اسلام آباد (اوصاف نیوز) خیبرپختونخوا، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے پہاڑی علاقوں میں وقفے وقفے سے برفباری کا سلسلہ جاری ہے۔ خیبرپختونخوا کے ضلع دیر میں سیاح برف باری سے لطف اندوز ہونے کے لیے لواری ٹنل کا رخ کرتے ہیں۔ سوات، کالام، مالم جبہ اور گردونواح کے پہاڑوں میں برفباری کے بعد ہر طرف سفیدی پھیل گئی۔ ایبٹ آباد اور گلیات میں مختلف مقامات پر ہلکی بارش ہوئی جس کے باعث درجہ حرارت میں نمایاں کمی دیکھی گئی، سردی کی شدت میں بھی اضافہ ہوگیا جب کہ پشاور سمیت خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں بھی بادل چھائے رہے۔
وادی نیلم کے بالائی علاقوں کی وادیاں برف سے ڈھک گئیں، بالائی نیلم، اورنگ کیل اور دیگر علاقوں میں وقفے وقفے سے برفباری کا سلسلہ جاری ہے۔ ادھر چلاس کے بالائی علاقوں میں گزشتہ رات سے برف باری کا سلسلہ جاری ہے جس کے باعث سردی کی شدت میں مزید اضافہ ہوگیا۔ سائبیرین ہوا کا نیا سسٹم بلوچستان کے شمال مشرقی اور وسطی علاقوں میں داخل ہوگیا ہے جس کے باعث سردی کی شدت میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ بلوچستان کے شمالی بالائی علاقوں میں برف باری ہوئی ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق قلات میں کم سے کم درجہ حرارت منفی ایک ڈگری اور کوئٹہ میں 2 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ چند روز میں سندھ اور بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں سردی کی شدت میں اضافے کا امکان ہے۔ سندھ کے چیف میٹرولوجسٹ کا کہنا ہے کہ کراچی میں کل سے درجہ حرارت میں کمی کا امکان ہے، جنوری کے پہلے دو ہفتے شہر میں سردی رہے گی۔
پنجاب بھر سے بارش کا نظام گزر گیا، جس کے باعث خشک اور سرد موسم دوبارہ شروع ہوگیا، لاہور سمیت پنجاب بھر میں صبح اور رات کے اوقات میں دھند کا راج ہے، جس کے باعث مختلف مقامات سے موٹر ویز کو ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق بارشوں کا نظام 27 سے 31 دسمبر تک دوبارہ پاکستان میں داخل ہوگا جس کے باعث لاہور اور پنجاب کے بیشتر اضلاع میں بارش کا امکان ہے۔
لاہور میں کم سے کم درجہ حرارت 9 اور زیادہ سے زیادہ 18 ڈگری رہنے کا امکان ہے۔ اس سے قبل ملک میں داخل ہونے والا مغربی نظام لاہور سمیت پنجاب کے بیشتر علاقوں سے بغیر بارش کے گزر گیا تھا۔
مزید پڑھیں:اسلام آباد ایکسپریس بڑے حادثے سے بال بال بچ گئی
