے؟ اقبالؒ نے فرمایا:
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے
یہی وہ تدبر ہے جو قوموں کو بیدار کرتا ہے۔ علم میں توازن، کردار میں استقلال، اور عمل میں ایقان پیدا کرتا ہے۔جمہور نہ توزر سے ہے،نہ سلطانی سے بلکہ خلافت کی روحانی قوت سے ہے۔ یعنی امتوں کی بقا دولت یا طاقت سے نہیں، بلکہ تدبر اور روحانی شعور سے ہے۔یہاں وہ نوجوان مسلم کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ آج جب دنیا فتنوں کے طوفان میں گھری ہے، جب میڈیا کے شور میں صداقت دب رہی ہے، جب سوشل میڈیا تمہارے شعور کو غفلت کے زہر سے سیراب کر رہا ہے، تب اقبالؒ تمہیں پکار کر سورہ الانبیا کی آیت 104 کی طرف توجہ دلاتے ہیں :کہ اٹھ کہ یہ افلاک نہیں تیرے مقدر کے ستارے ہیں ، تو چاہے تو انہیں تدبر سے اپنی مٹھی میں لے لے۔ تدبر یعنی وہ شعور جو انسان کو وقتی جذبات سے نکال کر ابدی مقصد کی طرف لے جاتا ہے۔اقبالؒ کے نزدیک نوجوان صرف عمر کا نہیں، بلکہ فکر و ارادہ کا پیمانہ ہے۔اسی لئے وہ فرماتے ہیں کہ
جوانوں کو مری آہِ سحر دے
پھر ان شاہیں بچوں کو بال و پر دے
خدایا آرزو میری یہی ہے
مرا نور بصیرت عام کر دے
آج کا نوجوان اگر اقبالؒ کے پیغام کو سمجھ لے تو وہ قلم سے، علم سے، اور عزم سے اپنے زمانے کا روحانی مجاہد بن سکتا ہے۔
2025 ء کی دنیا ایک نئے سیاسی تلاطم سے گزر رہی ہے۔ آج کی دنیا میں، خصوصا مئی 2025ء کے بعد کے عالمی منظرنامے میں، جب پاکستان نے اپنے دفاع میں ہندوستان کی جارحیت کو پسپا کیا، تب سے سازشوں کا ایک نیا طوفان اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ مگر یہ پہلی بار نہیں کہ پاکستان کو گھیرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ سرزمینِ پاک وہی امانت ہے جو لا الہ الا اللہ کے عہد پر بنی تھی،ایک نظریاتی ریاست ہے، کوئی عام جغرافیہ نہیں، پاکستان، جو امتِ مسلمہ کا قلعہ ہے، آج دشمنوں کی نظروں میں وہی مقام رکھتا ہے جو ماضی میں خلافتِ عثمانیہ رکھتی تھی۔
اگر عثمانیوں پر کوہِ غم ٹوٹا تو کیا غم ہے
کہ خونِ صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا
آج پاکستان اسی سحر کا استعارہ ہے۔جب دشمن سازشوں کے خنجر تیز کرتے ہیں، تو ہمیں اقبالؒ کی یہ صدا یاد آتی ہے کہ وہ مردِ درویش امت پر مصائب پر گھبرانے کی بجائے بندہ کو خدا کارازداں بننے کی ترکیب بتارہا ہے کہ ہمیں اس وقت اپنی بقا کے لیے سیاسی ہوش، فکری استقلال، اور قومی وحدت کی ضرورت ہے۔یہی وجہ ہے کہ مودی کی شکست کے بعد دنیا کے بہت سے طاقت ور گروہ ایک نئے منصوبے پر کاربند ہیں کہ اس مملکتِ خداداد کوکمزور کیا جائے، اسے اندر سے توڑا جائے، اور اس کی نظریاتی بنیادوں کو متزلزل کیا جائے۔ مودی کی جنگی سازشیں ہوں یا اس کے مغربی حلیفوں کی دوغلی پالیسیاں ان کا جواب تلوار سے پہلے ایمان و اتحاد میں ہے۔دراصل ہمارے عیار ومکار دشمن بھول جاتے ہیں کہ پاکستان کوئی حادثہ نہیں، بلکہ تقدیرِ الہی کی ایک تجلی ہے۔یہ ملک لا الہ الا اللہ کے اعلان پر بنا ہے، اسے بندوق سے نہیں، عقیدے سے طاقت ملی ہے۔اقبالؒ نے جس خواب میں یہ ملک دیکھا، وہ دراصل امت کی بقا کا خواب تھا:
تو رازِ کن فکاں ہے، اپنی انکھوں پر عیاں ہو جا
خودی کارازداں ہو جا، خدا کا ترجماں ہو جا
پاکستان کی عظمت صرف اس کے نیوکلیئر اثاثوں میں نہیں، بلکہ اس کے روحانی اور نظریاتی تشخص میں ہے۔ہمیں اپنی قوم کو یہ سمجھانا ہے کہ دفاعِ وطن فقط صرف توپ و تلوار سے نہیں ہوتا بلکہ فکر و خودی کے ہتھیار سے بھی لازم ہے۔ قرآن کہتا ہے:اپنے دشمن کے مقابلے کے لیے ہر ممکن قوت تیار رکھو۔
یہ قوت علم کی بھی ہے، ایمان کی بھی، اتحاد کی بھی۔ اگر ہم نے خودی کھو دی، تو ایٹم بم بھی ہمیں نہیں بچا سکتے۔اقبالؒ کے الفاظ میں
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے
(جاری ہے)