Search
Close this search box.
هفته ,06 جون ,2026ء

امریکا نے ورک ویزا دینے کا نیا طریقہ متعارف کرا دیا

اسلام آباد(اوصاف نیوز)امریکا نے H-1B ورک ویزا لاٹری سسٹم کو ختم کرتے ہوئے ایک نیا ویٹڈ (Weighted) سسٹم متعارف کرایا ہے، جس کے تحت زیادہ ہنر مند اور زیادہ تنخواہ پانے والے غیر ملکی ورکرز کو ترجیح دی جائے گی۔ یہ نیا قانون 27 فروری 2026 سے نافذ ہوگا، اور 2027 کے مالی سال سے 85 ہزار H-1B ویزے اسی نئے طریقے سے تقسیم کیے جائیں گے۔

نیا سسٹم: تنخواہ اور مہارت کی بنیاد پر تقسیم

امریکی محکمہ داخلہ (DHS) کے مطابق، نئے سسٹم میں H-1B ویزوں کی الاٹمنٹ کا معیار زیادہ تنخواہ اور مہارت ہو گا، جس کے باعث انٹری لیول پروفیشنلز کے لیے امریکا میں کام حاصل کرنا مزید مشکل ہو جائے گا۔

یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروس (USCIS) کے ترجمان میتھیو ٹریگیسر نے کہا کہ موجودہ لاٹری سسٹم کو بعض امریکی کمپنیوں نے غلط استعمال کیا، خاص طور پر وہ کمپنیاں جو کم اجرت پر غیر ملکی ورکرز لانا چاہتی تھیں۔

بھارتی ورکرز پر اثرات

H-1B ویزا پروگرام امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں غیر ملکی ورکرز کی بھرتی کا اہم ذریعہ ہے، اور اس میں بھارتی آئی ٹی ماہرین اور ڈاکٹرز کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ ماہرین کے مطابق نئے قوانین سے کم تجربہ رکھنے والے بھارتی پروفیشنلز کے لیے مواقع محدود ہو جائیں گے۔

تنقید اور حمایت

H-1B ویزا پروگرام کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ نظام امریکہ میں صحت، تعلیم اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں مہارت کی کمی پوری کرتا ہے۔ تاہم، ناقدین کے مطابق، یہ ویزے اکثر کم تنخواہ والی جونیئر اسامیوں کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں، جس سے امریکی ورکرز متاثر ہوتے ہیں۔
مزید پڑھیں:کیا سونے کی بڑھتی قیمتوں کو بریک لگے گی؟ماہرین نے بتادیا

یہ بھی پڑھیں