اسلام آباد (اوصاف نیوز) معروف اداکار عدیل ہاشمی نے اپنے بچپن کے ایک انتہائی تکلیف دہ تجربے کے بارے میں پہلی بار کھل کر بات کرتے ہوئے ایک اہم سماجی مسئلے کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے۔
عدیل ہاشمی نے انکشاف کیا کہ جب میں ساتویں جماعت میں تھا تو میرے ہی اسکول میں مجھ سے بڑے لڑکوں نے مجھے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔
ان کے مطابق یہ سلسلہ کئی سال تک جاری رہا لیکن اس دوران میں اس بارے میں کسی کو بتانے کی ہمت نہیں کر سکا۔ اس وقت خاموشی میری مجبوری بن گئی تھی کیونکہ مجھے نہیں معلوم تھا کہ اس پر کس سے بات کرنی ہے اور نہ ہی مجھے یہ سکھایا گیا کہ ایسے معاملات میں آواز کیسے اٹھانی ہے۔
عدیل ہاشمی نے کہا کہ اگرچہ میرے والد نے مجھے زندگی میں بہت کچھ دیا لیکن مجھے ہراساں کرنے یا بدسلوکی جیسے موضوعات پر بات کرنے کی تربیت نہیں دی گئی جس کی وجہ سے میں نے اس تجربے کو اپنے اندر دفن کر رکھا ہے۔
اداکار کے مطابق والد بننے کے بعد اس موضوع پر میرا نقطہ نظر بدل گیا ہے۔ جب میرا بیٹا اسکول جانے لگا تو میں نے شروع ہی سے اس سے اس کے بارے میں بات کرنے کے لیے دروازہ کھلا رکھا۔
عدیل ہاشمی نے کہا کہ جب میرا بیٹا سکول جانے لگا تو میں نے اس سے پوچھا کہ کوئی بچہ یا کوئی بڑا بچہ اسے پریشان کر رہا ہے؟ اس نے کہا نہیں، تو میں نے اسے صاف کہہ دیا کہ جب بھی ایسا ہو، وہ مجھے ضرور بتائے۔
عدیل ہاشمی نے زور دے کر کہا کہ بچوں کو بولنا سکھانا نہ صرف اس وقت اہم ہوتا ہے جب کوئی واقعہ پیش آتا ہے بلکہ انہیں یہ احساس دلانا بھی بہت ضروری ہوتا ہے کہ کوئی ہے جو ان کی بات سنے۔ اس احساس سے بچوں کا اعتماد بڑھتا ہے اور تنہائی کا احساس کم ہوتا ہے۔
اپنے ماضی کے بارے میں بات کرتے ہوئے عدیل ہاشمی نے کہا کہ جب لوگ مجھ سے میرے بچپن کے بارے میں پوچھتے ہیں تو میں شکر گزار ہوں کہ وہ وقت گزر گیا، یادیں اگرچہ آج بھی مشکل ہیں لیکن میں انہیں اپنی زندگی کا ایک بند باب سمجھتا ہوں۔
مزید پڑھیں:زلزلے کے جھٹکوں نے شہر کو ہلا کر رکھ دیا


